چھوٹا دماغ اور بڑا مسئلہ
کابل یونیورسٹی کے کینٹین میں طالبات کی موجودگی میں چائے پی اور خوبصورت افغان لڑکیوں کو دیکھ کر حیران بھی ہوا جو مجھے انگریز لگی تھیں۔ مجھے ابھی بھی یاد ہے اس وقت کی کابل یونیورسٹی کو دیکھ کر میرے دل میں شدید خواہش ہوئی تھی کہ یہاں آکر پڑھا جائے، واپس آکر جب ابا سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ پہلے یہاں کی تعلیم تو مکمل کرلو پھر دیکھا جائے گا۔
اس وقت افغانستان میں سعودی، یمنی اور مصری مسلمان نہیں آئے تھے۔ اس وقت وہاں لڑکیوں کو کوڑے نہیں لگتے تھے، ان کے سر نہیں قلم کیے جارہے تھے اور نہ ان کے اسکولوں کو تباہ وبرباد کیا جارہا تھا۔ بادشاہت ضرور تھی، غربت بھی موجود تھی مگر لگتا تھا کہ قوم کسی رخ پر سفر کررہی ہے۔ ترقی کا سفر، اعتماد کا سفر اورسب سے بڑھ کر یہ کہ برداشت کا سفر۔ کابل میں مسلمان، ہندو، سکھ، یہودی، پارسی سب ہی رہ رہے تھے امن و امان کے ساتھ، خوشی خوشی، نہ قتل نہ غارت گری۔ وہ ایک مختلف افغانستان۔ افغانستان کو کسی کی بہت بری نظر لگی تھی۔
مجھے کوئٹہ میں بہت سے کام تھے۔ محکمہ تعلیم کے سیکریٹری سے ملنا تھا۔ کوئٹہ کے دو اسکولوں کے پرنسپل سے ملاقات کرنی تھی۔ کوئٹہ کے لڑکوں اور لڑکیوں کے کالج کی لائبریری کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے محکمہ تعلیم کو ایک خطیر رقم دی گئی تھی جس سے نئی لائبریری بنائی گئی اور ہزاروں کتابیں خریدی گئیں تھیں۔ انہیں دیکھ کر اس کی بھی رپورٹنگ کرنا تھی۔ یہ سارے کام دو دن میں کرکے مجھے خضدار اور گوادر جانا تھا وہاں بھی اسی قسم کے کام تھے۔
میں ہمیشہ خاموشی سے آتا اور سیرینا ہوٹل میں رک جاتا تھا۔ ہوٹل کے باہر سے ہی دن بھر کے لئے ٹیکسی مل جاتی۔ جس کے ڈرائیور راستوں سے آشنا ہوتے اور کم ازکم وقت میں زیادہ تر جگہوں کا دورہ مکمل ہوجاتا تھا۔ ساتھ ساتھ ان سے گپیں لگاتے ہوئے، بہت سی باتوں کا بھی پتہ لگتا۔ گوکہ محکمہ تعلیم و صحت کے افسران کہتے کہ میں سرکاری گاڑی منگوالیا کروں جو میرے دورے کے دوران میرے ساتھ ہی رہے گی مگر میں ہمیشہ اپنے ہی طریقے کو اپناتا تھا۔ سرکاری لوگوں سے مدد لینے کا مطلب یہ بھی ہے کہ سرکاری لوگوں کے ناجائز کاموں میں بھی ان کی ہم نوائی کی جائے۔ ہمارے کام میں اس کی گنجائش نہیں تھی۔
اس دن بھی سیرینا ہوٹل کے باہر مجھے ٹیکسی مل گئی۔ عبدالحق ڈرائیور تھا۔ اس نے مجھے بڑے تپاک سے ٹیکسی میں بٹھایا۔ میں نے اسے بتایا کہ مجھے شام تک ٹیکسی درکار ہوگی جس کے میں اسے دو ہزار روپے دوں گا زیادہ تر وقت اسے انتظار کرنا ہوگا۔ مجھے پہلے بولان میڈیکل کالج کے اسپتال جانا تھا پھرمحکمہ صحت کے سیکریٹری سے ملنا تھا جس کے بعد لڑکیوں اور لڑکوں کے کالج میں رکنا تھا۔ وہ فوراً ہی راضی ہوگیا۔
سیرینا ہوٹل سے بولان میڈیکل کالج اسپتال کا بہت زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔ راستے میں ہی افغان مہاجرین کا کیمپ بھی پڑتا ہے۔ میں نے معمول کے مطابق عبدالحق سے گپ شپ شروع کردی۔ عبدالحق پٹھان تھا اور کوئٹہ سے ہی اس کا تعلق تھا۔ عبدالحق نے بتایا کہ اس کے چھ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ دو بڑے بیٹے افغانستان کے جہاد میں شہید ہوگئے ہیں ایک بیٹا ابھی بھی افغانستان میں ملا عمر کے فوجیوں کے ساتھ لڑرہا ہے جبکہ بقیہ تین بیٹے مدرسوں میں پڑھ رہے ہیں۔
افغانی مہاجروں کے کیمپ کے قریب سے گزرتے ہوئے اس نے مجھے دکھایا اور بتایا کہ سینکڑوں مہاجرین یہاں پر رہ رہے ہیں اور اب نہ جانے کب واپس جائیں گے۔ وہ جنگ کے بارے میں باتیں کرتا رہا تھا کہ باتوں باتوں میں گاڑی بولان میڈیکل کمپلیکس پہنچ گئی۔ میں اسے ٹیکسی میں ہی چھوڑکر اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے ملنے چلا گیا۔
ملاقات میں دیر بھی ہوئی اور مایوسی بھی، جن دس ڈاکٹروں اور دس مڈوائفوں کو ٹریننگ کے لئے بولان میڈیکل کمپلیکس بھیجا گیا تھا اور جنہیں تربیت کے لئے خصوصی الاؤنس بھی دیا گیا ان میں سے آدھوں نے بیسک ہیلتھ یونٹ میں کام کرنے سے انکار کردیا تھا۔ یہ ایک عجیب و غریب صورتحال تھی۔ ملک میں ماؤں کے مرنے کی شرح اموات کم نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی گاؤں دیہاتوں میں نہ ڈاکٹر تھے اور نہ نرس مڈوائف۔ ہماری حکومتوں کو اس مسئلے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی باہر کی حکومتیں مدد کرنا چاہ رہی تھیں تو ان کی دی ہوئی امداد کے ساتھ یہ ہورہا تھا۔ میں بڑی مایوسی کے ساتھ جھنجھلایا ہوا واپس آیا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

