موسیقی کی نظریاتی تطہیر — نشے سے جادو تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنے دیگر ہم عمر احباب کے مانند اس خادم کا بھی لڑکپن ایسے دور میں گزرا ہے کہ ٹیلی ویژن کی سہولت ملک میں خال خال دستیاب تھی اور جہاں تھی بھی تو ایک ہی سرکاری چینل شام کے چند گھنٹوں تک نشریات دکھاتا تھا۔ غالبا سن اناسی کی بات ہے کہ پی ٹی وی پر ایک پروگرام ”چھوٹے شہر، بڑے مسائل“ کے نام سے آیا کرتا تھا۔ اس میں نشرکار، جسے نجانے کیوں آج کل بحری جہاز کے لنگر یعنی اینکر کا نام دے دیا گیا ہے، کیمرے اور مائیکرو فون کے ہم راہ دیہات و قصبات میں گھومتا تھا جہاں لوگ عوامی شکایات مثلا سڑکوں کی شکست و ریخت، صاف پانی کی کم یابی، نکاسی آب کی خراب صورت حال وغیرہ کی شکایات کرتے تھے۔

یہ وطن عزیز پر مسلط ان ادوار ابتلاء میں ایک تھا جن میں کسی طالع آزما آمر کو یہ سوجھتی ہے کہ وہ ”جعلی“ جمہوریت کا قلع قمح کرکے ”اصلی“ جمہوریت کو گھاس پھونس کی جڑوں تک پہنچانے کا فرض سر انجام دے۔ چنانچہ ایک لولا لنگڑا مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کروایا گیا تھا۔ نجانے کس بزرگ مہر مشیر کو دھیان آیا کہ ایسی عظیم الشان اسلامی نظریاتی مقامی حکومتوں میں چھوٹے شہر تو ہو سکتے ہیں، البتہ ”بڑے مسائل“ کا یہاں کیا کام؟ چنانچہ اگلے ہفتے سے پروگرام کا نام بدل کر ”چھوٹے شہر“ کر دیا گیا۔

اس سے بڑے مسائل تو اپنی جگہ ہی رہے البتہ اب سکرین پر صرف چنیدہ لوگ نمودار ہوتے جو بتاتے کہ جب سے نیا بلدیاتی نظام آیا ہے، راوی، بلکہ ستلج، بیاس اور چناب وغیرہ بھی ہر طرف چین ہی چین لکھتے ہیں، شیر بکری ایک گھاٹ پر پانی پی رہے ہیں، اور ”اپنے خرچ پر ہیں قید، لوگ تیرے راج میں“ ، وغیرہ۔ اس عمل کا، جسے آج کل کی اصطلاح میں ”مثبت رپورٹنگ“ کہا جاتا ہے، دائرہ کار صرف خبروں اور حالات حاضرہ تک محدود نہ تھا بلکہ فنونِ لطیفہ کی نظریاتی تطہیر بھی اس کی نگاہ التفات میں اہم مقام رکھتی تھی۔ چنانچہ ٹی وی ڈراموں میں کوئی اداکارہ اگر نیند سے اٹھتی بھی دکھائی جاتی تو سر دوپٹے میں ڈھکا ہوا ملتا۔

جب مثبت رپورٹنگ اور نظریاتی تطہیر خبروں اور ڈراموں کو فاسد اثرات سے پاک کر رہی تھی، تو موسیقی بھلا کیسے اس کی دست بُرد سے بچ رہتی؟ چنانچہ نئے گیتوں میں رندی و سرمستی کے مضامین تو سرے سے غائب ہو گئے اور محبت وغیرہ جیسی فضول باتوں کے تذکرے کو بھی مبہم اشاروں تک محدود کردیا گیا۔ ایک مصیبت البتہ موجود رہی اور وہ کہ ماضی کے مقبول گیتوں میں تو ایسے فاسد مضامین اور الفاظ کی بھرمار تھی۔ خیر یہاں بھی ہمارے ارباب اقتدار اور ان کے نفس ہائے ناطقہ نے اپنی سی کوشش ضرور کی۔

بنگالی نژاد پاکستانی گلوکار عالمگیر کو کون نہیں جانتا؟ غیر کلاسیکی گائیکی کے پاکستان میں بنیاد گر اگر احمد رشدی تھے تو اسے بامِ عروج تک پہنچانے والوں میں عالمگیر اور ایرانی نژاد محمد علی شہکی کے نام سرِ فہرست ہیں۔ ستر کی دہائی میں عالمگیر کا گایا ہوا ایک گیت ”دیکھا نہ تھا“ ریڈیو اور ٹی وی کے توسط سے پاکستان کے بچے بچے کی زبان پر ہوا کرتا تھا۔ اسے پہلی بار، بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کے دور میں عالمگیر نے ایک غالبا ایرانی گلوکارہ نازی افشار کے ساتھ مل کر گایا اس کا یو ٹیوب لنک پیش خدمت ہے۔

دھن مزے دار تھی اور الفاظ سادہ، سو مقبول عام ہوگیا۔ اس میں ایک سطر تھی کہ ”ایسا نشہ، تیرے پیار نے دیا، سوچا نہ تھا“ ۔ اچانک کسی صاحب رائے کو خیال آیا کہ ایک تو اسلامی نظریاتی مملکت میں مردوں اور عورتوں کا مل کر گانا اور اچھل کود کرنا معیوب ہے، دوسرے جب کہ حکومت انسداد منشیات کا اس قدر بلند آہنگ ڈھول پیٹ رہی ہے، ٹی وی پر ”نشے“ کا ذکر درست نہیں ہے۔ لہذا ایک تو گانا دوبارہ ریکارڈ کیا گیا جس میں اکیلے عالمگیر صاحب گاتے اور اچھل کود کرتے دکھائی دیتے ہیں، دوسرے لفظ ”نشہ“ کو ”جادو“ سے بدل دیا گیا۔ حالانکہ یہ فیصلہ کرنے والے صاحب اس لوک کہاوت سے ناواقف نہیں رہے ہوں گے کہ ”جادو برحق ہے، کرنے والا کافر ہے“ ۔ بہر کیف، صاحبان اقتدار کی مرضی ہے کہ نشے کے گناہ کو ترجیح دیں یا جادو کے کُفر کو۔ اس ”مثبت“ شکل میں گانا کچھ یوں بنا:

گزشتہ اختتام ہفتہ پر یہ خادم دمشق میں اکیلا تھا اور کچھ موسمی اثرات کے زیرِ اثر بیمار بھی۔ سوشل میڈیا پر دیکھا کہ عالمگیر صاحب، جو اب کینیڈا کے شہری بن چکے ہیں، ”فیس بک لائیو“ کر رہے ہیں اور اپنے مداحان کی فرمائش پر اپنے مشہور گانوں کی کچھ سطریں گنگنا رہے ہیں۔ اس دوران کسی مداح نے پوچھا کہ کیا ان کا گانا ”دیکھا نہ تھا“ ، کسی ترکی گانے کی نقل ہے؟ . انہوں نے بتایا کہ انہیں علم نہیں ہے۔ فیس بک لائیو تو ختم ہو گیا لیکن اس خادم کو چیٹک لگ گئی۔ اور تو کوئی طریقہ سمجھ نہیں آیا، برطانیہ میں مقیم ایک پرانے ترک دوست کو یو ٹیوب لنک بھیجا کہ آیا یہ دُھن مانوس معلوم ہوتی ہے؟ وہ فورا پہچان گئے اور ایک ترکی گانے ”سیو کاردیشم“ یعنی ”پیارے بھائی“ کا لنک بھیج دیا جو ترک گلوکارہ شینے یُوزباش اوغلو نے ستر کی دہائی کی ابتدا میں گایا تھا۔

انٹر نیٹ کو ذرا سا اور ٹٹولا تو پتا چلا کہ ترک برادران اسلام نے بھی اس دُھن کی خوشہ چینی کے لیے اپنے دیرینہ دوست اسرائیل کا انتخاب کیا ہے جہاں ساٹھ کی دہائی کے آخر میں پولش نژاد یہودی گلوکارہ حنہ ڈریسلر-ضاخ عرف ”عیلانت“ نے ”ویشو اِت خیم“ یعنی ”پھر تمہارے ساتھ“ گا کر دھوم مچادی تھی۔

اس خادم کی اردو کی قابلیت واجبی ہے اور ترکی اور عبرانی کا علم ”رفت گیا، اور بود تھا“ سے آگے نہیں جاتا، لیکن اٹکل سے تینوں گیتوں کی جتنی سمجھ آئی، معنوی اعتبار سے بھلے لگے۔ دُھن تو خیر ہے ہی دل پذیر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *