ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر سے ایک انٹرویو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خلیل الرحمان قمر کا شمار پاکستان کے قابل ذکر ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے، ان کا تحریر کردہ ڈراموں نے مقبولیت کے ریکاڈر توڑے ہیں، بوٹا فرام ٹوبہ ٹیک سنگھ، لنڈا بازار، صدقہ تمہارے، پیارے افضل اس بے تحاشا مقبولیت اس بات کی واضح دلیل ہے، انہوں فلموں کے اسکرپٹ بھی لکھے ہیں، جس میں قرض، کوئی تجھ سا کہاں، پنجاب نہیں جاؤنگی اور کاف کنگنا شامل ہیں۔

آج کل خلیل الرحمان قمر کا تحریر کردہ ڈرامہ میرے پاس تم ہو، زبان زد عام ہے۔ اس سیریل نے ناظرین کو اپنے ساتھ انگیج کیا ہوا ہے، جہاں یہ سیریل خواتین و حضرات میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، وہاں یہ سیریل اپنے چند مکالموں اور کانسپٹ کی وجہ سے اپنے رائٹر پر سوالیہ نشان بھی کھڑا کر رہا ہے۔ ڈرامہ میں بولے گئے دو ٹکے کی لڑکی کے الفاظ پر کچھ خواتین نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

ہم سب ویب سائٹ نے مشہور ڈرامہ نگار کے ساتھ ایک نشست رکھی، جو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔

ہم سب: میرے پاس تم ہو جتنا مقبول ہوا ہے، کیا آپ کو اس سیریل کی اس قدر مقبولیت کا اندازہ تھا؟

خلیل الرحمان قمر: میں اللہ کا جتنا شکر بھیجو کم ہے، رب کی عطا کا مکمل اندازہ تھا، یہ مقبولیت اللہ کی مہربانی ہے، جو لازوال ہے۔

ہم سب: خلیل الرحمان قمر کے نزدیک عورت کیا ہے؟

خلیل الرحمان قمر: عورت اللہ کی بہترین اور خوبصورت تخلیق ہے اور بہت قابل احترام ہے، عورت سکونِ قلب، پیکر وفا، سکھ دکھ کی ساتھی ہے، عورت اوس کے بوندوں کی طرح چنچل اور پاکیزہ ہوتی ہے۔ عورت پھولوں کی خوشبو جیسی ہے جس کے دلکش رنگوں اور خوشبو سے کائنات مہک رہی ہے، عورت چاند کی چاندنی ہے، عورت پانی کے بلبلے جیسی نرم ونازک بھی ہے، عورت کو دل سے سمجھنا چاہو تو آسان کھلی کتاب ہے ورنہ پہیلی اور سمندر جیسی گہری ہے۔

ہم سب: کچھ خواتین کو آپ کی اس تحرپر پر بہت سے تحفظات بھی ہیں۔

خلیل الرحمان قمر: میں اس کی پرواہ نہیں کرتا ہوں، چند فیمنسٹ ٹائپ کی خواتین نے ستیاناس کیا ہوا ہے جسے میں جاہلیت کہتا ہوں۔

ہم سب: وفا نبھانا کیا صرف عورت کی ذمے داری ہے؟

خلیل الرحمان قمر: عورت وفا کا پیکر ہے، سراپا محبت ہے، وفا عورت کی ذمے داری نہیں بلکہ شناخت ہے، یاد رہے شادی شدہ بے وفا مرد گھر برباد کرتا ہے مگر شادی شدہ بے وفا عورت، نسل برباد کرتی ہے۔

ہم سب: عورت اگر بے وفائی کرئے تو دوٹکے کی، مرد اگر بے وفائی کرئے تو؟

خلیل الرحمان قمر: اس مرد کی کوئی اوقات نہیں جو عورت کے ساتھ بے وفائی کرئے میرے نزدیک بے وفا عورت کی قمیت تو دو ٹکے کی ہے جبکہ بے وفا مرد کا تو میں ایک ٹکا بھی نہیں لگاتا ہوں، اسے کسی گنتی میں ہی شمار نہیں کرتا ہوں، میں ہمیشہ کہتا ہوں، اچھا مَرد اچھی عورت سے اچھا نہیں ہوتا۔

ہم سب: کیا روتی سسکتی عورت ہی باوفا ہوتی ہے اور اگر کوئی اپنا حق طلب کرئے کیا وہ باوفا اور باکردار نہیں ہے؟

خلیل الرحمان قمر: کون سا حق؟ خواتین کو اپنے حق کے متعلق آگاہی ہی نہیں ہے، فیمسٹ کے نام پر اپنا مذاق بنوا رہی ہیں۔

میں ان خواتین سے کہتا ہوں جو مرد کو بھیڑیا، درندہ یا غلیظ گالیاں دیتی ہیں آئیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں، آپ مکمل دلائل سے مجھ زیر کرسکتی ہیں، گالیوں سے مجھے ہراساں نہیں جاسکتا ہے۔ میں مانتا ہوں سوسائٹی میں کچھ مرد خراب ہیں مگر مکمل مرد ذات کو مورد الزام گرداننا بھی تو مناسب نہیں ہے، وہ جو بھیڑیا ہوتے ہیں اُن کو ہم بھی بھیڑیا کہتے ہیں لیکن آپ مکمل مرد ذات کو جنرلائیز نہیں کر سکتی ہیں۔

ہم سب: بطور انسان اور قلمکار آپ جذبہ محبت کو کیسا محسوس کرتے ہیں؟

خلیل الرحمان قمر: محبت کا جذبہ وفا اور سچائی سے مزین ہے، جس کی مقدار برابری سطح پر ہوتی ہے اگر محبت کے جذبے میں سچائی اور وفا نہیں تو وہ محبت ہرگز بھی نہیں ہے، محبت ریاضی کے اصولوں کی پیروکار ہوتی ہے، پہلے جمع یعنی یکجا یا متحد کرتی ہے اور پھر حاصل جمع کو ضرب دیتی چلی جاتی ہے اور یوں ایک لا متناہی سلسلے کا آغاز ہوجاتا ہے جسے فنا نہیں ہے، محبت میں تقسیم سے مراد بانٹنا ہے محبوب کے سامنے اپنی انا اور خود داری کو ختم کرکے اس کی رضا میں ڈھل جانا ہے ہی اصل محبت ہے۔

: ہم سب: کیا محبت پانے کا نام ہے؟

خلیل الرحمان قمر: بالکل، سو فیصد یہ بات درست ہے کہ محبت حصول کا ہی نام ہے۔ اب حصول کا مقصد دو دلوں کا ملاپ نہیں ہے۔ آپ نے جذبہ محبت کو حاصل کرلیا یہ ہی درحقیقت پانے کا نام ہے کسی کے ملنے یا بچھڑنے سے محبت کے جذبے کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔

ہم سب : آپ کے تحریر کردہ ڈائیلاگ دل میں اتر جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہ ہنر کہاں سے سیکھا؟

خلیل الرحمان قمر: کہیں سے نہیں، یہ سب اللہ، رب العزت کی دین ہے۔ میں پروردگار کی عطا پر اس کا شکر گزار ہوں۔

ہم سب: آپ بہت صاف گو ہیں، اس عادت کے تحت آپ نے کن فوائد یا نقصانات کا سامنا کیا؟

خلیل الرحمان قمر: الحمد اللہ میں صاف گو ہوں جس کا مجھے کوئی نقصان نہیں ہے البتہ فائدہ یہ ہے کہ مجھے سچا اور کھرا سمجھ کر اچھے لوگ ہی ملتے ہیں۔

ہم سب : کس شخصیت نے آپ کو بہت متاثر کیا ہے؟

خلیل الرحمان قمر: میرے استاد اور ماموں نے۔

ہم سب : آپ کا پسندیدہ شاعر اور شعر؟

خلیل الرحمان قمر: استاد جون ایلیا جیسے پائے کا شاعر تاحال دنیا میں نہیں آیا ہے، ان ہی کا ایک شعر سنا دیتا ہوں،

آپ آئے ہیں مجھ سے ملنے،

بیٹھیں بلا کر لاتا ہوں۔

ہم سب : تنہائی میں سب سے زیادہ کسے یاد کرتے ہیں؟

خلیل الرحمان قمر: یہ نہیں بتا سکتا ہوں۔

ہم سب : آپ کی پسندیدہ کتاب؟

خلیل الرحمان قمر: کوئی کتاب بھی میری پسندیدہ نہیں ہے، میری شخصیت خود ایک بڑی کتاب ہے۔

ہم سب : اپنے ڈرامے کا کوئی بے حد پسندیدہ مکالمہ؟

خلیل الرحمان قمر: میں جو کچھ لکھتا ہوں وہ اللہ کی عطا ہے، جس کا میں بے حد شکر گزار ہوں، میرے تحریر کردہ مکالموں میں میرا کوئی کردار نہیں ہے یہ تو اللہ کی جانب سے آمد کا سلسلہ ہے، جس کے لئے اللہ نے مجھے چنا ہے، بس رب کی کرم نوازی ہے۔ جہاں تک بات ہے میرے پسندیدہ مکالمے کی تو مجھے، میرے پاس تم ہو کا مکالمہ، عورت فطرتا بے وفا نہیں ہوتی اور جو فطرتا بے وفا ہو وہ عورت نہیں ہوتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *