ڈننگ اینڈ کروگر اِفیکٹ ادب کے زاویے سے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیف الدین سیفؔ نے کہا تھا:
؂ سیفؔ اندازِ بیاں رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

شاعر کا وجدان بہت سے ایسے گوشوں سے پردہ اٹھا دیتا ہے جسے سائنس دان و ماہرین نفسیات تجربات و مشاہدات کے بعد تسلیم کرتے ہیں اوریوں کوئی تھیوری وجود میں آتی ہے۔ ایسی ہی ایک تھیوری سنہ 1999 ء میں دو ماہرین ِ نفسیات ڈیوڈ ڈننگ اور جسٹِن کروگر نے پیش کی جسے ”ڈننگ اینڈ کروگر اِفیکٹ“ کہا جاتا ہے۔ اس تھیوری کی رُو سے جو شخص کسی کام میں جتنی کم مہارت رکھتا ہو گا وہ خود کواس فن میں اتنا ہی قابل سمجھے گا اور اسے اپنی کم علمی یا لا علمی کا سرے سے ادراک ہی نہیں ہوگا۔

اور جوں جوں اس کا علم بڑھے گا اسے یہ احساس ہونے لگے گا کہ اس کی آگہی کم ہے اور یوں اس کا اعتماد جو پہلے زیادہ تھا بتدریج کم ہونے لگے گا۔ اسی تھیوری ادبی اساتذہ نے صدیوں پہلے بیان کر رکھا ہے۔ ادب کے زوایے سے تھیو ری کو سمجھنے کے لیے کچھ مثالیں دیکھتے ہیں۔ شیکسپئر نے اپنے شہرہ آفاق ڈرامے As you like itمیں اسے یوں پیش کیا تھا:

”The fool doth think he is wise، but the wise man knows himself to be a fool“

خُدائے سُخن میر تقی میرؔ نے کہہ رکھا ہے :

رُتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے
وہ دل میں فروتنی کو جا دیتا ہے

کرتے ہیں تہی مغز ثنا آپ اپنی
جو ظرف کہ خالی ہو صدا دیتا ہے

ڈننگ اینڈ کروگر اِفیکٹ کو سمجھنے کے لیے یہ نُکتہ سمجھنا اہم ہے کہ اکژیت کے لیے اپنی کم علمی و کم مائیگی کا اعتراف کرنا ایک مشکل نفسیاتی مرحلہ ہوتا ہے کہ اس عمل سے انا کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ انسان فطری طور پر ایسی صورتِ حال سے فرار کا راستہ ڈھونڈتا ہے لہذا خود کو اعتماد دینے کے لیے وہ لا شعوری طور پرخود کو high rate کرتا ہے۔ یہ البتہ ایک الگ موضوع ہے کہ motivational speakersاعتماد حاصل کرنے کے لیے ایک طریقہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ :

”Fake it till you make it“

لیکن عام طور پر بات ”فیک اِٹ“ تک ہی محدود رہتی ہے۔ بصورتِ دیگرکسی بھی فن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے قدرتی صلاحیت ہونے کے ساتھ محنت و ریاضت ناگزیر شرائط ہیں۔ تھامس ایڈیسن نے تو Genius کی تعریف بھی یوں کی تھی:

”Genius is 1 % inspiration، 99 % perspiration“

اس تھیوری کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جو صلاحیت کسی کام کو کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے وہی صلاحیت اس کام کو جانچنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ مثلاً اگرکوئی موسیقی کے اسرار و رموز سے واقف نہیں ہے تو وہ یہ نہیں بتا سکے گا کہ کوئی گلوکار کسی گیت کو گاتے ہوئے کہیں بے سُرا ہوا ہے یا نہیں۔ تھیوری کے گراف سے واضح ہوتا ہے کہ علم اور اعتماد میں ایک منفی تعلق ( inverse relationship) ہوتا ہے۔ علم جتنا کم ہوتا ہے اعتماد اتنا زیادہ ہوتا ہے اور جوں جوں علم بڑھتا ہے تو اعتماد کم ہونے لگتا ہے۔

تاہم ایک مقام ایسا آتا ہے جہاں علم و آگہی بڑھنے سے اعتماد دوبارہ سے بڑھنے لگتا ہے لیکن عالمانہ اعتماد اور جاہلانہ اعتماد میں بنیادی فرق یہ ہے کہ عالمانہ اعتماد کے حامل شخص کو اپنے کم علم ہونے کا ادراک ہر مرحلے پر ہوگا اوریوں وہ کسی موقع پر بھی مکمل دسترس کا دعویٰ نہیں کرے گا۔ جب کہ جاہلانہ اعتماد رکھنے والے کو اس بات کا ادراک کم ہو گا اور وہ ہر سطح پرخود کو حرفِ آخر گردانے گا۔ حال ہی میں امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کومغربی پرنٹ میڈیا نے ”ڈننگ اینڈ کروگر پریذیڈنٹ“ کے خطاب سے نوازا۔ جس کی وجہ صدر کے ایسے بیانات تھے جن میں انہوں نے خود کو سیکورٹی، خارجی امور سمیت مختلف معاملات میں حرفِ آخر کہا تھا۔

؂ سوداؔ جو بے خبر ہے وہی یاں کرے ہے عیش
ٰ مشکل بہت ہے ان کو جو رکھتے ہیں آگہی

ایک مزید پہلو یہ بھی ہے کہ عالم اوروں کو خود سے بہتر تصور کرے گا جبکہ کم علم خود کو اوروں سے بہتر گردانے گا اور یوں وہ کسی دوسرے کے علم و کم علمی کا ادراک بھی کبھی درست پیمانے پر نہیں کر سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ عالم خود کو عاجز اور کم علم عقلِ کُل سمجھتے ہیں۔ غالبؔ نے ایک موقع پر کہا :

؂ یہ مسائلِ تصوف یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

یہ شعر دیکھیے :

؂ ریختہ کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

ایک اور شعر دیکھیے۔

؂ ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور

غالبؔ اپنی شعری عظمت سے بخوبی واقف تھے لیکن ان اشعار میں جہاں وہ اپنے ادبی مقام یا استاد ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں وہیں وہ خود کو حرفِ آخر نہیں گردان رہے بلکہ وہ میرؔ اور دیگر اساتذہ کی شعری عظمت کا بھی اعتراف کر رہے ہیں۔ اساتذہ کی کچھ مثالیں دیکھنے کے بعد ایک مثال آج کے دور سے بھی دیکھتے ہیں۔ ایک مقبول و معروف شعر ہے۔ :

؂ کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

پہلے مصرعے میں غلام محمد قاصرؔ اعتراف کر رہے ہیں کہ انہیں کارِمحبت آتاتو ہے لیکن وہاں بھی ناکامی کا خدشہ بہرحال موجود ہے اور دوسرے مصرعے میں وہ اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ سوائے محبت اور کوئی کام نہیں جانتے۔ اگر ڈننگ اینڈ کروگر اِفیکٹ کے ز اویے سے اوپر دیے گئے اشعار کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک موقع پر اعتماد تو ہے لیکن خالص عالمانہ ہے۔ کہ جہاں خود کو حرفِ آخر نہیں مانا جا رہا۔ اپنے کمال فن کے ساتھ ساتھ اپنی کم مائیگی کا اظہار بھی موجود ہے۔ تھیوری اور اشعار کی روشنی میں موضوع کو سمیٹتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی علم کا نقطہٗ آغاز اور انتہائے کمال یہی ہے کہ جو سُقراط نے کہا تھا :

”The only true wisdom is a knowing you know nothing“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عماد قاصر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *