ہم اپنے مزاج کے مارے لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ عجب مزاج یار کا قصّہ تو برطرف اب تو اپنا مزاج بھی سنبھل نہیں پاتا۔ اضطراب کی کیفیت سے دوچار طبیعت میں ٹھہراؤ کم ہی میسر ہوتا ہے۔

صفائی نصف ایمان کا حامل معاشرہ بجا طور پر الفاظ میں صفائی کو ایمان کا نصف ضرور قرار دیتا ہے۔ عملی طور پر یہ صفائی آپ کو ایمان سمیت معاشرے کے کردار و اخلاق بنیادی اشیائے ضروریہ میں بھی شاید میسر آ سکے۔ ملاوٹ، جعل سازی، جھوٹ، دھوکہ، فریب، چرب زبانی کا چلن عام ہونے کی بنا پر کچھ بے اعتبارے قسم کے لوگ ہر چند اپنی ہوشیاری کو بروئے کار لا کر ممکنہ خرابی سے کسی طور خود کو محفوظ کرلیتے ہیں۔ جب کہ ہم جیسے اعتبار اعتماد کرنے والے اکثر کبھی کسی کے آنسوؤں، کسی کے اظہار بے بسی کے آگے جلد ہتھیار پھینک دیتے ہیں۔

کبھی راستے میں ہاتھ پھیلائے ہوئے بھکاری کو بے بس و مجبور سمجھتے ہوئے کچھ خیرات دے دی جائے۔ تو دل مضطرب ہوجاتا ہے کہ خواہمخواہ کچھ دے دیا۔ اگر اعراض کرلیا جائے تو پھر پچھتاوہ جان نہیں چھوڑتا کہ غریب کی مدد کیوں نہ کی۔ کسی کی پریشانی خواہ اس انسان کی اپنے ہاتھوں پیدا کردہ ہو یا حالات کے ہاتھوں مجبور کوئی معمولی غلط قدم اٹھا بیٹھے۔ دل کسی طور قرار نہیں پاتا۔ شاید جینے کے لئے کٹھور دل ہونا ضروری ٹھہرتا ہے۔ ہماری حالت تو کچھ اس کے مصداق ہے۔ عشق قاتل سے بھی، ہمدردی مقتول سے بھی۔

اضطراب کی عمومی وجہ معاشرتی تعلیم و تربیت بنتی ہے۔ جس کا ہمارے معاشرے میں حد درجہ فقدان ہے۔ ان میں کچھ وجوہات کی طرف توجہ دلانا بھی آپ کو خطرہ ایمان و خطرہ جان سے دوچار کرسکتا ہے۔ سو ہم ایسے موضوعات سے کچھ پرے ہوکر دبے پاؤں گزرنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی کبھی سچ بولنے کا بار اٹھانے کے زعم میں فتویٰ جان و ایمان کی زد کا شکار ہونا پڑ جاتا ہے۔ دیکھنے، سوچنے اور بولنے جیسی عادت بد کے حامل ایسے ایمان و جان کے محافظین کے قابو میں آتے رہتے ہیں۔

ہم سے جو گناہ اکثر سرزد ہوتا رہتا ہے۔ وہ کچھ یوں ہے۔ کہ کچھ لوگوں سے ہاتھ ملانے سے اجتناب برتنے کی سعی لا حاصل میں گر کامیاب ٹھہریں تو فتویٰ باز جھیلنا پڑ جاتے ہیں۔ جب اس کے جواب میں حقیقت حال کی طرف توجہ دلانے کی کامیاب کوشش جواب الجواب سامنے رکھ دی جائے تو دفاع پر مُصر بجائے شرمندگی کے ڈھٹائی پر زیادہ زور و شور کے کھڑے نظر آتے ہیں۔ اب اکثر ایسا غالباً میرے ساتھ ہی ایسا ہوتا ہے۔ کہ تنہائی و محفل میں اکثر باذوق احباب پورے جوش و خروش سے اعضائے مخصوص کو کھجا رہے ہوتے ہیں یا خدا جانے سہلا رہے ہوتے ہیں۔

السلام و علیکم سنتے ہی مذکورہ ہاتھ فوراً جزو ایمان کی ادائیگی کے لئے آگے بڑھا دیتے ہیں۔ اب ایسے لمحہ میں نظر انداز کرنے کا نسخہ اگر کارگر نہ ٹھہرے تو ہم جیسے چند ڈھیٹ بغیر وجہ بتائے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرلیں۔ یا زکام وغیرہ کا حیلہ اختیار کرنے پر بھی کئی اپنے مضبوطی ایمان کو تسلیم کروائے بنا نہیں ٹلتے۔ وگرنہ نہ جان محفوظ نہ ایمان۔

نوٹ:احباب آئندہ وجہ قرب و جوار کی ساعتوں میں تلاش کرنے کی سعی کریں۔ ہمارا کمزور ایمان فتاویٰ گیری کے مضبوط نشانوں کی تاب لانے کے لائق نہیں۔ خدارا ہمیں معاف رکھئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply