کیا تحریک انصاف کی خاتون رہنما عمران خان کو کتاب لکھ کر سارے رازفاش کرنے کی دھمکی دے رہی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف کی رہنما اور غیر ملکی میڈیا سربراہ انیلہ خواجہ اور غیر ملکی صحافی سینیتیا ڈی رچی کے درمیان سوشل میڈیا پر ہونے والی تکرار تیزی کے ساتھ وائر ل ہو رہی ہے۔ فرط جذبات میں آ کر غیر ملکی صحافی نے بڑے بڑے ’’راز‘‘ بھی افشا کرنے شروع کر دیے ہیں۔ اس لڑائی کے دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کی خاتون رہنما نے عمران خان کو کتاب لکھ کر سارے راز کھول دینے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

یہ تکرار دراصل ایک نیو ایئر پارٹی سے متعلق شروع ہوئی جس میں انیلہ خواجہ بن بلائے پہنچ گئی اس پر غیرملکی صحافی سینیتیا ڈی رچی اور پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی میڈیا سربراہ انیلہ خواجہ میں تکرار ہوگئی۔

انیلہ خواجہ نے نئے سال کے جشن سے متعلق ایک ٹویٹ میں کہا کہ’ نیوایئر ایوننگ کے موقع پر پاکستانی خاموش تماشبین کی طرح کھڑے تھے کہ ایک غیر ملکی نے اپنے ہم وطنوں کے ساتھ ملکرہماری تمام اقدار، وقار اور میزبانی کی تمام روایات توڑدیں اور بدسلوکی سے پیش آئیں، ہم متحد ہونا اور ایک دوسرے کا احترام کرنا کب سیکھیں گے؟‘

انیلہ کے اس ٹویٹ پر ایک غیر ملکی خاتون صحافی نے ردعمل دیا۔ انہوں نے انیلہ کو مخاطب کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’آپ اور دیگر دو لوگ بغیر کسی دعوت کے میری نجی پارٹی میں آئے۔ میں اپنے مہمانوں کی ذمہ دار ہوں اور آپ ان میں شامل نہیں تھیں، کیوں؟ کیونکہ اس کی وجہ آپ کا جذباتی رویہ ہے جو سالوں سے آپ نے اپنایا ہوا ہے۔ بغیر دعوت کے کہیں جانا نامناسب ہے، کچھ اخلاقیات سیکھ لیں۔ خود ہی اپنا خیال کرلیں۔ ہماری پارٹی ہمارے رولز‘۔

رچی نے مزید لکھا کہ ’انیلہ خواجہ میں اکیلی غیر ملکی شخصیت نہیں تھی وہاں، اپنا مقام مت بھولو۔ میں جانتی ہوں کہ آپ کیسی شخصیت ہو، آپ عمران خان کو دھمکی دے رہی ہیں کہ اگر سب آپ کی مرضی کے مطابق نہ ہوا تو عمران خان سے متعلق تمام راز فاش کرنے والی کتاب شائع کردو گی۔ اس کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔‘

غیر ملکی صحافی نے مزید لکھا کہ ’انیلہ واٹس ایپ فورمز پر دعویٰ کر رہی ہیں کہ میں نے ایک اور گیسٹ کو بن بلایا مہمان قراردیا ہے۔ وہ مہمان بھی دیگر تمام مہمانوں کی طرح آرایس وی پی ، نام اور قومیتیں بتانے کاپابند تھا۔اور وہ بھی مہمانوں کی فہرست میں شامل نہیں تھا‘تحریک انصاف کے فارن میڈیا کی سربراہ ایک بار پھر مسائل پیدا کررہی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *