بیانیے کا بحران


پھر نواز شریف کے خلاف ایک طرف چیختے چھنگاڑتے میڈیا کے طوفان کا بند توڑ دیا گیا تو دوسری طرف عمران خان اور خادم رضوی کے کنٹینر اور فیض آباد سجے۔ اور پھر ان ڈراموں کے بطن سے ثاقب نثار اپنے ”شاندار فیصلوں“ کے ساتھ برآمد ہوا لیکن منتقم مزاج نواز شریف نے بھی اب کے بار جی ٹی روڈ کا رُخ کیا اور سول سپر میسی کے نعرے سے پورے ملک کے درو دیوار ہلا کر رکھ دیے پھر جو ہوا سو ہوا لیکن جب ہم فائدے اور نقصان کا تخمینہ لگانے کے لئے میزان تھام لیتے ہیں تو نقصان کے حوالے سے نواز شریف کے حریفوں کا پلڑا بھی کوئی اتنا ہلکا نہیں رہا کیونکہ سول سپر میسی یا ووٹ کو عزت دو کے بیانیئے کا حجم تاریخی حوالے سے نہ صرف سب سے بھاری رہا بلکہ اس کی فعالیت بھی شاندار رہی کیونکہ ایک عام کارکن سے پارٹی لیڈروں تک ہر کوئی اپنی جگہ اعتماد کے ساتھ ڈٹا رہا جبکہ بیانیے کی مقبولیت نے مسلم لیگ سے باہر کے باشعور طبقات کو بھی اپنی طرف کھینچا جس کا منطقی فائدہ نواز شریف کو پہنچنے لگا یہی وہ صورتحال تھی جب بال کی کھال اُتارنے اور بہت دور تک دیکھنے والے تجزیہ نگار اس رائے پر متفق ہوتے گئے کہ نواز شریف نقصان کی نسبت فائدے میں زیادہ رہا کیونکہ وہ اپنے ”مخالفین“ کو عوامی سطح پر ایک مضبوط دھڑے کی حمایت سے نہ صرف محروم کو چکا بلکہ ان کے لئے مستقل طور پر ایک چیلنجنگ قوت بھی تخلیق کرنے میں کامیاب رہا۔

یہ سلسلہ اپریل دو ہزار اٹھارہ (جب نواز شریف وزارت عظمٰی سے معزول کر دیے گئے ) کے بعد آگے بڑھا چونکہ نیا سیاسی منظرنامہ مخصوص اور غیر روایتی بیانیے کی بدولت رائج سیاست سے بہت ہٹ کر لیکن حد درجہ مقبول تھا اس لئے نواز شریف اپنے دکھوں اور بے بسی کے باوجود بھی اپنے طاقت ور حریفوں پر ایک حوالے سے بہت ہی بھاری اور پریشانی کا سبب بنا رہا لیکن جب ہم تازہ ترین صورتحال اور ڈیویپلمنٹ کو دیکھتے ہیں تو بیانیئہ نہ صرف واضح انتشار کا شکار ہے بلکہ وہ اپنی مضبوط اور غیر مبہم سیاسی سٹینڈ سے سرکنے بھی لگا ہے کیونکہ آرمی چیف کو توسیع دینے کے حوالے سے ہونے والی قانون سازی پر مسلم لیگ کا نیا نقطہ نظر بیانیئے کی متضاد سمت میں ہے جس پر پسپائی کا رنگ نمایاں ہے یہی وجہ ہے کہ اگر ایک طرف نواز شریف کے حریفوں نے قدرے سکھ کا سانس لیا ہے تو دوسری طرف پارٹی کارکنان حتٰی کہ بعض اہم لیڈرز بھی نئے بیانیے کی قبولیت سے انکاری ہیں لیکن سب سے زیادہ حیرت انگیز پارٹی کا وہ پراسرار کنج سیاست ہے جہاں سے یہ عجیب و غریب اور غیر متوقع بیانیہ پھوٹا کیونکہ اگلے چند گھنٹوں میں خواجہ آصف کے نام نواز شریف کا خط بھی منظر عام پر آیا اور ایک عرصے سے خلاف معمول خاموشی کی ردا اوڑھے مریم نواز کا پارٹی سے احتججًا مستعفی ہونے کا اشارہ بھی۔

اس صورتحال نے گو کہ پارٹی کارکنوں کو قدرے سنبھالا اور تسکین تو فراہم کردی لیکن یہ سوال ایک شدت کے ساتھ مسلسل اُٹھنے لگا ہے کہ کیا مسلم لیگ پر نواز شریف اور مریم نواز کی گرفت ڈھیلی پڑھ گئی ہے؟

کیا ڈیل گروپ پارٹی پالیسیوں پر حاوی ہو گیا ہے؟

اور کیا بیانیے کو بلڈوز کرنے کی ابتداء ہو چکی ہے؟

اس سیاست کو بعض لوگ شھباز شریف بیانیے کا نام دیتے ہیں جبکہ بعض لوگ اسے شریف فیملی کی آپس کی ہم آھنگی سے تعبیر کرتے ہیں لیکن ان باتوں سے بالاتر یہ سیاسی حقیقت بہر حال اپنی جگہ موجود ہے کہ بیانیئہ بحران کا شکار ہے جس نے مسلم لیگ کی قوت اور اُٹھان کو بہت حد تک مضمحل کر دیا ہے حتٰی کہ دانشور طبقات کے ایک بڑے دھڑے کی حمایت سے محرومی کا سامنا بھی درپیش ہے۔

البتہ ایک بات واضح ہے کہ نواز شریف کی کئی عشروں پر پھیلی سیاست اور مقبولیت (خصوصًا پنجاب میں ) مستقبل میں ان کے لئے اقتدار کی راہ ہموار تو کر سکتی ہے لیکن مضبوط وزیراعظم اور سول سپر میسی کا خواب کسی طور بھی شرمندہ تعبیر ہونے کا امکان معدوم ہوتا جائے گا کیونکہ بیانئے میں داخل ہوتے یوٹرنز پلک جھپکتے میں مسلم لیگ کو اُنیس سو نوے کے اس سیاسی مقام اور بیانیے کی طرف دھکیل دے گا جہاں سے اقتدار کی غلام گردشوں کے راستے تو نکلتے ہیں لیکن جمہوری سر بلندی کا تصور تک مفقود ہو جاتا ہے۔

اس وقت نواز شریف اور اس کی جماعت ایک اعصاب شکن حالات سے دوچار ہیں کیونکہ بیانیے میں پڑتی دراڑ کے حوالے سے ایک واضح اور دوٹوک فیصلے کا وقت ہے یعنی سول سپر میسی کی علمبردار جماعت ایک دوراہے پر کھڑی کردی گئی ہے کیونکہ پسپائی کے قریب تر مؤقف کے حامیوں کے نزدیک یہ سیاسی کامیابی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اقتدار کا حصول ہی سیاسی کامیابی ہے تو پھر انتخابی کامیابی اور سیاسی مقبولیت کو کیا نام دیں جس کے بغیر بھی شوکت عزیز جیسے اس ملک کے وزیراعظم بن جاتے ہیں۔

یہی تو وہ سوال ہے جسے تاریخ نے اُگل دیا تو نواز شریف نے اسے بیانیے کے روپ میں ڈھالا، لیکن سوال پھر وہی کہ اس وقت بیانیے کا سفر کس سمت میں ہے اور اس کی باگ ڈور کن ہاتھوں میں ہے کیونکہ یہ وہ بیانیہ تو ہرگز نہیں جس کا علم ناسازگار موسموں میں جی ٹی روڈ پر نواز شریف نے اٹھایا اور جب وہ پابند سلاسل ہوئے تو اس کی بیٹی مریم ایک دیوانگی کے ساتھ اس کی طرف لپکی اور اسی شان سے اٹھا تے ہوئے کانپی تک نہیں

Facebook Comments HS