اور چوائس بھی کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک سال اور بیت گیا۔ یہ سال ہزاروں بچّے یتیم کر گیا۔ ہزاروں ماؤں کی گود اجڑ گئی۔ لاکھوں عورتیں بیوہ ہوگئیں گزشتہ سال بھی تو یہی ہوا تھا۔ یہی ہر سال ہوتا آیا ہے۔ ہزاروں مائیں زچگی کا عمل مکمل نہیں کر پاتیں اور زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں۔ ایک لاکھ میں سے ایک سو اٹھتر مائیں زچگی کے دوران اپنی جان دے بیٹھتی ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے اس تعداد میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔

گزشتہ سال بھی ہزاروں لوگ صاحب اولاد ہو ئے۔ یہ سال ان کے لئے خوشیاں لایا۔ ہزاروں نوجوان شادی کے بندھن میں بندھے، یہ سال ان کے لئے بھی یاد گار رہے گا۔ پاکستان گزشتہ کئی سالوں سے دو اعشاریہ چار فیصد کے حساب سے اپنی آبادی بڑھا رہا ہے۔ یہ سال بھی آبادی بڑھانے میں گزشتہ سالوں کی روایت پر عمل پیرا رہا۔

گزشتہ سال ایک سو کے قریب بچے پولیو کا شکار ہوئے۔ لاکھوں بچے نمونیا سے مر گئے، لاکھوں اسہال کا شکار ہوئے۔ ہم کچھ نہ کرسکے۔ منشیات اسی طرح بکتی رہی اور نشئی بھوک اور نشے کے لئے سڑکوں پر پہلے سے زیادہ نظر آنے لگے۔ ہماری بے حسی گزشتی سالوں کی طرح دھند کی چادر اوڑھے رہی۔ قصور کے بچوں کا قاتل پھانسی چڑھ گیا اور کئی درندے، آزاد پھرتے رہے، مدرسوں، فیکٹریوں اور ورکشاپوں میں وارداتیں کرتے رہے۔ گزشتہ سال بھی اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے وہ معصوم بچوں کو درندگی کا نشانہ بناتے رہے۔ ان کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہ ہو سکی۔

گزشتہ سال بھی ہمارے سیاستدان اسمبلیوں میں باہم دست و گریباں رہے۔ حکومتی تبدیلی ممبران اسمبلی میں کوئی تبدیلی نہ لا سکی۔ ممبران ایک دوسرے کو زور خطابت کی بنیاد پر چور ڈاکو قرار دیتے رہے۔ عوام کے مسائیل پر گفتگو کے لئے ذرا بھی وقت نہیں نکال پائے۔ وزرا باقاعدہ مہذب انداز میں گالم گلوچ کرتے رہے۔ ملکی مسائیل کو پس پشت ڈال کر ذاتی کردار زیر بحث رہے۔ ٹاک شوز میں انہی مہمانوں کو بلایا جاتا رہا جو لچھے دار گفتگو کے ماہر تھے۔ اینکرز اس طرح کے موضوعات پر بحث کراتے رہے جو ملک کے مسائل تھے ہی نہیں۔

گزشتہ سال بھی پچاس لاکھ کے قریب بچے سکول جانے کے قابل ہوئے مگر ان کے لئے شاید ایک بھی نیا سکول نہیں کھولا گیا۔ بیس پچیس سال کے قریب بچے انٹر میڈئیٹ کرکے ڈگری کے لئے کالجوں میں داخلے کی قطار میں لگے رہے۔ بہت سے داخلوں سے محروم رہے۔ ان بچوں کے لئے کوئی نئی یونیورسٹی نہیں کھولی گئی۔

گزشتہ سال بھی دور دراز کی ماؤں کو زچگی کے لئے ہسپتال تک پہنچنے کا وقت نہیں ملا۔ ہزاروں بچے میڈیکل ایڈ کو ترستے رہے۔ لوگوں کے گردے فیل ہوتے رہے، دل کے دورے بڑھتے گئے۔ کوئی نیا ہسپتال نہ بن سکا، جو بنے ہوئے تھے، وہاں مناسب ادویات نہ پہنچ سکیں۔ ڈاکرز کو سروس سٹرکچر نہ دیا جا سکا۔ وہ ملک چھوڑ کر باہر جانے لگے۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور سٹاف پورا نہ کیا جا سکا اور لوگ کسمپرسی کے عالم میں مسیحاوں کے منتظر رہے۔

گزشتہ سال بھی سرکاری ملازمین مایوسی کا شکار رہے اور یونیئن سازی کی طرف گامزن رہے۔ وکلا کے گروہ بنے، اساتذہ کے گروپ بنے، بزنس کمیونٹی اور کسان جتھے بنا کر اپنے حقوق کے لئے، حتٰی کے صحافی، ڈاکٹرز، انجینیرزاور اعلٰی تعلیم یافتہ افراد کے ساتھ ساتھ نابینا افراد اور پسے ہوئے طبقے بھی گروہ درگروہ اپنی بقا کی جنگ لڑتے نظر آئے۔

گزشتہ سال سب سے زیادہ تکلیف مسلمانوں کو اٹھانی پڑی۔ کشمیر کے مسلمان شدید عذاب میں مبتلا رہے۔ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والے نہتے کشمیریوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ پیلٹ گنیں چلائی گئیں۔ نوجوان ان پیلٹ گنوں سے نابینے ہوگئے۔ انٹر نیٹ اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ مودی شدت پسندی انتہا کو پہنچی تو کشمیریوں کو ان کی شناخت سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی۔ پوری دنیا کی بے حسی گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی برقرار رہی۔

عالمی رائے عامہ کشمیریوں کی کوئی بھی مدد نہیں کرسکی۔ اسلامی سربراہان مملکت بے غیرتی کی آخری حدیں چھوتے ہوتے ہوئے مودی کو ہار پہناتے رہے۔ یمن کے بچے سعودی ظلم کا شکار رہے۔ اسلام کا آفاقی نظام انہیں مسلمان ملکوں کی مدد نہ دلوا سکا۔ مسلمانوں کی حفاظت کے لئے بنائی گئی او آئی سی مسلمانوں کو ذلیل کرنے کے لئے امریکی رہنمائی لیتی نظر آئی۔

پاکستان میں صحافت پر عجیب و غریب پابندیاں لگا دی گئیں۔ صحافی بھی دوسرے شعبوں کے افراد کی طرح بیروزگار ہوتے رہے۔ لاکھوں نئے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔ اشیائے ضروریہ، قیمتوں کے اعتبار سے اشیائے عیاشی بن گئیں۔ فیکٹریاں بند ہوئیں، مزدور بے روز گار ہوئے اور جرائم کی شرح بڑھ گئی۔ لوگ جسمانی سے زیادہ نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوئے۔ پرسان حال کم اور مذاق اڑانے والے احباب کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔

پاکستان کے عوام اس سال بھی خوشحالی کے منتظر رہے۔ حکوت کی تسلیاں اور یقین دہانیاں ان کی امیدوں کو سہارا دیتی رہیں۔ اپوزیشن جیلوں میں چلی گئی مگر وزیراعظم کا غصہ کم نہ ہو سکا۔ پڑوسی ملکوں سے تعلقات مزید خراب ہوئے۔ معاشی ترقی اور کم ہوئی اور اقتصادی کساد بازاری کا دور دورہ رہا۔ ملک البتہ امن کی طرف گامزن رہا۔ دہشت گردی کے واقعات کم ہوئے۔ کراچی اور فاٹا کے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ مذہبی رواداری کو کرتارپور راہداری نے کچھ حوصلہ دیا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کی پاکستان واپسی نے کرکٹ لورز کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیری۔ پناہ گاہیں بے گھروں کو آسرا دیتی نظر آئیں۔ عوام لیکن مہنگائی، بے روز گاری، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے سے پناہ مانگتے رہے، جو نہیں ملی۔ عوام اب بھی کوشش کر رہی ہے کہ وزیر اعظم کے نعرے ”گھبرانا نہیں“ کو سچ ثابت کر سکیں۔ اور چوائس بھی کیا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *