جمہوریت، جمہوریت سب دھوکہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آرمی ایکٹ ترمیم کے حوالے سے شوشل میڈیا پر جمہور کی برملا تنقید سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عوام میں جمہوریت پسندی موجود ہے مگر سیاسی جماعتوں میں اقتدار کی ہوس ہے۔ پیپلزپارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں ماسوائے جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل رحمن کے سب نے جمہوریت کی بجائے اپنے اپنے مفادات کو ترجیح دے کر اس بیانیہ کو تقویت دی ہے کہ سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ہی اصل میں جمہوریت کی دشمن ہیں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین کہتے ہیں کہ وہ پچاس ممبران کے ساتھ بل رکوا نہیں سکتے ہیں مگر پراسس کروا سکتے ہیں۔

جناب بلاول صاحب! بل تو مولانا فضل رحمن بھی نہیں رکوا سکتے ہیں مگر مولانا نے پوزیشن تو واضح کی ہے کہ ہم جمہوریت اور جمہور کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے کارکن اور عام عوام بھی آپ سے یہی توقع کر رہے تھے کہ کم از کم پیپلزپارٹی اپنی پوزیشن واضح رکھے گی۔ مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوا اور پیپلزپارٹی نے بھی مسلم لیگ ن والی پوزیشن لی ہے۔ کوئی ابہام، خوش فہمی اور خوش گمانی باقی نہیں رہی ہے۔ عوام اب ہیر پھیر کی باتوں پر یقین نہیں کرے گی۔

سیاسی جماعتوں نے ایکبار پھر عوام کا اعتماد مجروع کیا ہے۔ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ بھی ٹھس ہوکر رہ گیا ہے۔ نواز شریف پر شہباز شریف بازی لے گئے ہیں اور پیپلزپارٹی میں بھٹو ازم پر زرداری کی مفاہمتی سیاست کام کر گئی ہے۔ پیپلزپارٹی جو جمہوریت، جمہوریت کا راگ الاپتی ہے۔ جب وقت آیا تو اسے سانپ سونگھ گیا۔ کیا سب دھوکہ تھا۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول کو آج بلاول بھٹوزرداری نہیں بلکہ بلاول آصف زرداری کہوں گا۔ بلاول میں بھٹو ز کے جینز نہیں تھے یا پھر مار دیے گئے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی قیادت نے آج پھر جیالوں کو مایوس کیا ہے۔ جیالے یہ نہیں کہتے کہ حکمت عملی سے کام نہ لیا جائے اور کوئی ایڈونچر کیا جائے۔ جیالے سمجھتے ہیں۔ مگر جیالے بلاول میں بھٹوز کا پرتو بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو باتیں اور موقف مولانا فضل رحمن نے پیش کیا ہے۔

اس کی توقع پیپلزپارٹی کے کارکن اور جمہوریت پسند صحافی، لکھاری، دانشور اور سیاسی کارکن بلاول زرداری سے کر رہے تھے۔ پرویز مشرف کی سزاکے معاملے پر بھی پیپلزپارٹی نے خاموشی اختیار کیے رکھی مگر جیالے بلا ول زرداری کے بیان سے راضی تھے۔ وہاں بھی مولانا فضل رحمن ہی کھڑے نظر آئے تھے۔ آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل کے حوالے سے مولانا فضل رحمن نے میڈیا سے بات کرتے ہویا بتایا کہ انہوں نے سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو فون کرکے یکساں موقف اپنانے اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا کہا مگر کسی نے رسپانس نہیں کیا اور چپ سادھے رکھی ہے۔

جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اب جمہور کی عوام نہیں رہی ہیں۔ اب عوام کو خود سوچنے کی ضرورت ہے کہ جمہوریت کے جوبت بنائے گئے تھے وہ حقیقت میں پتلیاں ہیں۔ عوام کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ طاقت کے آگے سرنگوں ہیں۔ جمہوریت کے نام پرعوام کو دھوکہ دے رہے تھے۔ دوسری جانب عوام کے اجتماعی شعور نے مصنوعی قیادت مستردکرتے ہوئے آرمی ایکٹ ترمیم پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

عوام کی جو پرتیں سوشل میڈیا پر اظہار رائے کر رہی ہیں۔ انہیں اب تنظیم اور منظم ہونے کی طرف جانے کی ضرورت ہے تا کہ تمام نام نہاد سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں سے نجات حاصل کی جائے اور جمہوریت کے خلاف جانے والی سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو مسترد کیا جائے۔ نئی سیاسی جماعت، نئے سیاستدان ابھارے جائیں۔ تمام بت توڑ دیے جائیں۔ طلبہ، نوجوان، سیاسی کارکن، جمہوریت پسند حلقے آگے بڑھیں۔ نواز شریف، بلاول زرداری اور دیگر کے دھوکے میں نہ آئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *