دہشتگردی کا چیلنج ابھی باقی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سال 2019ء کے دوران پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں مزید کمی ہوئی اور اس وجہ سے جانی نقصان بھی کم ہوا۔ اگرچہ اس کی ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ دہشتگرد عناصر کی عملی صلاحیتیں کمزور ہوگئی ہیں تاہم دہشتگردی کے خلاف جنگ ابھی بھی جاری ہے۔ دہشتگرد عناصر تتر بتر تو ہوگئے ہیں تاہم ابھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور سماج میں وقوع پذیرانتہاپسندانہ افکار تاحال ان کے لیے انسانی، مالی اور نظریاتی کمک کا باعث ہیں۔اسلام آباد میں موجود تھنک ٹینک پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے اکٹھے کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں امسال دہشتگرد حملوں میں گزشتہ سال 2018ء کی نسبت 11 فیصد کمی ہوئی اور اسی طرح امسال دہشتگرد عناصر کے حملوں میں مارے جانے والے افراد کی تعداد گزشتہ سال کی نسبت 40 فیصد کم رہی۔

اعداد و شمار ملاحظہ کئے جائیں تو سال 2009ء سے ہی دہشتگرد حملوں میں بتدریج کمی واقع ہورہی ہے۔ اعداد وشمار یہ بھی بتاتے ہیں گزشتہ چند برسوں کے دوران تشدد کے اکثر واقعات بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاقوں میں پیش آئے جبکہ دیگر خطوں میں ایسے حملوں کی تعداد کم رہی۔ البتہ ایک جانب اگر صوبہ بلوچستان میں رواں سال دہشتگردی کے واقعات میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی تو دریں اثناء صوبہ خیبرپختونخوا میں اسی قدر دہشتگرد حملے ہوئے جس قدر گزشتہ سال ہوئے تھے۔

ان دو صوبوں میں دہشتگردی کے واقعات بہت زیادہ تھے کیونکہ ملک بھر میں ہونے وا لے دہشتگرد حملوں کا 91 فیصد انہی دو صوبوں میں وقوع پذیر ہوا۔ صوبہ بلوچستان میں 84 جبکہ خیبرپختونخواہ میں دہشتگرد ی کے 125 واقعات ریکارڈ کئے گئے۔رواں سال نام نہاد مذہب پسند مسلح گروہ جیسا کہ تحریک طالبان پاکستان، اس کے ملحقہ گروہ حزب الاحرار اور جماعت الاحراراور انہی رجحانات کی حامل دیگر مسلح جماعتیں مثلاََمقامی طالبان، لشکر اسلام اور نام نہاد دولت اسلامیہ وغیرہ کی جانب سے 158 حملے کئے گئے جبکہ قوم پرست مسلح تنظیموں جن میں زیادہ تعداد بلوچستان میں برسرپیکار بلوچ قوم پرست تنظیموں کی ہے، کی جانب سے 57 حملے ریکارڈ کئے گئے۔

جبکہ رواں سال فرقہ وارانہ دہشتگرد حملوں کی تعداد 14 رہی۔اسلام آباد میں موجود تھنک ٹینک پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے اکٹھے کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں امسال دہشتگرد حملوں میں گزشتہ سال 2018ء کی نسبت 11 فیصد کمی ہوئییہ تمام رجحانات اور اعداد و شمار بیا ن کرتے ہیں کہ دہشتگردی ابھی تک ختم نہیں ہوئی لیکن عسکریت پسندی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کا بیانیہ قومی میڈیا اور عوامی و پالیسی ساز سطح پہ دور دور تک نظر نہیں آتا۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب ادارے و افراد اس بیانیے پہ یقین کرچکے ہیں کہ ہم نے دہشتگردی اور مسلح عسکریت پسندی کو مکمل شکست دے دی ہے اور خیبر پختونخوا اور سابقہ قبائلی علاقوں سمیت ملک بھر میں امن و امان قائم کرلیا ہے۔ حقیقت میں یہ فقط آدھا سچ ہے۔ اگر ان حالات میں لائن آف کنڑول کے پار کسی بھی قسم کی مسلح کارروائی ہوتی تو خطے کی صورتحال یکسر تبدیل ہوسکتی تھی۔ اس کی ایک صورت یہ ہوسکتی تھی کہ بھارت نے ایک بار پھر سرحد پار دہشتگردی کا واویلا مچا دینا تھا اور عالمی حمایت حاصل کرلینا تھی۔

کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی حکومت کے مظالم پر پردہ ڈال دینا تھا اور عالمی دنیا کو مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کی اخلاقی حمایت سے محروم کردینا تھا۔ ایسی صورت میں پاکستان کو درپیش مالی مشکلات میں بھی اضافہ ہونا لازمی تھا کیونکہ پاکستان پہلے ہی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے بلیک لسٹ ہونے سے بچنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔رواں سال خیبرپختونخواہ میں ہونے والی دہشتگردی کی کارروائیوں کا زور ایسے اضلاع میں رہا جو افغان سرحد کے قریب واقع ہیں۔

اب جبکہ پاکستان کی توجہ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی جانب مرکوز ہے، پاکستان میں بر سرپیکار تحریک طالبان کے مسلح جنگجو مغربی سرحد کی جانب کوئی امن دشمن کاروائی انجام دے سکتے تھے تاہم جنگجوؤں کی بکھری ہوئی تنظیمی صورتحال نے انہیں ایسی کسی بھی کوشش میں کامیاب نہیں ہونے دیا اگرچہ انہوں نے افغانستان کی سرحد سے ملحقہ خیبر پختونخواہ کے اضلاع میں ایسی کارروائیوں کی کوششیں ضرور کیں۔ خیبرپختونخواہ میں ہونے والی دہشتگرد کارروائیوں کی وضع اور جغرافیائی ترتیب مشاہدہ کی جائے تو یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ امسال ہونے والی دہشتگردی کی کارروائیوں کا زور ایسے اضلاع میں رہا جو افغان سرحد کے قریب واقع ہیں ان میں باجوڑ، دیر، مہمند اور شمالی وزیرستان شامل ہیں۔

یہ حملے پاکستان میں موجود ان گروہوں کی جانب سے کئے گئے جنہوں نے افغانستان میں پناہ لے رکھی ہے اور انہیں خیبرپختونخواہ کے سرحدی اور دیگر علاقوں میں اپنے معاونین اور مددگاروں کی حمایت حاصل ہے۔دوسری جانب دنیا بھر نام نہاد دولت اسلامیہ کو رواں سال سخت ہزیمت اٹھانی پڑی اگرچہ اس کی جانب سے چند حملے بڑے پیمانے پر کئے گئے جن میں سرفہرست سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر ہوئے بم حملے تھے۔ سال 2018ء میں خود ساختہ دولت اسلامیہ پاکستان بھر میں 5 بڑے حملے کرنے میں کامیاب رہی تھی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اندازہ تھا کہ یہ گروہ سال 2019ء میں بھی اپنی حملہ کرنے کی استعداد برقرار رکھ سکتا ہے۔ پاکستان کا داخلی سطح پہ سیکورٹی منظرنامہ اندرونی و بیرونی ہر دو سطح پر درپیش خطرات کے سبب بہت پیچیدہ ہے۔

داخلی سطح پہ خطرات کا باعث بننے والوں میں نہ صرف سخت گیر مذہبی انتہاپسند فرقہ ورانہ گروہ شامل ہیں بلکہ وہ گروہ بھی اس خطرے کا سبب ہیں جو سماج میں مذہبی طور پر عدم برداشت پھیلاتے ہیں۔ موخر الذکر اس لئے بھی ایک مختلف طرح کا چیلنج دیتے ہیں کہ ایسے گروہ اپنے مددگاروں کے ذریعے بڑی سطح پہ ایسی صورتحال پیدا کردیتے ہیں جس کے سبب نہ صرف ملکی معیشت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے اور ملکی شبیہہ عالمی سطح پہ داغدار ہوجاتی ہے۔ اب جبکہ ملک 2020ء میں داخل ہورہا ہے ہماری حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ابھی تک بھی ایسے گروہوں سے نمٹنے کے لئے ایک موثر ردعمل اور صلاحیتوں کے مظاہرے سے قاصر نظر آتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *