یعنی سارا دوش اس خراب معاشرے کا ہے اور اپنی حریم نِردوش ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمدردی کا جذبہ اچھی چیز ہے اور کسی مظلوم کے لیے آواز اٹھانا قابل صد تحسین امر، لیکن وقت کی ضرورت ہے کہ ایسا کرنے سے پہلے بہت سے عوامل پر غور کریں وہ سب لوگ جو حریم شاہ کی پچھلے کئی مہینوں سے مسلسل کی جانے والی قانون شکنیوں اور سائبر کرائم والے معاملے کو حریم کے والد کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سے ایموشنل ڈرامہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان لوگوں کو خود بھی شاید یہ اندازہ نہیں ہے کہ وہ پہلے سے تنزلی کی طرف لڑھکتی ہوئی ہماری معاشرت کو مزید گہری کھائی میں دھکیل رہے ہیں۔

پہلے سے پراگندہ ذہنوں کو مزید منتشر کر رہے ہیں۔ انہیں شاید یہ احساس نہیں کہ حریم شاہ یا اس جیسے کسی بھی فرد کے جرائم اور خرابیاں اگر justify کی جانے لگیں اور قصودار معاشرے کو یا صرف پاور فل لوگوں کو ٹھہرایا گیا تو اس سے ہماری نوجوان نسل میں سے بہت سے بھٹکے ہوئے یا بھٹکنے کے درپئے ذہنوں کو مزید سہارا اور حوصلہ ملے گا بلکہ شہ ملے گی کہ چلو بھئی ہم بھی کرتے ہیں جو جی میں آئے، ہمارے گناہ یا برائیاں بھی آخر معاشرے کے کھاتے میں ہی ڈال دی جائیں گی اور ہم معصوم ٹھہرائے جائیں گے۔ معاشرے کے دردمند دل رکھنے والے افراد خود ہمارے وکیل ہوں گے اور ہمیں باعزت بری کروانے کے لیے سارا ملبہ معاشرے پر ڈال دیں گے۔

ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمیشہ ہر معاملے میں ایک فریق مجرم اور دوسرا معصوم نہیں ہوتا بلکہ بعض معاملات میں دونوں غلطی پر ہوتے ہیں، دونوں خرابی میں ملوث ہوتے ہیں اور دونوں ہی سزا کے مستحق بھی ہوتے ہیں۔

لیکن ہم ازل کے جذباتی، دو آنسوؤں سے موم کی طرح پگھل جانے والے لوگ، خود ہی منصف بن کر آنسو بہانے والے کو صحیح اور خاموش یا غیر حاضر فریق کو غلط ثابت کرنے چل پڑتے ہیں اور یہ تک خیال نہیں رکھتے کہ ہر کیس کے گواہ اور ثبوت اپنی الگ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

کسی بھی بڑے سے بڑے مجرم کو اس کی کریمینل ہسٹری کی بنیاد پر کسی نئے الزام پر سزا کا مستحق قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی کسی کے آنسو اس کی یا اس کے کسی پیارے کی صفائی کے لیے اور اسے بے گناہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہو سکتے ہیں۔

ہم جذبات میں آ کر ایک کو صحیح ثابت کرنے کے لیے دوسرے کو غلط بنانے چل پڑتے ہیں اور اپنی طرف والے فریق کے حصے کا کیچڑ بڑی سہولت سے مجموعی معاشرے پر اچھالنا شروع کر دیتے ہیں کہ دراصل معاشرہ اس بے راہ روی میں ملوث فرد کی برائی کا ذمہ دار ہے جبکہ ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔

ہمیشہ معاشرہ یا خاندان ہی کسی کی خرابی کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔

دیکھیے آنسوؤں کی اہمیت اپنی جگہ۔ آنسو اللہ کی بارگاہ میں شاید گناہوں کو بخشوا سکتے ہیں لیکن انسانی معاشروں کا معاملہ مختلف ہے۔ اس کے قوانین اور ضابطوں کے اپنے تقاضے ہیں جو آنسوؤں سے پورے نہیں ہوتے۔

اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہم عوام اگر سستی جذباتیت سے گریز کریں اور ہر معاملے میں خود کو منصف کی کرسی پر نہ بٹھائیں۔

اس سے نہ صرف دوسروں کے لیے بلکہ خود ہمارے لیے بھی کافی سہولت اور آسانی ہو گی اور ہم اپنے ذہنوں، دلوں اور احساسات کو غیر ضروری جھٹکوں سے محفوظ رکھ سکیں گے۔

یہ معافیاں تلافیاں سارا گورکھ دھندہ ہے، یہ بات آپ بھی جانتے ہیں۔ وہ معاشرے کے پاور فل لوگ ہیں جن کے یہ معاملات ہیں اور میڈیا خود اس وقت ایک اتنی بڑی طاقت بن چکا ہے کہ ملک کے بڑے چینلز نے یہ ویڈیو نشر کی ہے۔

کون جانے یہ ویڈیو کس نے بنوائی اور اس کے پیچھے کیا کیا مقاصد و محرکات کارفرما ہیں۔

ممکن ہے کسی نے وزرا اور دیگر ملوث افراد کے ساتھ ساز باز کر کے اور حریم کے والد کو کسی طرح ٹریپ کر کے یہ ویڈیو بنوائی ہو۔ اس کے علاوہ بھی کئی ممکنات ہیں جو ذرا سا غور کرنے پر سامنے آ سکتے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام اس ویڈیو کی بِنا پر جذباتی ہونے سے گریز کریں اور اس معاملے کو مزید اچھالنے سے بھی بچا جائے ورنہ نتائج ایسے بھی سامنے آ سکتے ہیں جن کا سامنا ہم ماضی میں کر چکے ہیں۔

شیخ صاحب کی ویڈیو وائرل ہونے سے پہلے تک شاید حریم شاہ ایک گمنام یا یوں کہیے کہ بے نام شخصیت تھی جس کے بیک گراونڈ اور خاندان سے عوامی سطح پر کوئی زیادہ واقف نہیں تھا اور اس کے خاندان والے خود بھی اپنی بہن بیٹی کی حرکتوں کی وجہ سے منہ چھپائے بیٹھے تھے لیکن شیخ صاحب والی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد حریم شاہ اور اس کی دیگر دو ساتھی خواتین کی اصل شناخت بھی کھوج نکالی گئی جس سے میڈیا کو اس کے خاندان تک رسائی حاصل ہو گئی اور اس کے والد کو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی بیٹی کی حرکتوں کے لیے جوابدہ ہونا پڑا۔

اصل حقائق سامنے نہیں ہیں تو کون جانے اس کے خاندان کا پتہ چل جانے کے بعد حریم کے والد کو کسی نے دھمکا کے وہ ویڈیو بنوائی یا پیسہ کھلا کے یا پھر واقعی ایک غیرت مند باپ کے ضمیر نے اسے ملامت کیا اور وہ خود ہی حریم شاہ جیسی بیٹی کا باپ ہونے کی پاداش میں اپنے ناکردہ گناہوں کا مجرم بن کر عوام کی عدالت میں آن کھڑا ہوا۔

جو بھی ہو یہ سائبر کرائم کا کیس ہے جس کے ہم اور آپ نہ مدعی ہیں نہ ملزم۔

اک آنسو بہاتے باپ کی ویڈیو کی بنیاد پر ہمارے بہت سارے سوشل میڈیائی ہمدرد طبع دانشوروں کی جانب سے اب اس سائبر کرائم کیس کو اک جذباتی معاملہ بنا کر دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جبکہ اس معاملے میں کیس کے دونوں فریقین کے علاوہ کسی کی بھی معافیاں تلافیاں غیر ضروری ہیں، بھلے وہ کسی فریق کا سگا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ دونوں فریقین میں سے کوئی بھی نابالغ ناسمجھ نہیں ہے۔

اس مسئلے پر قانونی کارروائی ہونی چاہیے تھی جو اب تک شروع نہیں ہوئی تو اب ضرور ہونی چاہیے اور جرم ثابت ہونے پر مجرم کو قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے۔

یہاں حریم کے والد کی ویڈیو کو صرف ایک good gesture سے زیادہ اہمیت نہیں دی جانی چاہیے،

اور اس ویڈیو کی وجہ سے حریم کے کسی ایکٹ کو justify بھی نہیں کیا جا سکتا نہ اس کی غلطیاں معاشرے کے کھاتے میں ڈال کر اسے بری الذمہ اور سرخرو کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ صاف ظاہر ہے اس معاملے میں حریم اور وزرا و اینکرز جن کی اب تک ویڈیوز سامنے آئیں ہیں دونوں فریقین غلطی پر ہیں۔

اس سارے منظر نامے میں حریم کے والد کی ویڈیو محض اضافی شے ہے جسے اس سے زیادہ اہمیت نہیں دی جانی چاہیے کہ اس بزرگ کے حق میں دعائے خیر کر دی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *