” تنہائی کے سو سال“ اور اردو تراجم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سہ ماہی آج نے 1991 میں اپنا گابریل گارسیا مارکیز نمبر شائع کیا تو اس میں مشہور زمانہ ناول ”تنہائی کے سو سال“ کے پہلے تین ابواب کا اردو ترجمہ بھی شامل کیا، جس کی مترجم زینت حسام صاحبہ تھیں۔ بہت عرصہ تک اردو میں بس یہی تین ابواب ہی ترجمہ کی صورت دستیاب رہے، پھر فکشن ہاؤس نے اس ناول کا مکمل ترجمہ شائع کیا اور مترجم ڈاکٹر نعیم کلاسرا تھے۔

ترجمہ کس قدر مشکل کام ہے کہ جب آپ تین ابواب زینت حسام والے پڑھ کر فکشن ہاؤس کا ترجمہ پڑھیں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ زبان کچھ تبدیل ہوگئی ہے، یا اسے یوں کہہ سکتے ہیں کہ زبان کی ادبی چاشنی مانند پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ یہاں بیسیوں جملے بطور مثال پیش کیے جاسکتے ہیں۔ مثلا ناول کے پہلے پیراگراف کا ایک جملہ دونوں تراجم سے ملاحظہ کیجیے :

”دنیا اتنی تازہ تھی کہ بہت سی چیزوں کے کوئی نام نہ تھے اور ان کا ذکر کرتے ہوئے، ان کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہوتا تھا۔ “

(مترجم زینت حسام )

”ماحول ارتقائی مراحل میں تھا، بہت سی چیزیں بے نام تھیں اور ان کی نشاندہی کے لیے اشارہ ضروری تھا۔ “

اسی طرح ڈاکٹر صاحب ایک اور پیراگراف کا ترجمہ کچھ یوں کرتے ہیں :

”اتنی زیادہ اور ناقابل یقین ایجادات میں الجھے ہوئے ماکوندو کے لوگ یہ نہیں سمجھ پائے کہ آخر ان کا مزا اور چس کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ “

(مترجم : نعیم کلاسرا)

” جب اوریلیانو اپنی دلہن کو لینے دروازے پر آیا اور اس کو چرچ کے اندر چبوترے تک لے گیا، وہ سیاہ سوٹ میں ملبوس اور دھات کے تسموں سے بندھے ہوئے وہی چمڑے کے جوتے پہنے ہوئے تھا جو وہ چند سال بعد فائرنگ اسکواڈ کا سامنا کرتے ہوئے پہننے والا تھا“

” جب ارسلا اور امارانتا واپس آئیں تو وہ پیڑ سے اسی طرح بندھا، بارش میں بھیگا، مکمل معصومیت کی کیفیت میں پڑا ہوا تھا۔

انہوں نے اسے پکارا اور اس نے ان دونوں کو خالی نظروں سے دیکھتے ہوئے کچھ کہا، جسے وہ سمجھ نہ پائیں ”

(زینت حسام )

” ارلیانو سیاہ لباس میں ملبوس تھا۔ اس کا بوٹ نیا تھا۔ اس پر کسی دھات کے ٹچ بٹن لگے تھے۔ برسوں بعد فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑے کرنل ارلیانو بوئندا نے وہی بوٹ پہن رکھے تھے“

” ارسلا اور امرانتا لوٹیں تو اس کے کے ہاتھ اور ٹخنے درخت سے بندھے تھے۔ وہ بارش میں بھیگ چکا تھا۔ وہ معصوم بچوں کی طرح دکھتا تھا، انہوں نے باتیں شروع کیں تو وہ انہیں پہچانے بغیر دیکھتا رہا“

( نعیم کلاسرا )

دونوں تراجم سے باب نمبر 7 کا آغاز :

تین دن کی گریہ و زاری کے بعد ایک سہ پہر، جب وہ دودھ کی شیرینی تیار کررہی تھی، اس کے بیٹے کی آواز اس کے کان میں سنائی دی

” وہ اوریلیانو ہے“ وہ چیخی اور بلوط کی سمت اپنے شوہر کو خبر دینے بھاگی

” مجھے نہیں معلوم یہ معجزہ کیسے ہوا لیکن وہ زندہ ہے اور ہم بہت جلد اس کو دیکھ سکیں گے“ ارسلا کو یقین ہوگیا، اس نے گھر کا فرش رگڑ رگڑ کار چمکوایا اور فرنیچر کو از سرنو ترتیب دیا۔

(زینت حسام )

وہ تین دن تک روتی رہی۔ ایک دن وہ ٹافیاں بنانے کے لیے میٹھا دودھ ہلا رہی تھی کہ اس نے واضح طور پر اپنے بیٹے کی آواز سنی

” یہ ارلیانو ہے“ وہ چیخی

” مجھے نہیں معلوم یہ معجزہ کیسے ہوا لیکن وہ زندہ ہے ہم بہت جلد اس سے ملیں گے“

اس نے گھر کا فرش کھرچ کھرچ کر دھویا۔

فرنیچر کی جگہ بدلی۔

(نعیم کلاسرا)

ترجمہ کس قدر مشکل کام ہے کہ جب آپ صرف لفظ با لفظ ترجمہ کرتے ہیں تو اس طرح کے مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں۔ فکشن کو ترجمہ کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ دوسری زبان میں بھی وہ فکشن کا مزہ دے۔ یقینا ڈاکٹر نعیم کلاسرا صاحب کا یہ کارنامہ تو ضرور ماننا پڑے گا کہ انہوں نے اتنے مشکل ناول کا اردو ترجمہ کیا اور اب تک یہی ایک مکمل ترجمہ ہی اردو میں دستیاب ہے۔

اردو میں بہت اچھے تراجم کرنے والوں میں شاہد حمید صاحب اور محمد عمر میمن کا کام بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔

گذشتہ سال جب سہ ماہی آج کا شمارہ 105 شائع ہوا تو اس میں تنہائی کے سو سال کے تین ابواب کا ترجمہ بھی شامل تھا اور ساتھ یہ نوٹ بھی لکھا گیا تھا کہ 2019 کے اختتام تک زینت حسام صاحبہ اس کا مکمل ترجمہ کر لیں گی، شمارہ 106 میں تین مزید ابواب شامل ہوئے اور اس کے بعد کے ابواب کا انتظار جاری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “” تنہائی کے سو سال“ اور اردو تراجم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *