جانور راج: کوئی بھی جانور زیادہ شراب نہیں پیئے گا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(جارج آرویل؛مترجم آمنہ مفتی)

لشتم پشتم وہ احاطے میں پہنچے۔ باکسر کی لات کی کھال میں گھسے چھروں سے دردناک ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ وہ اپنے سامنے، پون چکی کو بنیادوں سے تعمیر کرنے کی کڑی مشقت دیکھ رہا تھا اور خیالوں میں خود کو اس کام کے لئے تیار کر رہا تھا۔ مگر پہلی بار اس پہ یہ کھل رہا تھا کہ وہ گیارہ برس کا ہو چکا تھا اور اب اس کے مضبوط پٹھے وہ نہیں رہے تھے جو کبھی ہوا کرتے تھے۔

مگر جب جانوروں نے سبز پرچم لہراتے دیکھا اور پھر سے بندوق داغنے کی آواز سنی، کل سات بار وہ داغی گئی اور نپولین کی تقریر سنی جس میں انہیں ان کے کیے کی مبارک باد دی گئی تھی، انہیں لگا کہ بہر حال انہیں بڑی فتح ملی ہے۔ جنگ میں مارے جانے والے جانوروں کو اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔ باکسر اور کلوور وہ چھکڑا کھینچ رہے تھے جو بطور میت گاڑی استعمال کیا گیا اور نپولین بنفسِ نفیس، جنازے کے ساتھ چل رہا تھا۔ کامل دو روز تقریبات کی نذر کیے گئے۔ ترانے گائے گئے، تقریریں کی گئیں اور مزید کئی بار بندوق داغی گئی، اور ہر جانور کو ایک ایک سیب، اور ہر پرندے کو چھٹانک چھٹانک بھر مکئی، اور ہر کتے کو تین تین بسکٹ بطور انعام دیے گئے۔ یہ اعلان کیا گیا کہ اس جنگ کو ”جنگِ پون چکی“ کا نام دیا جائے گا اور یہ کہ نپولین نے ایک نیا تمغہ نکالا ہے، ”فخرِ ہری جھنڈی“ جو کہ اس نے خود کو خود ہی دیا۔ اس ہماہمی میں (جعلی) بنک نوٹوں کا سانحہ فراموش ہو گیا۔

یہ کچھ روز بعد کا واقعہ ہے کہ سؤروں کو رہائشی عمارت کے تہہ خانے میں وہسکی کی ایک پیٹی ملی۔ جب پہلے پہل مکان پہ قبضہ کیا گیا تو یہ کہیں نظر سے اوجھل رہا۔ اس رات، رہائشی عمارت سے گانے کی اونچی آواز آتی رہی جس میں سب کو چونکانے کو ’وحوشِ انگلستان‘ کی کچھ لے اور آہنگ ملا جلا تھا۔ تقریباً ساڑھے نو بجے کے قریب، نپولین کو جانی صاحب کی ایک پرانی دوپلی ٹوپی پہنے پچھلے دروازے سے نکلتے اور احاطے میں ہنومان کی چال چلتے اور پھر سے اندر غائب ہوتے دیکھا گیا۔ مگر سویرے، مکان پہ ایک گہرا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ ایک سؤر بھی ہلا تک نہیں۔ تقریباً نو بجے ہوں گے کہ چیخم چاخ نمو دار ہوا، بے زار اور سستی سے چلتے ہوئے، اس کی آنکھیں بجھی ہوئی تھیں اور پونچھ پیچھے بس لٹک رہی تھی اور ہر ہر ادا سے بیماری عیاں تھی۔ اس نے سب جانوروں کو اکٹھا کیا اور بتایا کہ اس کے پاس سنانے کو ایک خوفناک خبر ہے۔ کامریڈ نپولین مر رہا تھا!

سارے میں آہ و بکا پھیل گئی۔ مکان کے دروازوں کے باہر پیال بچھائی جانے لگی اور جانور دبے پاؤں چلا کیے ۔ آنسو بھری آنکھوں سے انہوں نے ایک دوسرے سے پوچھا کہ اگر ان کا رہنما ان سے بچھڑ گیا تو وہ کیا کریں گے؟ ایک افواہ یہ اڑی کہ سنوبال آخر کار، نپولین کے کھانے میں زہر ڈالنے میں کامیا ب ہو گیا ہے۔ گیارہ بجے چیخم چاخ ایک اور اعلان کرنے کو باہر آیا۔ دنیا میں اپنے آخری عمل کے طور پہ کامریڈ نپولین نے ایک حکم جاری کیا تھا کہ الکوحل پینے کی سزا موت ہو گی۔

مگر شام تک، نپولین کچھ بہتر نظر آنے لگا اور اگلی صبح چیخم چاخ، یہ کہہ پایا کہ وہ اب روبہ صحت ہے۔ اس روز شام تک نپولین واپس کام پہ آ گیا اور اگلے دن یہ معلوم ہوا کہ اس نے جناب نوید مسرت کو ڈھپئی سے شراب کشید کرنے اور تقطیر کرنے کے بارے میں کچھ کتابچے خریدنے کی ہدایت کی ہے۔ ایک ہفتے بعد، نپولین نے حکم دیا کہ پھلوں کے باغ سے پرے کی چھوٹی چراگاہ پہ، جو کہ بوڑھے جانوروں کے لئے چھوڑ دینے کی غرض سے رہنے دی گئی تھی، ہل پھروا دیا جائے۔ یہ کہا گیا کہ چراگاہ خراب ہو گئی تھی اور دوبارہ سے بوئی جانی ضروری تھی؛ مگر جلد ہی یہ معلوم ہو گیا کہ نپولین وہاں جو بونے کا خواہش مند تھا۔

اسی وقت ایک عجیب واقعہ پیش آیا جسے کوئی بھی، مشکل سے ہی سمجھا۔ ایک رات قریباً بارہ بجے صحن میں زور کا دھماکا سنائی دیا، اور جانور اپنے اپنے تھانوں سے نکل کر بھاگے۔ چاندنی رات تھی۔ بڑے گودام کی اخیری دیوار کی جڑ میں جس پہ سات نکات لکھے ہوئے تھے، ایک سیڑھی دو ٹکڑے ہوئی پڑی تھی۔ چیخم چاخ وقتی طور پہ مفلوج اس کے قریب چاروں شانے چت پڑا تھا اور اس کے قریب ایک لالٹین، ایک مؤ قلم، اور سفید روغن کا ایک ڈبہ اوندھا پڑا تھا۔ کتوں نے فوراً ہی چیخم چاخ کے گرد حفاظتی گھیرا ڈالا او رجوں ہی وہ چلنے کی قابل ہوا، اسے مکان کی طرف لے گئے۔ کوئی بھی جانور اندازہ نہ لگا سکا کہ اس کا کیا مطلب تھا، سوائے بوڑھے بنجامن کے، جس نے اپنی تھوتھنی بہت کچھ جاننے والے انداز میں ہلائی گویا وہ سمجھ گیا مگر وہ کچھ نہیں بتائے گا۔

پر کچھ ہی دنوں کے بعد، میوریل، نے سات نکات پڑھتے ہوئے پتا لگایا کہ ان میں ایک اور ایسا نکتہ ہے جو جانوروں کو غلط یاد تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ پانچواں نکتہ یہ ہے کہ ”کوئی جانور شراب نہیں پیئے گا“ مگر وہاں ایک لفظ تھا جو وہ بھو ل گئے تھے۔ اصل میں نکتہ کچھ یوں تھا کہ ”کوئی بھی جانور زیادہ شراب نہیں پیئے گا“۔

اس سیریز کے دیگر حصےجانور راج: پون چکی کی تباہیجانور راج: خوراک کی راشن بندی
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *