کیا نُون لیگ کے یُوٹرن نے سویلین بالادستی کی سوچ عام کر دی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آرمی چیف کو عُہدہ پر برقرار رکھنے کی، پارلیمان کے ذریعے کی جانے والی ”قانوُنی سعی“ نے پچھلے تین چار دنوں میں پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر جو بلا شُبہ انقلابی نوعیت کے خدّوخال اُبھارے ہیں۔ اس ”خلائی“ پیش رفت نے جہاں ایک طرف فیصلہ کُن کردار کی حامل سیاسی پارٹیوں کو بے نقاب کرتے ہُوئے لگ بھگ تمام سیاسی و ”جمہُوری قُوتّوں کو راتوں رات“ ایک پیج ”پر لاکھڑا کیا ہے، وہیں سویلین بالادستی کا خواب ڈرائنگ رُومز سے نکال کر سڑکوں بازاروں میں رکھ دیا ہے، اور اب یہ سوشل میڈیا پر موجُود بپھرے سیاسی کارکُنوں سے لے کر ریستورانوں چوراہوں پر گپ شپ کرتے اہل فکر و دانش کی گُفتگُو کا موضُوع بن گیا ہے۔ ۔ ۔

ایک بالغ نظر دوست، ٹی وی ٹاک شو اینکر حنیف قمر کا کہنا ہے۔ ۔

” سول بالادستی کا جو علم نواز شریف نے تھاما تھا بوجوہ وہ اس پر استقامت نہ دکھا سکے، مصلحت اور صعوبتوں کے بیچ وہ عملی طور پر اس علم سے دستبردار ہو گئے اور ان کی پارٹی بھی، جس کا ایک بڑا حصہ شہباز شریف کی قیادت میں اس علم کو لہرانے کے ہی خلاف تھا۔ نواز شریف اور ن لیگ کا یہ طرز عمل جمہوریت پسندوں کے لیے پریشان کن ضرور ہے مایوس کن ہر گز نہیں۔ یہ علم جو نواز شریف نے لہرایا تھا اب وہ چاہیں بھی تو سرنگوں نہیں ہو سکتا، کوئی اور آگے بڑھے گا اور اس گرتے بیانیے کو تھام لے گا، ہاں البتہ نواز شریف قائم رہتے تو تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ اجر کے مستحق قرار پاتے۔

عزیمت اور استقامت کے بغیر تاریخ کے اوراق میں کسی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ ووٹ کو عزت دو اور سول بالادستی کے نظرئیے سے اب نواز شریف اور ن لیگ عملی یو ٹرن لے بھی لیں تو یہ نظریہ اتنا پبلک ضرور ہو چکا ہے کہ عوام کو سمجھ آگئی ہے کہ اس ملک کا حقیقی مسئلہ کیا ہے، کرپشن، احتساب یا حق حکمرانی؟ آج نواز شریف کے ہاتھوں سے گرنے والا علم مولانا فضل الرحمن نے تھام لیا ہے اور اس نعرے اور نظرئیے کی گونج تمام تر بندوبست کے باوجود تھمی ہے نہ رکی ہے۔

مجھے زیادہ خوش فہمی نہیں کہ مولانا فضل الرحمن اس علم کا کماحقہ حق ادا کریں گے لیکن جب تک وہ میدان میں ییں ان کے نظرییے کی حمایت اور علم کی بالادستی کے لیے دعا گو رہنا میرا حق ہے اور ذمہ داری بھی۔ یہ علم اب مولانا سمیت کسی کی ذاتی ملکیت نہیں رہا جو جتنا عرصہ تھامے گا اور جیسا کردار ادا کرے گا تاریخ میں اتنے اجر کا مستحق ٹھہرے گا۔ میرا یقین کامل ہے کہ پاکستان میں حق حکمرانی کا مسئلہ ایک نہ ایک دن حل ہو گا اور سب کو اسے تسلیم کرنا ہو گا اپنے عمل سے۔

آئین اس مسئلے کو حل کر چکا ہے مسئلہ اسے تسلیم کرنے کا ہے۔ طاقت آئین کی زبان نہ سمجھتی ہے نہ اسے ماننے کو تیار ہے یہ طاقت کا ہی جبر ہو گا جو طاقتوروں سے آئین کو منوائے گا اور وہ طاقت ہو گی عوام کی۔ عوام کی طاقت جب تک بروئے کار نہیں آتی تب تک یہ علم بلند ہوتا رہے گا گرتا رہے گا اور اس کے تھامنے والوں کے پاوں شل اور بازو قلم ہوتے رہیں گے۔ یہ کسی شخصیت کا علم نہیں نظرئیے کا پرچم ہے، علم بردار کے تھک جانے یا جھک جانے سے نظریہ ختم نہیں ہوتا۔

دُوسری طرف مُلک کے جمہوُریت پرست، لبرل اور ترقی پسند حلقوں کی اس حوالے سے اُمید ابھی بھی نہیں ٹُوٹی، بلکہ اور بندھ گئی ہے۔

بائیں بازو کے وہ لوگ جو نُون لیگ کے سول سُپریمیسی کے بیانیہ کے حامی تھے، انہیں یقینأ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے سلسلے میں ”ن“ لیگ کے بُوٹ کو عزت دہنے کے فیصلے پر مایوسی ہوئی ہو گی۔ لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس بیانیہ کو جس حد تک عوام میں پذیرائی مل چُکی ہے اس مرحلے پر اس بیانیہ سے غدّاری پر نُون لیگ کی طبعی سیاسی عُمر پُوری ہو جانے کی سی صُورتحال پیدا ہو چُکی ہے۔ ساتھ ہی لگتا ہے اب عمران خان کا سیاسی سفر بھی اختتام پذیر ہو جائے گا۔

اس خلاء کو صرف بائیں بازو کی سیاسی پارٹی ہی پُر کر سکتی ہے۔ کیا ان حالات میں بائیں بازو کی مُلک گیر پارٹی کی ضرورت اور اہمیت بڑھ نہیں گئی؟ تاریخ کا سفر ختم نہیں ہو گیا۔ اس مرحلے پر اس بیانیہ کو صاف اور کھرے لوگ لے کر آگے بڑھیں گے۔ بائیں بازو کے لوگ جو کسی شخصیت کی بجائے نظریے سے مُنسلک ہیں اُن کا آج سے اپنے نظریے کی صداقت پر یقین بڑھنا چاہیے۔ اور اپنے نظریے کی پارٹی سے اُمید وابستہ کرنی چاہیے۔ سول سُپریمیسی سے بھی آگے محنت کش طبقے کی بالادستی کا سفر شروع کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *