جنہیں راستے میں خبر ہوئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم کوثرکی ایک شہرہ آفاق غزل کا شعر ہے کہ:

کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں، دیکھنا انہیں غور سے

جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

ہم ہمیشہ سوچا کرتے تھے کہ شاعر کی یہاں غور سے دیکھنے سے کیا مراد ہے؟ ترحم سے؟ تردد سے؟ تفکر سے یا پھر حیرت سے؟ ساری تاویلوں کے باوجود مطلب قدرے مبہم ہی رہا، ہاں مختلف موقعوں پہ مختلف طرح سے منطبق کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

لیڈریا قائدانہ صلاحیتیں زیادہ تر توپیدائشی ہی ہوتی ہیں لیکن بعض اوقات حالات کا جبر بھی انسان کی بعض خفیہ قائدانہ صلاحیتیں بیدارکردیتا ہے۔ وہ صلاحیتیں جن کا ان سے خود بھی بعض اوقات ادراک نہیں ہوتا۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے پاکستانی سیاست میں چھائے ہوئے شریف خاندان بالخصوص میاں نواز شریف کو قدرت نے ایک سے زیادہ مرتبہ وہ مواقع عطا کیے کہ وہ اپنے عہدوں سے بہت آگے ایک راہنما کی صورت میں تاریخ میں یاد رکھے جائیں لیکن صد افسوس کہ ہر بارایسا نہ ہوپایا، ہر دفعہ مصلحتیں، اقتدار، مستقبل ان کے آڑے آتے رہے۔ کبھی اپنی غلطی کا اقرار یا ادراک کیا بھی تو اس وقت جب مصیبت اپنے ہی گلے پڑچکی تھی وگرنہ وہ راز کہ جن کا دعوی تھا آج بھی ان کے سینے میں دفن ہیں اور شاید رہیں گے بھی۔

ایسے وقت میں جب میاں صاحب نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند کیا اور وہ عوامی بالادستی کی شاہراہ پر نکلنا چاہتے تھے، انہیں یاد آیا کہ یہ راستہ کوئی اور ہے یہ تو وہ دیکھا بھالا راستہ نہیں جس پر چلنا شیوہ ارباب ہنر رہا ہے۔ اس سارے کھیل میں اور تو کچھ ہونہ ہوہمارے جیسے کئی کم فہموں کو سلیم کوثر کا مذکورہ بالا شعر ضرور سمجھ آگیا ہے اور آج حیرت اور استعجاب سے انہیں بہت غور سے دیکھتے ہیں جنہیں ساری دھول اڑا کر بالاخر یہ خبر توہو گئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے۔ یہ راستہ سرور پیلس، اڈیالہ یا کوٹ لکھپت تک تو جاسکتا ہے یا یہ قیادت کے ”بے مقصد“ جنگل میں تو لے جائے گا لیکن جھنڈے والی گاڑیوں اور پروٹوکولوں سے مزین تام جھام والے ایوان اقتدار کی روشوں تک نہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا یہ جبر بھی خوش فہم عوام کو سہنا ہوگا کہ پی ٹی آئی کی حکومت جسے اپنی نا اہلیوں اور نالائقیوں کا بوجھ اٹھائے نہیں بنتی اسے بھی ن لیگ سہارا دیتی نظر آئے گی۔ پس ن لیگ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے مسودے پر دستخط کرنے کو قلم ہاتھ میں لئے اپنی ہی چھت میں شگاف ڈالنے کونقب زن کا اوزاربنی، تیار ومستعد کھڑی ہے۔ ہاں یہ یاد رہے کہ نہ توکوئی این آر او لے رہا ہے نہ کوئی این آر او دے رہا ہے۔

ن لیگ سے کوئی دشمنی نہیں، بحیثیت انسان، بحیثیت ایک بڑی پارٹی کے لیڈر، بحیثیت تین مرتبہ کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف جس احترام کے حقدار تھے ہمیشہ رہیں گے۔ لیکن کل تاریخ ن لیگ اور میاں صاحبان کوکن الفاظ میں یاد رکھے گی یہ اب اور بھی اہم ہوگیا ہے۔ کیونکہ نظریاتی میاں صاحب ایک دفعہ پھر نظریہ ضرورت کے میاں صاحب بنتے نظر آرہے ہیں۔

آخر پرجمہوریت پسند عوام سے ایک گزارش ضرور رہے گی کہ مشرف کی نعش کو تین دن تک ڈی چوک میں لٹکانے کی ہم میں نہ جرات ہے نہ ہمت، ہاں نام نہادعوامی بالادستی (سول سپر میسی) کے لاشے کو ضرور لٹکا دیجئے گا اور اس وقت تک اتارنے کی ضرورت نہیں جب تک اس کی سڑاند اور تعفن ہی کچھ ہاتھوں کو جمہوریت کے فیصلے لکھنے کی بجائے سرحدوں پرمورچے کھودنے پر مجبور نہ کردے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply