علامہ طاہر القادری کے وجود میں جاری دھرنا


یہ آٹھ سال پرانی بات ہے۔ علامہ طاہر القادری صاحب ذرائع ابلاغ پر دھوم مچا رہے تھے۔ آپ نے اسلام آباد میں زرداری صاحب کی حکومت کے خلاف دھرنا دے رکھا تھا۔ آپ کے پاس ایک کنٹینر تھا جو آپ غالباً اپنے وطن کینڈا سے لائے تھے۔ آپ نے اسلام آباد میں اپنے سارے ہی مرید، معتقد جمع کرلئے تھے جن کی تعداد پانچ یا دس ہزار تو ہوگی ہی۔ بہر حال آپ کا دھرنا بالاخر ختم ہوا اور آپ زرداری صاحب سے معاہدہ کرکے واپس کینڈا لوٹ گئے۔ لوگ سمجھے کہ حضرت کی ”گیسٹ اپئیر نس“ اب ختم، آپ کا جلوہ پھر نہ نظر آئے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ محترم اُسکے محض دو سال بعد اسلام آباد میں دوبارہ کنٹینر لے کر موجود تھے۔ اب آپ کے ساتھ خان صاحب بھی تھے۔ مگر پھر آپ نے کنٹینر اٹھایا اور واپس چلے گئے۔

علم نفسیات کے طلبہ جانتے ہیں کہ بہت سے نفسیاتی عوارض cyclicہوتے ہیں، مثلاً جنون اور مایوسی۔ یہ دونوں ہی اکثر اقساط میں چڑھتی ہیں۔ اور اکثر اِن جھٹکوں میں موسموں کا بھی عمل دخل ہوتا ہے۔ پھر خالص دیوانگی بھی اکثر و بیشتر حالات و واقعات کے علاوہ موسموں سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ صریح دیوانوں کو پورے چاند کی راتوں میں چیخنے چلّانے کے شدید دورے پڑتے ہیں۔ یہ تمام معاملات انسانی نفس پر ماحول اور موسم تک کے اثرات کی دلیل ہیں۔

مگر ظاہر ہے کہ جھٹکے اور دھچکے انسانی کردار کے مستقل حصوں کے عکّاس تو نہیں ہوتے۔ علامہ صاحب پر انقلاب کسی مرگی کے دورے کی طرح پڑتا ہے اور اب اُنہوں نے اُس سے ایسے توبہ کرلی ہے جیسے مقطع لوگ آخری عمر میں شراب اور بالا خانوں سے کرلیتے ہیں۔ مگر قادری صاحب تو بڑے پاکیزہ انسان ہیں۔ مجھے ان کی ذاتی زندگی پر رائے زنی کا کوئی شوق نہیں نہ ہی ان کی مذہبی تعبیرات پر بات کرنے کا حوصلہ ہے۔ ان کے علم پر کوئی شک نہیں مگر ان کی نیتوں اور انقلاب پر ہے۔ بات اگر صرف و محض ان کی ایک ذات تک ہی محدود ہوتی تو میں اِس پر قلم نہ اٹھا تا مگر ہمارے سماج میں قادری صاحب دراصل ایک انسان نہیں ایک رویہ بن گئے ہیں اور یہ رویہ بہت سنجیدگی سے غور کرنے کی چیز ہے۔

قادری صاحب کی ذات میں سب سے اہم اور مرکزی حصہ ہے، خود قادری صاحب۔ آپ کی زندگی میں ہر عمل خود کو ’ماؤنٹ ایورسٹ‘ سمجھنے اور ساری کائنات کو اپنی ذات کا ایک ضمیمہ سمجھنے سے جنم لیتا ہے۔ یہ خود پرستی کی وہ خوفناک شکل ہے جو کہ انسان کو صریحاً اندھا کردیتی ہے۔ پھر ارد گرد اگر صرف مریدین کا مجمع ہو جو گاڑی میں لگے سردار جی کے ہم شکل شوپیس کی طرح ہر وقت گردن ہلاتا رہتا ہوتو پھر کم و بیش وہی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو کہ میرؔ نے اپنے اس شعر میں ظاہر کی ہے،

سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا

مستند ہے میرا فرمایا ہوا

قادری صاحب کی ذات کا دوسرا اہم ترین حصہ ہے، دنیا کے سامنے اچھا بننے کی شدید خواہش۔ آپ کی صاف ستھری پوشاک سے لے کر ’ڈزائنر‘ ٹوپی تک ہر شے دراصل اِسی خواہش کا مظہر ہے۔ آپ کی علمیت بھی دراصل اِسی خواہش سے پیدا ہوئی ہے۔ یقینی طور پر آپ ایک ذہین طالب علم رہے ہوں گے اور جب بھی کسی امتحان میں کامیاب ہوکر گھر سند لاتے ہوں گے تو ماں باپ اور اہل محلہ بڑی تعریفیں کرتے ہوں گے۔ ایسے چھوٹے کنویں کہ جن میں صرف ’تالابیہ‘ مچھلیاں ہوں وہاں تھوڑی سی بڑی مچھلی بھی خود کو ’وھیل‘ سمجھنے لگتی ہے۔

قادری صاحب یقینا اپنے پس منظر میں بچپن سے ہی علمی ’وھیل‘ رہے ہوں گے اور سب نے تعریفیں کر کر کے آپ کو ’اچھا بچہ‘ کومپلکس کا شکار کردیا۔ اسی ’اچھا بچہ‘ بننے کی مریضانہ خواہش اور خودنمائی کی شدید بھوک نے آپ کو بڑے سے بڑے پلیٹ فارم کی طرف متوجہ کیا یوں آپ ملکی اُفق پر اُبھرے اور پھر بین الاقوامی دوروں کے دروازے بھی آپ پرکھل گئے۔ کیسے نواز شریف صاحب آپ کی رکابی میں سالن ڈالا کرتے تھے اس کی ویڈیو تو سب نے دیکھی ہوئی ہی ہے۔ مگر جب قادری صاحب کو ’نیدر لینڈ‘ اور ’سوئڈزرلینڈ‘ کی غذاؤں کے مزے لگے تو یہاں کی سالن روٹی پھیکی پڑگئی۔

پھر یورپ میں قادری صاحب سفید فاموں کو خوش کرنے اور ان کے سامنے اچھا بچہ بننے کی طلب میں ہر اصول اور ہر مُسلّم بات سے بھی بڑی آسانی سے ’یوٹرن‘ لے گئے۔ آپ نے ناموس رسالت کے موضوع پر جو باتیں پاکستان میں کیں اور جو یورپ میں کیں ان میں 360 درجے کا فرق تھا۔ مگر یہ تضاد ڈھونڈنے والے سمجھے نہیں کہ قادری صاحب ہمیشہ سامنے بیٹھے لوگوں کو دیکھ کر اصولی ’اچھا بچہ‘ بننے کی کوشش کرتے ہیں اور بس۔

قادری صاحب کی خودنمائی نے ان کو دو مرتبہ دھرنا دینے پر مجبور کیا۔ آپ کے دھرنے دراصل آپ کی انا کی تسکین اور ملک کے سب سے طاقتور حصے یعنی ہماری اسٹیبلشمنٹ کے مرکز میں اچھا بننے کی کوشش ہی کے مظاہر تھے۔ مجھے یقین ہے کہ قادری صاحب کینڈا کی سردیوں میں بھی اپنی دھرنوں کی تقریں روز ہی بڑی ٹی وی اسکرین پر دیکھتے ہوں گے۔ مگر اب آپ نے سیاست سے الحمدللہ توبہ کرلی ہے۔ ویسے لوگوں کو یاد ہے کہ جب محترم نے مشرف دور میں پارلیمنٹ سے استعفیٰ دیا تھا تو بھی سیاست سے توبہ کی تھی مگر خود نمائی اور خود پرستی بڑی توبہ شکن شے ہے۔ کوئی بعید نہیں کہ اگلا انقلابی دورہ حضرت کو عمران خان کے خلاف دھرنے پر آمادہ کردے۔ آپ کی تقاریر و تصاویر اگر لوگوں کو نظر آنا بند ہوگئیں توحضرت سانس کیسے لیں گے؟ آپ کے وجود میں خودنمائی نے جو دھرنا دیا ہے کیا وہ ختم ہوسکتا ہے

Facebook Comments HS