بغداد یار تو نے کتنا اور جلنا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری آنکھ کے لیے یہ منظر بڑی تقویت والا تھا۔ چشم فلک تو خیر بڑی رجی پُجی ہے۔ صدیوں سے ایسے منظر دیکھتی چلی آئی ہے۔ اسی لیے بڑی بے حس سی ہے۔ بڑی کمینی سی خوشی اندر سے پھوٹی پڑ رہی تھی۔ گاؤں کے بڑے چودہری کو لتّر پڑ جائیں تو کمی کمینوں کی باچھیں قابو میں نہیں آتی ہیں۔

منظروں کی کیا تفصیل سناؤں۔ آپ سبھوں نے ہی دیکھے ہوں گے۔ دنیا کی عظیم سلطنت کے عظیم اور بڑے لوگ جن کے دلوں کی دھڑکنیں سپر سونک طیارے کی رفتار سے بھی زیادہ تیز دھڑکی ہوگی۔ آنکھوں میں خوف اور دہشت کے سائے لرزاں ہوں گے۔ ہائے بے چارے مہذب اور سو فیسٹیکیٹڈ جنہیں اس صورت کا گمان تک نہ ہوگا۔ دنیا کے عظیم ملک کا مضبوط قلعہ جو آ ہنی باڑوں اور آ ہنی ستونوں پر غیر معمولی انتظامات کے ساتھ کھڑا تھا۔

دہشت گرد ملک ہے نا عراق۔ عظیم ملک کے حفاظتی انتظامات بھی کمال کے تھے۔ جب اس پر قبضہ کیا تو مضبوطی اور تحفظ لازمی ٹھہرا۔

یہ ننگے بچھے جاہل ہزاروں کی تعداد میں اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لیے پھرتے لوگ جنہوں نے سوچا ہوگا مرتے تو ویسے بھی ہیں۔ چلو ان کا بھی تیاپانچہ کردیتے ہیں۔ دھوئیں کے بادلوں میں بپھرے ہوؤں نے سیکورٹی کیمرے توڑ دیے۔ حفاظتی ٹاور پر چڑھ دوڑے۔ مقدس پرچم کو جلا کرشاید کہیں یہ بتانے کی حسرت بھی اندر جاگ اٹھی تھی کہ تمہارے ظلم، زیادتیاں، مکاریاں، عیاریاں برداشت کرتے کرتے یہ دن آگئے ہیں۔

سچی بات ہے نہتے اور بے بس لوگوں کے پاس غصے کے اظہار کا اور طریقہ کیا تھا۔ نئے سال کی آمد آمد کے ساتھ ہی سپر پاور کے بغدادی گھر میں تماشا ہوگیا۔ چھیڑ چھاڑکا سلسلہ تو ماہ بھرے چلاآرہا تھا۔ تخت پر بیٹھی کٹ پتلیوں نے کہا بھی مہاراج دھیان سے ذرا خیال سے۔ مگر طاقت کا نشہ نچلا نہیں بیٹھنے دیتا۔ اب عظیم سربراہ کا کہنا ہے ان کی پشت پر ایرانی ملیشیاء ہے۔ ایران کو ساتھ ہی لعن طعن بھی ہورہی ہے۔ کمبخت کتنا ڈھیٹ ہے۔ کوئی چیز اس پر اثر کرتی ہی نہیں۔ اس نے سمجھا کیا ہے ہمیں۔ اب مشرقی وسطیٰ میں مزید فوجیں بھیجنے کا بہانہ مل گیا ہے۔

یادوں کے نرغے میں آگئی ہوں۔ دیکھتی ہوں وقت 2003 کا نظرآتا ہے۔ جب یہ ظالم ساری دنیا کے طرلے منتوں کو اپنے پاؤں تلے روندتا بغداد آیا۔ صدام کی آمریت کے ڈسے ہوؤں نے اگر خوشی کا اظہار کیا تو صدام کے چہیتوں اور حامیوں نے مزاحمت بھی اس طرح نہ کی جیسے کرنے کا حق تھا۔ ایک ہی جھٹکے میں بغداد ڈھے بھی گیا۔ حکومت میں شیعہ عنصر زیادہ ہوگیا۔ صدام کے زمانے میں سنی عنصر حاوی تھا۔ پہیے کا رخ بدل گیا۔ اور ہمیشہ کا حکمرانی کاگرDivide and ruleاپنا کر دونوں کو لڑانے کی منصوبہ بندی ہوئی اور عراق لہولہان ہوتا گیا۔

2007 میں جب عراق گئی۔ ایک دن جب بغداد یونیورسٹی کے اساتذہ سے ملنے دجلے کے ساتھ ساتھ بہتی سڑک سے گزر رہی تھی۔ اپنے داہنے ہاتھ ایکڑوں میں پھیلے گرین زون کو دیکھتی اور خود سے کہتی تھی تو اچھا یہ ہے۔ گرین زون جہاں وہ رہتا تھا۔ ڈرائیور بتاتا تھا صدام نے قارون دور کی کھدایؤں سے حاصل کردہ محلاتی نمونوں کی طرز پر اِسے بنایا تھا۔ اس محل کے نیچے بنکر اور خندقیں ہیں جن کی مضبوطی کا جواب ہی نہیں۔

اُن دنوں وہ امریکیوں کا ہیڈ کواٹر تھا۔ یہ محل جہاں کوئی پر نہیں مار سکتا تھا۔ عام امریکیوں کے بوٹ اسے دن رات روندتے تھے۔

چند سال تو دنیا کی عظیم سلطنت کے کارندوں نے وہاں موجیں ماریں۔ پھر سوچا دنیا کا سب سے بڑا مضبوط قلعہ یہیں بنانے کی ضرورت ہے کہ مشرقی وسطیٰ کو یہاں سے ہی کنٹرول کرنا ہے۔ تو آ ہنی قلعہ بنایا اسی گرین زون میں۔ اُس امر کے دیس میں کہ جس کی آمریت پر اعتراض تھا۔

چند قصّے بھی سُن لیجیے۔ کِسی غیر ملکی صحافی کی رپورٹ پڑھی تھی۔ نام بھول رہی ہوں۔ تکریت صدام کا آبائی شہر تھا۔ دنیا کی بہترین اور ہیوی موٹرسائیکل کمپنی Harley Davidsonکا ایک میکنیک جو تکریت کی جم پل تھا اور بغداد میں اسی کمپنی کی نمائندگی کرتا تھا۔ صدام کے بیٹوں کہ جو اِن موٹر سائیکلوں کے بے حد شوقین تھے سے کچھ کچھ دوستانہ سا تعلق بھی رکھتا تھا۔

فردوس سکوائر میں صدام کا نصب مجسمہ جب گرایا جارہا تھا۔ امریکی فوجیوں کو ٹینکوں کے لیے آ ہنی رسوں کی ضرورت پڑی کہ انہیں ٹینکوں سے باندھ کر مجسمے کو کھینچنا تھا۔ میکنک کی دکان میں رسے تھے۔ اس نے بھاگ بھاگ کر رسے فراہم کیے۔ 2009 میں صحافی جب دوبارہ بغداد آیا اور اسی موٹر میکنک سے ملا۔ پوچھا سُناؤ کیا کہتے ہو؟ بہت تاسف تھا اس کے لہجے میں۔ جب وہ بولا ہم بہت احمق لوگ تھے۔ چالوں کو ہی نہیں سمجھ سکے۔ گلف وار سے قبل اِس ملک کا فی کس جی این پی 3000 ڈالر تھا جو 2001 میں گھٹتے گھٹتے صرف 500 تک آیا تھا۔ مشرقی وسطیٰ کے ممالک کے مقابل بہترین نظام صحت، بہترین سکول، کالج، یونیورسٹیاں۔ عراقی پڑھی لکھی قوم۔ ہم بے غیرت لوگ سیال سونے کی دولت سے مالا مال ملک جسے دنیا کا غریب ترین ملک بنا دیا گیا۔ جہاں بجلی نہیں، گیس نہیں، امن نہیں، کاروبار نہیں۔

مضمون کے آخر میں صحافی نے ٹیل نوٹ جو لکھا وہ آج بھی میرے حافظے میں محفوظ ہے۔ میں تو سمجھتا تھا کہ دنیا کی بدترین چیز آمریت ہے مگر عراق کو دیکھتے ہوئے میں کہنے پر مجبور ہوں کہ کسی ملک کے لیے انارکی سے بڑی کوئی بدترین چیز نہیں ہوسکتی۔

کربلا میں ہوٹل فندق الجنائن کے مالک آغا علی سے باتیں ہوئیں۔

”آپ کی ہمدردیاں کن کے ساتھ تھیں؟ “

”پکی پکی حملہ آوروں کے ساتھ۔ “ سچی بات ہے ایسی صاف گوئی پر ہنسی چھوٹ گئی۔

مجمع میں سے اکثریت کی آواز یں تھیں۔

”کمخبت ڈکٹیٹر تھا۔ بدترین ظالم تھا۔ ہمیں ماتم کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ عزاداریوں کی محفلیں نہیں سجتی تھیں۔ سوز خوانی نہیں ہوتی تھی۔ ماتمی جلوس نہیں نکل سکتے تھے۔ ہمارے کاروبار پر جھاڑو پھرا ہوا تھا۔ اُس نے ہم پر جانے کب تک مسلّط رہنا تھا؟ “

بارہ تیرہ کے مجمع میں سے صرف دو آوازیں تھیں جن میں ایک نے صدام کو سراہتے ہوئے کہا تھا۔

”تو اب دیکھ رہے ہو نا اِن انتہا پسند دہشت گرد ٹولوں کی کرتوتیں۔ کیسے انہوں نے ہمارے شکنجے کس دیے ہیں کہ باہر نکلو تو واپسی کا پتہ نہیں ہوتا۔ اُس نے کم از کم اِن سبھوں کو نتھ تو ڈال رکھی تھی۔ “

”کڑوا سچ تو یہ ہے کہ شیعہ سُنیوں کی پرانی دشمنیاں اور عداوتیں بھی ایک طرف، عربوں اور کردوں کے درمیان دبے ہوئے نسلی فسادات بھی پوری شدت سے جاگ گئے۔ تیل کے وسیع ذخائر سے مالا مال شمالی کرد علاقوں اور کم وسائل کے حامل مرکز کے درمیان علاقائی اور معاشی کھینچا تانی بھی بہت بڑھ گئی۔ چلو وہ ظالم تھا پر تب امن تو تھا۔ “

دوسرے نے جوشیلی آواز میں کہا تھا۔

”دنیا کا سب سے بڑا اگر کوئی لعنتی ہے تو وہ یہ کمبخت امریکہ ہے۔ یہ اُس نے ہمیں صدام سے نجات نہیں دلوائی۔ اُس نے ہماری نسلوں کا بیٹرہ غرق کیا۔ بدترین اقتصادی پابندیوں کا شکار کیا۔ کیا اُس کا شکار صدام یا اس کی آل اولاد ہوئی۔ نہیں۔ ہم غریب لوگ اور ہمارے بچے ہوئے۔ “

ابھی ابھی قاسم سلیمانی کے مارے جانے کی اطلاع ملی ہے۔ کرشماتی شخصیت کا حامل قاسم امریکہ کو مطلوب۔ شام اور عراق کے معاملا ت میں مرکزی کردار ادا کرنے والا۔

میرے جیسی چھوٹی سی ناکارہ عورت جب عراق کے شہروں میں با اثر شیعہ شخصیات سے ملتی تھی۔ کوفہ کی ڈاکٹر حمیدی دولانی۔ ، بغداد کی ڈاکٹر ندال جمعہ، کوفے کے حواطم اور فضائل کے لوگ جن سبھوں کا کہنا تھا۔ ہم لوگوں کا اتفاق ہماری بقا کی ضرورت ہے۔

1988 میں ایران نواز کُردوں کے دیہاتوں پر جس طرح زہریلی گیس کی بارش کی گئی اُس کے پیچھے کِس کی ہلّا شیری تھی۔ 1990 اور 1991 میں شیعاؤں کو کچلا گیا۔ ایسا کرنے میں کِس کی شہہ تھی؟

ایران عراق جنگ کے پس منظر میں بھی امریکہ اسرائیل عزئم تھے۔ مینا حم بیگن کا بیان تو ابھی بھی ریکارڈ پر ہے۔

”ہم خوش ہیں دو مسلمان ملک ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔ ان کی کمزوری ہماری مضبوطی ہے۔ بس، ٹونی بلیئر، رمز فیلڈ، کولن پاول، کونڈولیزارائس سب خود تو اپنی محفوظ کچھاروں میں بیٹھے تھے۔ اور ہمیں جہنم میں سڑنے چھوڑدیا۔

عراق کی مایہ ناز شاعرہ نازک الملائکہ کی یہ نظم پڑھئیے۔

سال نو چلے جاؤ

ہمارے گھروں میں مت آؤ

ہم جن کے خوا ب نہیں

ہم جن کی یادیں نہیں

ہماری خواہش ہے ہم مر جائیں

ہمیں قبریں قبول کرنے سے منکر ہوجائیں

ہم صدیوں کی تاریخ لکھنا چاہتے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *