رضا علی عابدی کی ”اردو کا حال“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ کتابوں کی کسی دکان یا لائبریری سے اردو زبان میں کسی اچھی کتاب کی تلاش میں ہیں اور آپ کی نظر ایک ایسی کتاب پر پڑتی ہے جس پر ایک تختی کی تصویر ہو، تختی کے اوپر اردو حروفِ تہجی لکھے ہوئے ہوں، کتاب کا نام ”اردو کا حال“ ہو، مصنف کا نام رضا علی عابدی (بی بی سی والے ) ہو تو اسے محض اردو کا کوئی قاعدہ سمجھ کر نظرانداز نہ کریں بلکہ اسے پہلی فرصت میں حاصل کریں اور پڑھیں کہ یہ پڑھنے والوں کے لیے ایک اچھی کتاب ہے۔

مصنف نے اس کتاب کے نام کی یوں وضاحت کی ہے ”اس کتاب کا نام ’اردو کا حال‘ یوں پڑا ہے کہ میں زبان کو جس حال میں پاتا ہوں وہ حال بھی کہتا جاؤں اور دوسری وجہ اس عنوان کی یہ بھی ہے کہ ماضی کے برسوں سے نکل کر اردو نے جس حال میں قدم رکھا ہے اس کا گواہ بنوں۔ “

رضا علی عابدی نے ہندوستان کے اردو بولنے والے خطے سے ہجرت کر کے پاکستان کے اس علاقے میں رہائش اختیار کی جہاں پہلے پہل زیادہ تران جیسے اردو بولنے والے ہی آباد ہوئے تھے یعنی کراچی۔ وہاں ایک اردو اخبار میں کام کیا اور پھر بی بی سی کی اردو سروس سے وابستہ ہوئے، جو کچھ لکھا زیادہ تر اردو میں ہی لکھا، یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں وہ اردو کی ہی وکالت کرتے نظر آتے ہیں اور اس کا کھلے الفاظ میں اعتراف بھی کرتے ہیں ”کتاب میں میرا مشاہدہ ہے، میری تحقیق شامل ہے اور میرا تجزیہ بھی ہے جسے میری رائے کہا جا سکتا ہے۔

مجھے اعتراف ہے کہ اس میں ایک طرف جھکاؤ بھی ہے اور اردو کے حق میں جانبداری بھی۔ اس صورتحال کو اختلافی کہا جائے تو مجھے کوئی اختلاف نہیں نہ ہو گا۔ ”اردو سے اپنی محبت پر انہیں کسی قسم کا احساسِ کمتری نہیں۔ نہ صرف محبت بلکہ محبت کا اظہار بھی“ یہ زبان مجھ سے نہیں مگر میں اس زبان سے ضرور ہوں۔ اس نے میرا بھلا چاہا، میں اس کا بھلا چاہتا ہوں۔ یہ کوئی ادلے بدلے کا بندوبست نہیں، یہ میرے آنگن میں بکھری ہوئی روشنی اور میرے چمن میں پھیلی ہوئی خوشبو ہے، یہ میرے سینے میں دھڑکتی ہوئی زندگی کی علامت ہے، یہ میرے وجود پر برستی ہوئی ٹھنڈک اور میرے ماتھے پر رکھی ہوئی ماں کی ہتھیلی ہے۔ جس طرح اس میں عربی، فارسی، ہندی، بنجابی، سندھی اور گوجری کی آمیزش ہے بالکل اسی طرح یہ زبان راحت، چین، سکون، آرام اور آسائش کا آمیزہ ہے۔ ”

رضا علی عابدی اردو کے مستقبل سے کچھ متفکر ضرور ہیں مگر مایوس نہیں۔ اس کے لیے وہ پاکستان سے زیادہ ہندوستان کی طرف دیکھتے ہیں جہاں اردو سے تعصب رکھنے والوں کی تمام کوششوں کے باوجود اردو زندہ ہے اور پروان چڑھ رہی ہے اور بقول ان کے اس میں وہاں بننے والی فلموں اور چینلز کا بہت اہم کردار ہے جو اپنی کاروباری مجبوریوں کے باعث گاڑھی اور ثقیل ہندی بولنے کی بجائے آسان ہندی بولتے ہیں کہ فلم والوں کو ایسی زبان درکار ہے جو لق دق ہندوستان کے ہر علاقے میں سمجھ لی جائے، اس سے لطف اٹھایا جائے اور لوگ اس پر اپنا پیسہ صرف کرنے کے لیے تیار ہوں، اس لیے انہوں نے سیدھی سادی، سہل، اور سلیس ہندی کو چنا جو عام گھروں، دکانوں، دفتروں، ہوٹلوں اور بازاروں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے، جو اصل میں اردو ہی ہے بس رسم الخط کا فرق ہے۔

عابدی صاحب اس صورتحال سے ذرا بھی پریشان نہیں اور لکھتے ہیں ”غالب کے زمانے تک تو اس زبان (اردو) کو ہندی اور ہندوی کہا گیا۔ تاریخی شہر ملتان میں قدیم صوفی شاعروں کے کلام کے ابتدائی نسخے میں نے دیکھے ہیں، ان میں ان کے کلام کو پنجابی یا سرائیکی نہیں بلکہ ہندی لکھا گیا ہے۔ “ اسی لیے عابدی صاحب کہتے ہیں ہندوستان میں ہر طرف یہی آسان ہندی بولی جا رہی ہے جسے میرے دل نے ہر بار اردو کہا ہے۔ ہندوستان کے ہندی بولنے والے علاقوں کے علاوہ جب وہ مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ (کلکتہ) میں لوگوں کو اردو اخبارات پڑھتے دیکھتے ہیں تو اس پر جہاں وہ اردو کے مستقبل پر مطمئن نظر آتے ہیں وہاں اردو سے محبت کرنے والوں کو یہ پڑھ کر بہت خوشی ملتی ہے۔ ہندوستان میں ہونے والے مشاعروں کا تذکرہ پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہاں لوگ اردو مشاعرہ سننے کے لیے تکیوں، دریوں، چادروں اوربیوی بچوں سمیت آتے ہیں تا کہ اطمنیان سے ساری رات مشاعرہ سن سکیں، جی ہاں اردو مشاعرہ اور وہ بھی ہندوستان میں۔

ہو سکتا ہے آپ اسے اردو کی کوئی ثقیل قسم کی کتاب سمجھتے ہوں ایسا ہر گز نہیں۔ موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے عابدی صاحب کا طرزِ تحریر ان کے بولنے کے انداز کی طرح انتہائی شگفتہ اور شُستہ ہے۔ انسان پڑھتے وقت نہ صرف اکتاتا نہیں بلکہ اکیلے بیٹھا زیرلب مسکراتا بھی ہے اور کبھی بے ساختہ قہقہہ بھی نکل جاتا ہے۔ لندن میں ان کی نظامت میں ہونے والے ایک مشاعرے کا احوال یوں بیان کیا ”کراچی سے کوئی شاعر آیا ہوا تھا جس کا ایک بازو جمال احسانی نے اور دوسرا افتخار عارف نے تھام رکھا تھا (سہارا دینے کے لیے ) ۔

دونوں مجھ سے بولے کہ عابدی بھائی، یہ ایسے شاعر ہیں کہ آج قیامت برپا ہو جائے گی۔ ”عابدی صاحب کہتے ہیں جب اس نے قیامت برپا کرنے کے لیے“ صورِ اسرافیل ”پھونکنا شروع کیا تو جی چاہا خود کو دریائے ٹیمز کی موجوں کے حوالے کر دوں۔ کتاب کی رونمائی کو بقول“ رونمائی ”کا نام اس لیے دیا گیا کہ رونمائی نئی نویلی دلہن کی ہوا کرتی ہے، مگر اس میں فائدہ یہ ہوتا کہ دلہن کتنی ہی بد شکل کیوں نہ ہو، رونمائی کے وقت کوئی یہ بات نہیں کہتا۔

غالباً اسی لیے صاحبِ کتاب اس تقریب کو رونمائی کا نام دے کر ایک بہت بڑے خطرے کو ٹال دیتے ہیں۔ سفر ناموں کے حوالے ایک بڑے نام پر ہلکی سی طنز بھی کتاب میں مل جاتی ہے ”جو مبالغہ بعض سفرنامہ نگار جنسِ مخالف کی نسبت سے کرتے ہیں اس کا احوال بچے بچے کو ازبر ہے۔ ہر ایک سفر ناموں کا مذاق اڑاتا ہے اور ہر ایک کا اصرار ہے کہ سفرنامہ نگاروں پر ہر جگہ عورتیں ایک لمحے میں ہزار جان سے کیسے عاشق ہو جاتی ہیں۔ “

کتاب میں ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا ہی ہونے والے اردو مشاعروں، کانفرنسوں اور اجلاسوں کا تذکرہ بھی ملتا ہے، بنتے اور بگڑے اردو محاوروں کا ذکر بھی ہے، اردو کی اشاعت و ترویج میں اخبارات اور کمپیوٹر کے دور سے پہلے کاتبوں کے کردار کا دلچسپ احوال بھی ملتا ہے۔ ”اردو کی طباعت اور اشاعت پر کس زمانے میں کیا بیتی اور اس پر کیا گزر رہی ہے، نثر کا کیاحال ہے، نظم کو اتنا عروج کیوں، فیصلے کہاں ہو رہے ہیں اور عمل کیونکر، کتاب سے دل لگانے والی نسل کدھر گئی اور اسے پلکوں پر جگہ دینے والے کتنے لوگ بچے ہیں۔ اس کتاب میں یہ سارے احوال یک جا ہو گئے ہیں۔ یہی اردو کا حال ہے، یہی ماضی اور مجھے یقین ہے، یہی مستقبل ہے۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *