ڈاکٹر مبارک علی کا جشنِ اعتراف خدمات


کراچی آرٹ کو نسل کی طرف سے ڈاکٹر مبارک کی تاریخی ادبی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایک ادبی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس پروگرام میں نمایاں طور پر اعلٰی ادبی قد کاٹھ رکھنے والی شخصیات بھی موجود تھیں۔ ان میں سرفہرست آئی اے رحمان، ڈاکٹر ہارون، ڈاکٹر طارق، اسلم گورداسپوری، شاہ محمد مری اور میر حاصل بزنجو تھے۔ اتنی شاندار ادبی تقریب کو دیکھ کر اور جان کرخوشی ہوئی کہ ہمارے اس روایتی اور گھٹن والے ماحول میں بھی کچھ ایسے روشن دماغ بستے ہیں جو اپنے حقیقی دانشوروں کی ادبی خدمات کا اعتراف کر کے ان کے نمایاں کاموں سے آج کی بالغ نسل کو مستفید کر رہے ہیں۔

ہم لوگ بھی بڑے مزے کے ہیں زندگی میں کسی بھی بڑی شخصیت کو کوئی کریڈٹ نہیں دیتے اور مرنے کے بعد اسی شخصیت کو (رحمتہ اللہ علیہ) کا لاحقہ لگا کر دیوتا بنا دیتے ہیں۔ آرٹ کو نسل کا یہ دلیرانہ فیصلہ لائق تحسین ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر مبارک علی کی زندگی میں اور ان کی موجودگی میں یہ شاندار تقریب منعقد کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر مبارک جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کی یہ بد نصیبی ہے کہ وہ ایک ایسے بنجر سماج میں پیدا ہوگئے جہاں کی آب و ہوا اس قسم کے اعلٰی اذہان کے لیے موزوں نہیں ہے۔

یہاں پر تو سرکاری دانشوروں کی بھرمار ہے جبکہ عوامی دانشوروں کو تو ہم صرف انگلیوں پر ہی شمار کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مبارک ایک ایسے عوامی دانشور ہیں کہ جنہوں نے تاریخ جیسے خشک مضمون کی آبیاری کر کے اپنی ہزاروں اردو اور انگلش میں لکھی گئی تصانیف کی صورت میں گھر گھر پہنچا دیا۔ اس وقت ہمارے قرب و جوار میں شاید ہی کوئی گھر یا لائبریری بچی ہوکہ جہاں ان کی کتاب نہ پہنچی ہو وگرنہ یہ ہر جگہ پہنچ چکی ہیں۔ میری نظر میں ڈاکٹر مبارک علی کا اپنی زندگی میں ہی اتنا مقبول ہو جانا ان کے لیے کافی ہے۔

ڈاکٹر صاحب چونکہ عوامی مقرر نہیں ہیں اور ہم نے کبھی انہیں اپنی یو نیورسٹیوں اور کالجوں میں گھسنے ہی نہیں دیا کہ کہیں ہماری نوجوان نسل کو صحیح تاریخ کا پتہ نہ لگ جائے اور وہ شعوری طور پر بگڑ کر خراب نہ ہو جائے۔ اسی بات کو ملحوظ ِخاطر رکھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے خاموشی سے درجنوں کتابیں لکھ ڈالیں اور لاکھوں طالبانِ علم کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ بے شما طلباء و طالبات جو ملک کے مختلف حصوں میں رہتے ہیں وہ ڈاکٹر صاحب کی تصانیف کی وجہ سے ان کے قلبی اور قلمی شاگرد بن چکے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب آپ تو خوش نصیب ہیں کہ اس مردہ پرست سماج میں آپ اپنی زندگی میں ہی شعور کا استعارہ بن کر ابھرے اور لاکھوں لوگوں کے دلوں میں رچ بس کر شعور کا الاؤ روشن کر دیا اور اب آپ بے فکر رہیں یہ شعوری الاؤ اب نہیں بجھے گا۔

بقول ڈاکٹر خالد سہیل

نئی کتاب، مدلل جواب چاہیں گے

ہمارے بچے نیا اب نصاب چاہیں گے

Facebook Comments HS