چھوٹا دماغ اور بڑا مسئلہ
عبدالحق میرے چہرے کی جھنجلاہٹ سے سمجھ گیا تھا کہ میں غصے میں ہوں اس نے ہی سوال کیا۔ ”کیا ہوا صاحب کام نہیں ہوا ہے کیا؟“
”نہیں کوئی اس ملک میں کام نہیں کرنا چاہتا ہے صرف پیسہ چاہیے بڑی تنخواہ مگر کام سے کوئی مطلب نہیں ہے عجیب حال ہے نہ جانے کیا ہوگا اس ملک کا۔“ پھر تھوڑی دیر خاموش رہ کر میں نے اس سے پوچھا کہ اس کے تین بیٹے مدرسوں میں ہیں، تو بیٹیاں کیا کررہی ہیں۔ کیا انہوں نے کچھ پڑھا ہے۔
” نہیں صاحب ہم لوگ لڑکیوں کو نہیں پڑھاتے ہیں دونوں کی شادی کردی ہے اور دونوں اپنے شوہروں اور بچوں کے ساتھ خوش گوار زندگی گزار رہی ہیں۔“ اس نے بتایا۔
”ان کے شوہر کیا کرتے ہیں۔“ میں نے سوال کیا۔
”دونوں کراچی چلے گئے ہیں یہاں کے حالات کا کچھ پتہ نہیں ہے کب کیا ہوجائے کسی کو پتہ نہیں ہے وہ لوگ کراچی میں ٹھیک ہیں، خوش ہیں، کام کرتے ہیں، کھاتے ہیں۔“ عبدالحق نے جواب دیا۔ ”اوپر والے کی بڑی مہربانی ہے۔“
”خان صاحب آپ کو پتہ ہے پاکستان میں ہر سال 30 ہزار عورتیں مرجاتی ہیں اور ہزاروں عورتیں صرف اس لئے ناکارہ ہوجاتی ہیں کہ ان کو دیکھنے کے لئے نرسیں اور مڈوائف نہیں ہوتی ہیں ادھر کے ڈاکٹروں اور نرسوں کو ہم نے تربیت دی ہے اب وہ کہتے ہیں کہ کام نہیں کریں گے۔“ میں نے نہ جانے کیوں عبدالحق سے یہ بات کہی۔
عبدالحق سگنل پر گاڑی روکے کچھ سوچ رہا تھا۔
”خان صاحب آپ نے اپنے تینوں بیٹوں کو مدرسے بھیجا ہوا ہے آخر ایک دو کو نرس کیوں نہیں بنایا آج کل تو مردبھی نرس بنتے ہیں یا پھر پیرامیڈیکس کی تعلیم دے دیتے وہ کم ازکم آپ کے افغان مہاجرین کے کیمپ میں ہی کام کرتے کچھ عورتوں کی جان بچا لیتے۔ اگر ہم سب مل کر کام کریں تو ہمارے ملک میں بھی بچے بغیر ماں کے زندگی نہ گزاریں اور نہ ہی مائیں مریں۔“
”نہیں وہ زیادہ ضروری کام کررہے ہیں جہاد کی تیاری کررہے ہیں پھر جہاد لڑیں گے کیونکہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔“ اس نے جواب دیا تھا۔
”خان صاحب جہاد اپنی جگہ پر مگر زندگی کے بھی تو مسائل ہیں پہلے ان کا بھی تو کچھ کرنا چاہیے۔ آپ کے دو بیٹے شہید ہوچکے ہیں ایک بیٹا افغانستان میں لڑرہا ہے اور باقی تینوں کو بھی آپ نے اسی کام میں لگایا ہوا ہے جبکہ نرس اور مڈوائف نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں عورتیں مرجاتی ہیں کیا اچھا ہوتا کہ آپ کا کم ازکم ایک بچہ توان عورتوں کو بچانے کے لئے کچھ کرتا۔ ماؤں کی موت کے خلاف جہاد کرتا۔ ان کی جانیں بچاتا تاکہ بچوں کے سروں پر ماں کا سایہ ہوتا“ میں نے چھوٹی سی تقریر کردی تھی۔
”نہیں وہ زیادہ ضروری کام کررہے ہیں۔ اس وقت ہم سب کا مسئلہ ہے کہ اسلام پھیلایا جائے اور کافروں کا خاتمہ ہو اور اللہ کی مددسے انہیں نیست و نابود کیا جائے۔ ساری دنیا میں یہودی اور عیسائی مسلمانوں کے خلاف جنگ کررہے ہیں اگر ہم یہ جنگ نہیں کریں گے تو ختم ہوجائیں گے“ اس نے جواب دیا۔
”مگر یہ کام بھی ضروری ہے خان صاحب۔ آخر ان عورتوں کو کون بچائے گا، یہ تو کوئی اچھی بات نہیں ہے کہ جوان بچیاں نو عمری میں جان دے دیں اوران کے بچے بغیر ماں کے پلیں، یہ تو کوئی زندگی نہیں ہوتی ہے خان صاحب۔“ میں نے پوچھا۔
”مسلمانوں کو کون بچائے گا؟ تم کو عورتوں کا فکر ہے ادھر ہمارا ایمان خطرے میں ہے گورے لوگ یہودی اور عیسائی ہم کو ختم کررہے ہیں، پوری اُمت کو برباد کرنا چاہتے ہیں، پوری دنیا میں شیطان کے ساتھ مل کر حکومت کرنا چاہتے ہیں اگر ان کو چھوڑدیا تو یہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو ختم کردے گا، ان سے لڑنا ضروری ہے۔“ خان صاحب نے بڑے آرام سے جواب دیا تھا۔
”یہ آپ کی بات صحیح ہے خاں صاحب مگر ہمارے ملک کا بھی تو ایک مسئلہ ہے ہماری عورتوں کو تو نہیں مرنا چاہیے اگر آپ سب لوگ گوروں سے لڑیں گے تو یہاں کا کیا ہوگا۔“ میں نے تقریباً جھنجھلا کر کہا تھا۔
خان صاحب ہنس دیا تھا۔ مجھ پر بھرپور نظر ڈالی اور بولا کہ ”مسئلہ یہ ہے کہ آپ کا دماغ بہت چُوٹا ہے زیادہ سوچتا نہیں ہے میں دنیا کا سوچتا ہوں آپ پاکستان کا سوچتے ہو۔ مجھے سارے مسلمانوں کا فکر ہے۔ آپ کو صرف عوروتوں کا فکر ہے۔ مجھے اسلام ختم ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ آپ کو پاکستان کے چند ہزارعورتوں کا خیال ہے میں پوری دنیا میں مسلمانوں کو مرتا دیکھ رہا ہوں۔ آپ کو صرف پاکستان میں مائیں مرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ بہت چُوٹا خیالات ہے آپ کا اور بہت چُوٹا دماغ ہے آپ کا۔ آپ کو ہمارا بات سمجھ میں نہیں آئے گا۔“
میں حیرت سے اس کے چہرے کودیکھتا رہ گیا تھا۔

