دوزخ نامہ: مرزا بنام منٹو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوں بیان کیا گیا ہے کہ آسمانوں میں فرشتے ایک الوہی واقعے کے استقبال کی تیاریاں کر رہے تھے کہ کچھ سُن گُن پا کر ابلیس نے ادھر کا قصد کرنا چاہا تو اس کا راستہ روکنے کے لیے فرشتوں نے نور اور آگ کے گولے اس کی طرف برسائے جنھیں دنیا والے شہابِ ثاقب کے نام سے جاننے لگے۔ اس طرح مرزاغالب اور سعادت حسن منٹو کی آپس کی گفتگو کی کن سوئیاں لینے کے لیے، دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے والا ناول نگار ادھر کا ارادہ باندھ رہا ہوگا کہ اس کے روکنے کے لیے غالب اور منٹو نے نور کے گولے اس کی طرف پھینکے ہوں گے۔ انھی میں سے ایک آگ اور نور کا گولہ ”دوزخ نامہ“ کہلانے والا ناول بن گیا، جس کے ماتھے پر لکھا ہے یہ کہاں سے آیا، کس نے بھیجا۔ مصنف ربی سنکر بال، مترجم انعام ندیم۔

آگ اور نور کا ہم رنگ یہ ناول شہابِ ثاقب سے کم نہیں۔ اور جیسے شہابِ ثاقب اپنے پیچھے روشنی کی لکیر چھوڑجاتا ہے پھر دنیا والے اسے اہم واقعہ گردانتے ہوئے آنے والے دنوں کا قیاس کرنے لگتے ہیں، اسی طرح میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اردو میں ڈھل کر یہ ایک اہم تخلیقی واقعے کی صورت میں نمودار ہوا ہے، اپنے ساتھ گزرے زمانے کا ذائقہ اور آنے والے زمانوں کا شگون لیے ہوئے۔

اس ستم ظریفی کے انوکھے پن پر اصرار مجھے اس لیے بھی کرنا پڑ رہا ہے کہ اس عالمِ رنگ و بو سے رُخصت ہو جانے والے مشاہیر کے نام پر نامہ بری کے دعوے کے ساتھ ٹھٹھول، ابتذال، پھکڑ پن اور سیاسی لطیفے جوڑ دینے کی ایک سستی سی عام پسند صورت کے ہم اس درجہ عادی ہوتے جا رہے ہیں (یا بنائے جا رہے ہیں) کہ یہ انتباہ ضروری معلوم ہوتا ہے! ایسے لوگوں کے لیے لازم ہے کہ اس ناول سے احتیاط برتیں۔ مرحومین یا مشاہرین سے مکالمے کو ایک اور امکان کی طرف لے جاتا ہے یہ ناول۔

 عجیب اس لیے لگا کہ پڑھنے کو اٹھایا تو بے تابی سے ورق پلٹتا گیا اور پڑھ لیا تو یوں معلوم ہوا، یہ سب تو پہلے ہی پڑھ چکا ہوں۔ کتنے بہت سے پرانے مطالعات کو زندہ کر دیتا ہے یہ ناول۔ یہ ان سب سے زیادہ عجیب کتابوں میں سے ایک ہے جس کے پڑھنے کا مجھے اتفاق ہوا ہے اور ذرا بھی تعجب نہیں کہ اس میں غالب موجود ہیں اور منٹو بھی۔

ایک زبان سے دوسری زبان اور پھر دوسری سے تیسری زبان کی مشکلات اپنی جگہ، لیکن اس سب کے باوجود پوری کتاب ایسی کیفیت کی حامل ہے، جیسے یہ ناول اپنی اصیل اور فطری زبان میں ظہورپذیرہوا ہے، جو زبان اس کے تاروپود میں اس طر ح پیوستہ ہے کہ کرداروں سے بڑھ کر کردار اور واقعات سے بڑھ کر واقعہ بننے لگتی ہے، کرداروں کو متعین اور حدود کی پابندی سے آزاد کرنے والی زبان اور واقعات میں زمان و مکان کا استدلال فراہم کرتی ہوئی زبان، ایک اَن دیکھی اور نا محسوس حقیقت کی طرح اس ناول کے رگ و ریشے میں سمائی ہوئی ہے۔ اردوزبان میں یہ ناول پڑھتے ہوئے یہ احساس بھی مشکل ہے کہ کسی اور زبان میں لکھے جانے کی وجہ سے اس کے اندر نامانوس کیفیت ہوگی اور اس کی وجہ سے ایک فاصلہ یا تکلّف آجائے گا اور اب اس کی جگہ اس میں ایسا بے ساختہ پن پیدا ہو گیا ہے کہ پڑھنے والا بے تکلّف کہہ سکتا ہے کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔

لیکن اب اس کو ترجمہ کہتے ہوئے میں ہچکچا رہا ہوں۔ کیسا ترجمہ اور کہاں کا ترجمہ؟ سرقہ تو پرانے شعراء نے کیا تھا جنھوں نے وہ مضامین چرا لیے جو میرے نام سے رکھے گئے تھے، غالب نے تاویل پیش کی تھی۔ غالب کی سنّت پر عمل پیرا ہو کرمیں یہ کہہ دوں کہ اصل میں یہ ناول اُردو میں لکھا گیا تھا اور آسمانوں پر لوحِ غیر محفوظ سے ربی سنکر بال نے اُڑا لیا، جیسے نسیمِ بہار زلف کی خوشبو چوری کرلیتی ہے، ترجمہ تو وہ تھا جو دوسری زبانوں میں شامل ہوا اور اصل ناول اب سامنے آرہا ہے۔

 ترجمے کی کامیابی میرے نزدیک یہ نہیں کہ وہ ترجمہ معلوم نہ ہو اور میں محمد حسن عسکری کے مطابق ترجمے سے اخفائے حال کا قائل نہ ہوتے ہوئے کسی قدرترجمہ پن کوعیب نہیں سمجھتا کہ ایسے ترجمے کے ذریعے زبان میں بیانیے کی ایک نئی طرز کا امکان بہرحال اُجاگر ہوتا ہے۔ اس ترجمے کی چند ایسی خصوصیات کا ذکر مناسب ہوگا لیکن اس کتاب سے جوں ہی دو چار ہو جائیں، اس کے موضوع کی دلکشی یعنی اس کا مرکز بننے والی دو شخصیات پہلے اپنے رنگ جما لیتی ہیں، یعنی منٹو اور غالب، یہاں تک کہ باقی ساری باتیں اگردھیان میں آتی ہیں تو اس کے بعد۔ شاید اس موضوع کا فطری تقاضا بھی یہی تھا اور ماننے کی بات یہ ہے کہ اس موضوع کو ہاتھ لگانے کے بعد ناول نگار نے اس تقاضے کو بڑی نکتہ رسی کے ساتھ پورا کیا ہے۔

ناول کا بنیادی premise یا مفروضہ یہ ہے کہ غالب اور منٹو محوِ کلام ہیں اور اس گفتگو کا محلِ وقوع عالمِ بالا میں جہنّم کا طبقہ ہے۔ ہر دو کی سوانحی تفصیلات سے عبارت یہ مفروضہ ایک طُرفہ افسانوی اور ثقافتی واقعہ ہے۔ ان دونوں منفرد شخصیات کو ان کے اپنے زمان و مکان سمیت اُٹھا کر ایک دوسرے کے مقابل رکھتا ہوا یہ بیانیہ آگے چل کر چاہے جتنا بھی قرینِ قیاس معلوم ہونے لگے، پہلے پہل تو یکدم ششدر کردیتا ہے —ارے، یہ کیسے ہو گیا؟ ہمیں اس کی خبرکیوں نہ ہوئی؟ ایسی چنگاری بھی اپنے خاکستر میں تھی؟ پچھلا مطالعہ جیسے قلم کی جنبش سے وسیع تر ہونے لگتا ہے۔ ایک نئی سمت میں بڑھنے لگتا ہے۔ منٹوکے ذریعے سے غالب اور غالب کے ذریعے سے منٹو، اضافہ شدہ نئی تعبیر میں سامنے آتے ہیں۔ دونوں کے معنی فزوں تر ہونے لگتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے اور کسی قدرشرمندگی بھی کہ اس درجے مناسب معلوم ہونے والا تعلق، اس سے پہلے دھیان میں یہ بات کیوں نہیں آئی؟ اس امکان کو تخلیقی اُپج رکھنے والے ناول نگار نے پہچان لیا اور اسے activate کیا اور یوں ایک نئی حقیقت کو مستحکم کردیا جو اس سے پہلے تصوّر کا درجہ بھی نہیں رکھتی تھی۔

غالب کا اس ناول میں موجود ہونا پہلی اور بنیادی حقیقت ہے۔ اس کے بعد یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ یہاں دکھائی دینے والے غالب کیسے ہیں، اور کیا منٹو بھی ایسے ہی تھے جس طرح ان صفحات میں نظر آتے ہیں؟ غالب یہاں جس انداز سے بھی نظرآئیں، بڑی بات یہ ہے کہ وہ کردار بن کر بول اٹھتے ہیں۔ کم وبیش یہی بات منٹو کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ غالب اس امکان سے بھی گریزاں نہیں کہ جس کی سمجھ میں آئے، وہ ناول کے غالب کو اصل غالب سے ملا کر دیکھ لے۔

Rabisankar Bal

غالب کے بارے میں ہم اس دور کے باقی تمام شعراء کی بہ نسبت زیادہ جانتے ہیں۔ اس کا اہتمام خودغالب نے کر رکھا تھا کہ ان کے شخصی رویّے ان کے خطوط میں واضح نظر آتے ہیں اور ہمیں زندگی کی معمولی تفصیلات اور بہت سے معاملات کے بارے میں ان کا نقطہ نظر معلوم ہوجاتا ہے۔ اردو کے باقی اکثر شعراء کے برخلاف غالب ایک ایسی شخصیت ہیں جس کے خدوخال ہمیں واضح نظر آتے ہیں۔ بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمیں غالب باضابطہ طورپر ایک شخصیت بنتے ہوئے نظر آتے ہیں — ’یادگارِ غالب‘ کے صفحات پر۔ ’آبِ حیات‘ میں آزاد کی معجزبیانی اپنی جگہ، حالی نے غالب کو کردار بنا کر مستقبل کے ناول نگار کا کام آسان کر دیا۔ حالی کے صفحات میں وہ جیتے جاگتے، ہنستے روتے اور زندگی کے عمل سے گزرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

غالبِ زندہ کی ایک جھلک دیکھنے دِکھانے کے اِس احساس کے باوجود ہم یہ بھول نہیں سکتے کہ ہم غالب شناسی کے اس جھوٹے دور میں سانس لے رہے ہیں جب عام آدمی کے لیے غالب بڑی حد تک وہ سیلولائیڈ کے پُتلے، ہدایت کار گلزار اور اداکار نصیرالدین شاہ والے غالب سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ کالی داس گپتا رضا جیسا باریک بین محقق سیلولائیڈ کے اس پیکر پر اعتراضات کی بوچھار کر دیتا ہے لیکن مرکزی دھارے، مقبولِ عام کلچر میں وہ اس فرضی اور مصنوعی غالب کو بے دخل نہیں کرسکتا۔

فلم کے یہ نقلی غالب اصل شاعر کی جگہ لینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ظاہر ہے کہ ربی سنکربال کی کاوش اس سے کہیں زیادہ تخلیقی قوّت کی آئینہ بر دار ہے۔ اس کتاب میں غالب اصل کے دعوے دار سے بڑھ کر پورے کے پورے افسانوی کردار ہیں، اپنی ہستی کے بجائے بیانیے کی رسوم و قیود کے پابند۔ اپنے اس کاغذی روپ میں بھی وہ دُھن کے پکّے ہیں، ایک اور معنی میں حرفوں کے بنے ہوئے! ان کا کردار اپنی منطق پر پورا اُترتا ہے۔ کم وبیش یہی بات منٹو کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ بہت سلیقے سے دوسروں کا مونڈن کرنے والا منٹو یہاں کردارمیں ڈھل جاتا ہے۔ اسے سر جھکانا پڑتا ہے اور نہ بات نیچی کرنا پڑتی ہے۔ غالب جیسی پیچ دار اور کثیرالجہت شخصیت کو کردار میں ڈھال لینا ناول نگار کی کامیابی کی اساس ہے۔ پھرغالب کے ساتھ منٹو یعنی دوآتشہ۔

غالب کے ساتھ منٹو کا مکالمہ قائم کر دینا ناول نگار کے کارنامے کی ایک اور جہت ہے۔ انیس ویں صدی کے دہلی میں رہنے والے شاعر اور بیس ویں صدی کے بمبئی، لاہور میں گزر بسر کرنے والے سعادت حسن منٹو، اپنے زمان و مکان کی حدود کے پروردہ اور نمائندہ، اپنی اپنی جگہ iconic حیثیت کے مالک ہیں اور بڑی مضبوطی کے ساتھ اپنے مقام پر قائم و دائم ہیں کہ انھیں ذراسی جنبش نہیں دی جا سکتی۔ لیکن ربی سنکربال ان دونوں کو جگہ سے بے جگہ کرتا ہے، پھر ان کے مقام کا احساس دلاتا ہے۔

اپنی شعری کائنات میں غالب تو غالب ہیں —اپنی انگلیوں کی پوروں تک غالب، اپنے انفس و آفاق میں کامل، لیکن یہاں غالب اپنے ہونے کے ساتھ منٹو کے مطالعے والے غالب بھی ہیں۔ جیسے منٹونے انھیں پڑھا، منٹو کا تشکیل کردہ غالب، کتاب کے صفحوں سے نکل کر اس پرانے غالب میں شامل ہوجاتا ہے جس کا کبھی گوشت پوست کا وجود رہا ہوگا۔ اسی طرح منٹو بھی قبائے ساز کتر کر غالب کے اندازے کے مطابق اپنا جامہ ہستی تیار کرتا ہے، وہ منٹو جو غالب کے سامنے زبان کھول سکے، اپنی تمام زندگی کو غالب کے سامنے Apologia Pro Vita Sua کے طورپر پیش کر دے، وہی منٹو جس کے بارے میں اس کے معاصرین کہتے تھے کہ ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتا، وہی منٹو غالب کے سامنے اور اقِ ہستی ایک ایک کرکے ترتیب کے ساتھ رکھ رہا ہے، زندگی کے تمام تر درد سے عبارت۔ دونوں کردار ایک دوسرے کے لیے آئینہ فراہم کرتے ہیں، ایک آئینے کے سامنے دوسرا آئینہ، پہلے آئینے میں دوسرے کا عکس، اور دوسرے میں پہلے کا عکس درعکس۔

انعام ندیم

ربی سنکربال کو اس بات کا کریڈٹ بھی ملنا چاہیے کہ اس کے صفحات میں غالب نہ منٹو، دنیا سے کٹے ہوئے isolated اشخاص نہیں ہیں۔ اپنے زمانے سے وابستہ و پیوستہ ہونے کے ساتھ غالب میں سبک ہندی کا ہلکا سا پرتو نظر آتا ہے جس سے ردّوقبول نے غالب کی شعری شخصیت کو متعین کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ احساس خفیف سا ہے۔ ربی سنکربال کے لیے اس حد تک ہی ممکن تھا ورنہ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ سبک ہندی کو ہم نے کون سا قابلِ اعتنا سمجھا ہے؟

یہ تمام انداز اور اس کے ممتاز شعراء مجرمانہ غفلت کا شکار رہے ہیں۔ اسی طرح کہیں کہیں بیدل کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ مگر بیدل پورے ناول کے متقاضی ہیں۔ اسی طرح منٹوکے کردارکی تشکیل کرتے ہوئے معاصر افسانہ نگاروں کے متحرک سائے بھی نظر آتے ہیں، جن سے الجھنا منٹو کو پسند تھا۔ یوں غالب اور منٹو اپنے سیاق کے ساتھ نظر آتے ہیں۔

ترجمے کی اس کاوش کو انعام ندیم نے بڑی خوبی سے نبھایا ہے۔ انعام ندیم سخن فہم بھی ہیں اور غالب کے طرفدار بھی۔ وہ خوش گفتار شاعر ہیں اور وہ بھی ایسے کہ پہلے مجموعے پر شمس الرحمن فاروقی سے داد حاصل کی جسے فی زمانہ سند سمجھنا چاہیے، اور شاعری کے ساتھ ساتھ افسانے سے بھی خاص شغف رکھتے ہیں۔ کئی اچھے افسانے اردو میں منتقل کر چکے ہیں جس میں گردیال سنگھ کے پنجابی ناول ’مڑھی دا دیوا‘ کو میری نظر میں خاص اہمیت حاصل ہے۔

اس ناول کی اشاعت کو اہم تخلیقی واقعہ قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا موضوع ہمارے جہان معنی کو نئے زاویے سے دیکھ رہا ہے، دکھا رہا ہے اور اس کے ذریعے سے ایک نئی جہت اردو کے ادبی دھارے میں شامل ہوئی ہے جو اس میں مضمر تھی، جس کا خمیر یہیں سے اٹھا تھا مگر اسی شکل میں موجود نہ تھی اور اس ترجمے کے ذریعے سے آشکار ہوئی ہے۔ یہ ترجمہ تخلیقی واقعہ اس طرح بنتا ہے کہ انعام ندیم نے محض ترجمہ کرنے پر اکتفا نہیں کِیا حالانکہ اگر وہ ایسا کرلیتے تب بھی کتاب اپنی جگہ اہم ہوتی۔

انھوں نے اپنے طریق کار کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ترجمہ کرتے وقت ان متون کو تلاش کیا جن کا حوالہ دیا گیا تھا، انھیں سعی و تلاش کے بعد ناول کے متن میں دوبارہ جاری کیا، چند ایک واقعاتی غلطیوں کی نشان دہی بھی کی ہے۔ حالانکہ ناول میں واقعاتی غلطی کیا ہو سکتی ہے، اس لیے کہ یہ میر کے الفاظ میں، دنیا کی طرح وہم کا کارخانہ ہے، ساری عمارت مفروضوں پر قائم ہے مگر معاملہ غالب اور منٹو کا ہے اس لیے تسامحات کی نشان دہی لازمی تھی۔

غیر معتبر راوی کی طرح غیر معتبر ناول نگار اعتبار کے درجے پر نہیں پہنچتا۔ ادبی سچ کیا ہے، اس سوال سے آگے بڑھ کر فاضل مترجم نے ترجمے کی عبارت کو اس اصل سے جوڑا ہے جو پہلے سے کہیں موجود تھا، کسی لوح پر درج تھا۔ یوں ترجمے سے سوا، یہ اس ادبی سچ کی بازیافت کی کامیاب کوشش ہے جو تاریخ پر مبنی ہونے کے باوجود تاریخ سے ماورا ہوتا ہے۔ ربی سنکر بال کا افسانوی متن یہاں اپنی اصل زبان سے رجوع کر لیتا ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ اس ناول کی زبان نہیں تھی۔

ہم ایسے ادب کے طالبِ علم پراحسان ہے یہ ترجمہ اور یہ اس ناول کو بھی فزوں تر بنادیتا ہے، اس اضافے کے بعد یہ اردو کے ادبی دھارے میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔ یوں اسے اضافے یا تصحیح سے زیادہ restoration سمجھا جا سکتا ہے۔ اس ترجمے کی کامیابی یہ ہے کہ یہ اصل کتاب معلوم ہوتا ہے، وہ کتاب جو اردو میں منتقل کیے جانے کے لیے کسی اور زبان میں لکھی گئی اور اب اپنی اصل شکل میں واپس آ گئی ہے، ایک نئی فتح مندی سے سرشار اور ایک نئے سفر پر روانہ ہونے کے لیے کمربستہ۔

 ایسا سفرجس میں مرزاغالب اور سعادت حسن منٹو کی رفاقت نصیب ہو سکتی ہے۔ اب یہ گلشنِ نوآفریدہ ہے جس کے عندلیب غالب ہیں اور زمزمہ سرا سعادت حسن منٹو۔ اردو ادب کا کوئی طالب علم اس رغبت انگیز بلاوے سے بھلا کیسے انکار کر سکتا ہے؟ غالب اور منٹو، دونوں کے باطنِ ہم دیگر سے ورقِ ناخواندہ پر کیا نقش اُبھر آئے ہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply