معذور افراد کے حقوق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈبلیو ایچ او اور نیشنل ہیلتھ سروسز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً تیس ملین افراد معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جن میں سے تین لاکھ کے قریب افراد نابینا ہیں۔ تیس سمبتر دو ہزار اٹھارہ کو سابقہ وزیر خزانہ اسد عمر صاحب نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کو ہدایات دی تھیں کہ تمام بنکز کو نابینا افراد کے لیے اے ٹی ایم مشیز لگانے کا حکم دے۔ اِس پر ہوئی سرکاری خط و خطابت سے معلوم ہوتا ہے کہ بنکوں نے کلائنٹ کے خفیہ بنک کوڈ اور دیگر معلومات کے چوری ہونے اور کسی نقصان سے بچنے کو ابھی تک اس حکم نامہ پر عمل درامد نہیں کیا۔

ٹیکنالوجی کا ماہر نہ ہونے کی وجہ سے میں اِس مد میں درپیش مسائل کوشاید بہترنہ سمجھ پاؤں اور نہ ان کا کوئی حل بتا سکوں، مگر میں احکام بالا کی توجہ بقیہ ستائیس لاکھ معذور افراد کو درپیس مسائل کی جانب دلانا چاہتا ہوں۔

ان ستائیس لاکھ معذور افراد میں سے کم و بیس ایک دو لاکھ افراد معذوری کی وجہ سے بستر سے لگے ہوں گے، مگر ایک بڑی تعداد اب بھی کسی نہ کسی طرح زندگی کی گاڑی کھنچ رہی ہو گی جنھیں یہ احساس دلوانے کی ضرورت ہے کہ وہ بھی اِس ملک کے مفید شہری ہیں اور با عزت طریقے سے دوسروں پر بوجھ بنے بنا اپنے روزمرہ کے امور نپٹا سکتے ہیں۔

اسٹیسٹ بنک کو اگر نابینا افراد کے لیے اے ٹی ایم مشین کو قابل استعمال بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے تو پہلے مرحلے میں برقی اور سادہ وہیل چیئرز استعمال کرتے افراد کے لیے ایسی اے ٹی ایم بوتھ بنائے جائیں جن میں وہیل چئیرز باآسانی داخل ہو سکیں، ڈور کو لاک کرنا آسان ہو اور وہیل چئیرز مشین کے ساتھ لگا کر دائیں یا بائیں ہاتھ سے باآسانی استعمال کیا جا سکے۔

میں نے پورا پاکستان تو گھوم پھر کر نہیں دیکھا مگر اسلام آباد، پنڈی، کراچی، لاہور کوئٹہ اور پشاور جیسے اہم شہر نہ صرف جا چکا ہوں بلکہ وہاں کئی بار اے ٹی ایم مشیز استعمال بھی کر چکا ہوں۔ مگر اِن شہروں میں مجھے ایسی کوئی اے ٹی ایم نظر نہیں آئی تو میں یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں کہ ملک کے دیگر شہروں کا حال بھی ایسا ہی ہوگا۔

ایک مسئلہ ہاتھوں سے معذور افراد کا ہے کیا حکومت اُن کے لیے عددی بنک پاس ورڈز کے بجائے موبائلز میں موجود آنکھوں کو پہچان کر کام کرنے والی ٹیکنالوجی متعارف نہیں کروا سکتی؟ ایسی مشینز میں رقم قدرے نیچے سے نکلتی ہو جیسے بنا ہاتھوں والے افراد پیروں کی مدد سے اٹھا سکیں۔

اِس کے علاوہ سینر سیٹیزن کے لیے بھی الگ اے ٹی ایم بوتھ بناے جا سکتے ہیں۔ جہاں لمبی لمبی قطاریں نہ ہوں اور بوڑھے مرد و زن موسم کی شدت سے بچ کر اپنی رقم نکال سکیں۔

ممکن ہے کہ لوگ میری تجاویز کو سنجیدہ نہ لیں کیونکہ تندرست لوگ کبھی کسی معذور انسان کے احساسات، جذبات اور مشکلات کو نہیں سمجھ سکتا۔

معذور انسان کو سب سے زیادہ جو چیز کَھلتی ہے وہ یہ کہ وہ اب دوسروں کا محتاج ہو گیا ہے۔ اس کی زندگی کمرے سے گھر یا زیادہ زیادہ گلی تک محدود ہو جاتی ہے اور یوں ہم ایک مفید دماغ اور قابل انسان کو وقت سے پہلے ہی مار دیتے ہیں۔

اگر وہ اپنی تنخواہ یا رقم خود نکالنے جائے گا تو دیگر لوگوں سے ملاقات، گپ شپ اور گھر سے مشین تک کا یہ چھوٹا سا سفر اُس کی زندگی میں پھر سے بہار لانے کا سبب بن سکتا ہے۔ اِسے اپنا کام خود کر کے حاصل ہوئی خوشی سے سرشار اور جینے کی تمنا پیدا کر سکتا ہے۔ یوں ہم اِن کے لیے بھی کوئی ایسا مشغلہ یا دلچسپ کام نکال سکتے ہیں جس کا اُنھیں پورے مہینے انتظار رہے گا۔ حکومت معذور افراد کے یہ بنیادی حقوق پورے کر کے خوشیاں بانٹے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

ان تمام تجاویز پر کسی اضافی رقم یا ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں بس مشینوں کی تنصیب، داخلی دروازے اور سیکورٹی کو بہتر بنا کر ہم پندرہ بیس لاکھ معذور مایوس افراد کو پھر سے جینے کی امنگ دے سکتے ہیں۔

میں اے ٹی ایم مشینز استعمال کرتے کروڑوں لوگوں سے بھی یہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی مشین کو خراب، بنا رقم یا غیر محفوظ دیکھیں تو لازماً شکایت درج کروایا کریں۔ آپ کے چند منٹ کسی ایسے ضرورت مند انسان کی مدد کر سکتے ہیں جو آپ کی طرح زیادہ تعلیم یافتہ اور اپنے حقوق کو دفاع کرنا نہیں جانتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *