ڈرامے میں شرک کی ایک نئی قسم کی دریافت


یہ پہلا موقع ہے کہ میں کسی ایک ڈرامے کے حوالے سے دوسری مرتبہ کچھ لکھ رہی ہوں۔ یہ ڈراما ”میرے پا س تم ہو“ ہر ہفتے کی رات ٹویٹر کے ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہوتا ہے۔

ڈراما نگار نے کسی سائنسدان یا تحقیق دان کی مانند شرک کی ایک نئی قسم دریافت کی ہے۔ ڈرامے کی کہانی میں مہوش نامی ہیروئن اپنے شوہر کے نکاح میں ہوتے ہوئے ایک غیر مرد (شہوار) کے ساتھ وقت گزارتی ہے (وقت گزارنے کا مطلب قارئین خود ہی سمجھ لیں ) ۔ پھر شوہر سے طلاق لے کر اسی کے ساتھ چلی جاتی ہے اور عدت کی مدت گزارے بغیر اس کے ساتھ رہتی ہے۔ لیکن شہوار اسے شرعی اور قانونی تعلق یعنی نکاح کے بغیر ہی ساتھ رکھتا ہے۔

خدا خدا کر کے نکاح پر راضی ہوتا ہے مگر سو فیصد فلمی انداز میں عین وقت پر اس کی پہلی بیوی چھاپہ مارتی ہے اور نکاح رک جاتا ہے۔ اب مہوش تہی دست و تہی دامن شرمندگی و پشیمانی کے ساتھ اپنے سابقہ شوہر سے معافی مانگنا چاہتی ہے۔ اس کے دوست بھی چاہتے ہیں کہ اسے معاف کر دیا جائے۔ تب سابقہ شوہر، جسے وہ چھوڑ کر گئی تھی، کہتا ہے، ”اسے معاف کر دوں لیکن پھر خدا یاد آ جاتا ہے۔ شرک تو خدا کو بھی پسند نہیں۔ “

یہ آخری جملہ مجھ سمیت کئی لوگوں کے لئے الجھن کا باعث ہے جو ٹویٹر اور فیس بک پر اس کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک شخص کے نکاح میں رہتے ہوئے دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے میں شرک کا ارتکاب کیسے ہو گیا؟

شرک کا تو واضح اور واحد مطلب ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی کو لائقِ عبادت سمجھنا اور اس کی عبادت کرنا۔ یعنی صرف اور صرف اللہ کی ذات ایسی ہے جس کے حوالے سے شرک ممکن ہے۔ توحید اور وحدانیت کا تصور بھی صرف اللہ ہی کی ذات سے منسوب ہے۔

اگر ڈرامہ نگار، اداکار، اور ہدایت کار یہ توجیہہ پیش کریں کہ شوہر کا رتبہ ”مجازی خدا“ کا ہوتا ہے، تب بھی غلط کا م کا ارتکاب کرنے پر بیوی کو شرک کی مرتکب قرار دے دینا درست نہیں۔ نکاح کا مطلب شوہر پر ایمان لانا اور اس کی عبادت کرنا ہرگز نہیں۔ شوہر کو کوئی ایسا د رجہ اسلام میں نہیں دیا گیا۔ مرد اگر خود کو بیوی کا خدا سمجھ بیٹھا ہو تو اس کی جہالت اور کم عقلی پر افسوس کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے؟ حیرت ہے کہ ٹی وی چینل کے سنسر ڈیپارٹمنٹ نے شرک جیسے اس قدر حساس موضوع پر لکھے گئے مکالمات کو بلاجھجک ڈرامے میں کیوں شامل ہونے دیا۔ اگر انتہائی نوعیت کے الفاظ استعمال کریں تو یہ دینی احکامات کا مذاق اور تماشا بنانے سے کم نہیں۔ اور ایسا کرنے والے یقینا بدبخت ہیں۔

جب شرک اور توحید دونوں تصورات کا تعلق صرف اللہ کی ذات سے ہے تو پھر بیوی کے غلط تعلقات کو شرک کا نام دینا چہ معنی دارد؟ جب اسلام میں بیوی کے غیر مرد سے تعلق کو شرک قرار نہیں دیا گیا تو ڈراما نگار اور اداکار کون ہوتے ہیں ایسی جاہلانہ بات کرنے والے؟ کیا ایسا مرد خدا کی ہمسری کا دعویدار نہیں (نعوذ باللہ) ؟ اور اگر ہے تو ایسے ڈائیلاگ لکھنے والے اور بولنے والے کے لئے کیا قانون ہونا چاہیے، اس پر قارئین ضرور اپنی رائے دیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “ڈرامے میں شرک کی ایک نئی قسم کی دریافت

  • 01/01/2020 at 11:04 صبح
    Permalink

    جناب رضوانہ شیخ صاحبہ۔۔۔۔۔ پلیزہر بات میں عقیدے کو مت زحمت دیا کریں۔ شرک کا سیدھا سادھا مطلب شراکت داری ہے اور ڈرامے کا کردار اس لفظ سےیہ واضح کرنا چاہ رہا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو دوسرے مرد کی شراکت میں کیسے اپنائے۔

    سکھی رہیں۔۔۔۔۔

Comments are closed.