خاتون صحافی، اور عورت کی مظلومیت کا راگ


\"zeffer05\"

تحریر بعنوان ”خاتون صحافی کا صحافت کا منہ پر تمانچا“ شائع ہوئی، تو اس طرح کے اعتراضات ہوئے، کہ کیا میں عورتوں پہ تشدد کی حمایت کر رہا ہوں؟ پتا نہیں کیوں، یہ تحریر لکھتے مجھے شبہہ سا تھا، کہ خواتین کی مظلومیت کا رونا رونے والے، اس طرح کا ردعمل ضرور دیں گے۔ یہاں میں نے ”خواتین کی مظلومیت کا رونا رونے والے“ دانستہ لکھا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت سے بہتر سلوک نہیں ہوتا؛ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ یہاں تک ہم متفق ہیں۔ اس کے بعد اختلاف پیدا ہوتا ہے، تو اس بات پہ کہ ہر واقعہ، یا سانحہ جس میں عورت کا نام آ جائے، اسے عورت کی مظلومیت کے طور پر پینٹ کیا جاتا ہے۔ صحافی کو ایف سی اہل کار کا تھپڑ مارنا، مرد کا عورت کوتھپڑ مارنے سے جوڑا گیا۔ ایک حد تک یہ بات درست ہے، لیکن اس خاتون کی جگہ کوئی مرد صحافی ہوتا، تو اس کا انجام اس سے بھی بدتر ہونا تھا۔ بھرپور بدتمیزی کے جواب میں، صرف ایک تھپڑ وصول کرنا عورت ہونے کی وجہ ہی سے ممکن ہوا۔

عورت پہ ہاتھ اٹھانا شرم ناک عمل ہے، ایف سی اہل کار کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ بل کہ عورت ہی کیوں؟ اس عورت کی جگہ مرد صحافی ہوتا، تو اس کی بدتمیزی کا جواب بھی تھپڑ نہیں تھا؛ ہم قیاس کر سکتے ہیں، کہ ایف سی اہل کار قانون جانتا ہے؛ اسے قانون کے مطابق کارروائی کرنا چاہیے تھی۔ تھپڑ جڑنا اپنے اختیار سے تجاوز کرنا ہے؛ ایسے ہی جیسے اس صحافی نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا۔ اس پر یہ کہ صحافی (چاہے وہ خاتون ہے) کے غلط عمل کو عین حق قرار دینا، فرض کی راہ کی مجاہد، یا عورت کی مظلومیت بنا کر پیش کرنا؛ یہ بات میری سمجھ سے بالا ہے۔ میرا موقف تھا، کہ صحافی اپنی ذمہ داریوں سے تجاوز کرتا ہے، تو اس کے پیشے کی بدنامی ہوتی ہے۔ صحافی مرد بھی ہے، اور عورت بھی۔ کون جانتا ہے، کہ گزشتہ چار پانچ برس ہی میں، کتنے پاکستانی صحافی اپنے فرض کی ادائی میں اپنی جان سے گئے؟ کتنے ایسے صحافی ہیں، جو ”نامعلوم“ ہوئے؟ اُن میں سے کتنے مرد، اور کتنی عورتیں تھیں؟ اسے مرد کی مظلومیت بنا کر نہیں پیش کیا جاتا، بل کہ صحافیوں پر ہونے والا ظلم کہا جاتا ہے۔ اسے رہنے دیجیے، کہ صحافیوں پہ جبر کی کہانی الگ ہے۔

جب ہم کوئی مکالمہ کرتے ہیں، تو اس کی بنیاد کچھ اصولوں، کچھ ضابطوں، یا قوانین کے دائروں میں‌ رہ کر ہوتی ہے۔ چند لوگوں کا یہ کہنا ہے، چوں کہ ایف سی اہل کار فوج کا ذیلی ادارہ ہے، تو اس لیے ”صحافی“ اور وہ بھی خاتون؛ اس کی حمایت نہیں ہو رہی، جیسا کہ ہونی چاہیے۔ یہ بھی ٹسوے بہانے والی بات ہے۔ صحافی سیاست دانوں، سرکاری اداروں کے اہل کاروں کی بدعنوانی، بے ضابطگیوں کا تذکرہ کریں، ان کی خرابیوں کی نشان دہی کریں، تو ٹھیک ہے؛ لیکن خود یہ صحافی غلطی کریں، تو مظلومیت کی چادر اوڑھ لیں، یہ کون سا اصول ہے؟ فرض کر لیتے ہیں، کہ وہ خاتون صحافی نہیں، صرف ایک عورت ہیں، اور ایف سی اہل کار سے یوں الجھیں، کہ تمھارے گھر مائیں نہیں، بیٹیاں نہیں، تو کیا اُن خاتون سے بھی یہ سوال کیا جا سکتا ہے، کیا آپ کے گھر بھائی نہیں، باپ نہیں، شوہر نہیں؟

کل ہی کی بات ہے، کہ موٹر وے پولِس اور ملٹری کے جوانوں کے بیچ میں تصادم ہوا۔ ہم نے ان جوانوں پر تنقید کی، جنھوں نے موٹر وے کے اہل کاروں پر مبینہ طور پر تشدد کیا۔ یہ اس لیے کہ رپورٹ کے مطابق موٹر وے پولِس اہل کار مرد تھے، یا عورت؟ جی نہیں! اس لیے کہ ہمیں اطلاع ہوئی، کہ ایک قانون پہ عمل درآمد کروا رہا تھا، دوسرا قانون شکنی کا مرتکب ہوا۔ کہا جاتا ہے، کہ قانون سب کے لیے ایک سا ہونا چاہیے۔ جب آپ اپنی غلطی پر بات نہ کرنے دیں، اور کہیں کہ میرے ساتھ یہ سلوک اس لیے ہوا، کہ میں میرا شمار مظلوم فرقے سے ہے، یا ہم محب وطن گروہ سے ہیں؛ ہماری یہ قربانیاں ہیں، وہ قربانیاں ہیں، تو ایسے رونے سے بات گھمائی جا سکتی ہے، لیکن سچ اور جھوٹ ایک نہیں ہوتا۔

ایک واقعہ رونما ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں، کہ اس واقعے میں کس کی کوتاہی تھی، جو نقصان ہوا۔ اسے مرد عورت کے فریم میں جوڑ کر پرکھنا، یا صحافی، اور سپاہی کے شعبوں کی سابق کارکردگی کا رِکارڈ دیکھتے تجزیہ کرنا، یا فیصلہ سنانا، یہ ظلم کا ساتھ دینے والی بات ہے۔ واقعے کو کسی ”اصول“ پہ جانچا جائے گا۔ اگر واقعے کی ذمہ دار عورت ہے، تو اسی پر انگلی اٹھائی جانی چاہیے؛ اگر مرد کا قصور ہے، تو اسے سزا ملنی چاہیے۔ دونوں گناہ گار ہیں، تو دونوں کو اپنے اپنے کیے کا جواب دہ ہونا ہے۔ اصول یہ نہیں ہے، کہ امیر کی کار سے کسی غریب کی ٹکر ہو، تو قصور کار والے کا ہوتا ہے۔ یہ اصول بھی نہیں، کہ عورت اور مرد آمنے سامنے ہوں، تو مرد دوشی ہے۔ یہ بھی نہیں ہے، کہ میری فاطمہ، اور کسی کی فاطمہ میں فرق کرنا چاہیے۔ میں اور آپ کسی بھی واقعے پر اپنا تجزیہ دے سکتے ہیں۔ اس کے لیے، اور اس سے پہلے حقائق کی کھوج کرنا ہوگی۔ پھر بھی یہ تجزیہ، تجزیہ ہی کہلائے گا؛ برا تجزیہ یا بہترین تجزیہ، لیکن فیصلہ نہیں۔ یا یوں کہ لیں، کہ ہم اپنی آنکھوں دیکھے کانوں سنے کی گواہی دے سکتے ہیں، فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے۔ جرم کی سزا دینا انتظامیہ کا فرض۔ پھر یہ کہ ایک صحافی کے سوال کرنے اور تضحیک کرنے میں بھی نمایاں فرق ہے۔ خاتون صحافی اور ایف سی اہل کار موقع پر عدالت لگائیں گے، تو مستقبل میں بھی ایسے ہی مناظر دکھائی دیں گے۔

میں مانتا ہوں، یہاں عورت سے بہت سی زیادتیاں ہوتی ہیں؛ ان کا حق مارا جاتا ہے، ان پر تشدد ہوتا ہے، لیکن تشدد وہی نہیں، جو ہاتھ اٹھانے سے کیا جاتا ہے، تشدد وہ بھی ہے، جو زبان چلا کر کیا جائے۔ رہی عزت نفس کی دہائی، تو عزت نفس، عورت ہی کی نہیں، مرد کی بھی ہے۔ سوال استحقاق کا ہے، تو عرض ہے، عورت پر پابندیوں کے خلاف آواز اٹھانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا، کہ مرد کا کوئی حق باقی نہیں رہا۔ بہت سے واقعات میں مرد نہیں، عورت غلطی پر ہوتی ہے۔ یہ کہنا چوں کہ عورت کو اس کا جائز حق نہیں ملا، اس لیے وہاں بھی مرد ہی کو مطعون کیا جائے، جہاں عورت سزاوار ہے، تو یہ کھلا دھوکا ہے۔ وہ جو عورت کے حقوق دلانے کے حامی ہیں، وہ سیاہ سفید کو ایک سا نہیں دکھاتے؛ صرف سچ سے گواہی لیتے ہیں۔ اور وہ بازی گر جن کا شغل، عورت کی مظلومیت کا کرتب دکھانا ہے، اُن سے گزارش ہے، کہ آپ صبر کیجیے، اس سماج میں خواتین کے ساتھ بہت نا انصافیاں ہوتی ہیں۔ ہم عورت کی مظلومیت کا راگ کسی اور دن الاپ لیں گے۔


خاتون صحافی کا صحافت کے منہ پر تمانچا

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 320 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments