خوبصورت لوگ، حسین معاشرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

9جولائی 2019 ؁ء کو کینیڈا کے شہر ٹورنٹو پہنچنے کے تیسرے دن ڈاکٹر خالد سہیل نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ تین روز قبل جب ہم ٹورنٹو ائیرپورٹ پہنچے تھے تو امیگریشن پر زیادہ پوچھ گچھ نہیں ہوئی تھی۔ کیونکہ آج کل ڈیکلیر یشن فارم جہاز سے اُترتے وقت یا ائیر پورٹ پر ہاتھ سے فِل نہیں کرتے بلکہ ائیر پورٹ پر نصب شدہ ایک مشین پر خود مکمل کرتے ہیں جہاں پاسپورٹ کا پہلا صفحہ سکین کرنے سے آپ کی تصویر کیمرہ خود بخود لے لیتا ہے۔ امیگریشن افسر ز سے منسوب عملہ آپ کی رہنمائی اور بوقت ضرورت آپ کی مدد بھی کرتا ہے۔

ضعیف، وہیل چئیرز دہ اور نیم خواندہ افراد کے لیے ائیر پورٹ کا عملہ مستعد نظر آتا ہے۔ خواہ بیلٹ سامان اٹھانا ہو، ٹرالی لانی ہو یا فارم فل کرنا ہو۔ ان لوگوں کی بدن بولی اور رویّے سے خوش آمدید جھلکتا ہے نہ کہ رعونت ”کہاں آ گئے ہو میاں؟ “ وغیرہ۔ جو اقوام اس دنیا میں ہی جنت بنا کر زندگی کی رعنایؤں سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہیں ان کے طرز عمل میں تین چیزیں واضح نظر آتی ہیں : ایمانداری، سخت محنت اور انسان دوستی۔ اس کے برعکس جن اقوام کے نقطہ نظر میں جنت بعد از مرگ ہے، بد قسمتی سے ان کے ہاں یہ خصوصیات ناپید ہیں۔ کسی عارضی مستقر کے لیے محنت اور کوشش کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ بقول شاعر:

؂ منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید

نا امیدی اس کی دیکھا چاہیے

ہم نے رفیق ِدیرینہ، نجف احمد لودھی کے بھائی حامد مسعود لودھی ساکن، تھارن کلف پارک (Thorncliffe Park) کو ٹورنٹومیں، عبوری مسکن بنانے کا فیصلہ اور انتظام کر رکھا تھا۔ حامد لودھی کے گھر ڈاکٹر خالد سہیل صاحب شام کو پہنچے اور آتے ہی تازہ تازہ طباعت شدہ کتاب Dervishes Inn ہمیں پیش کی۔ ہ ہمیں یوں محسوس ہوا ا جیسے ہمارا نولود بچہ ڈیلیوری روم کی نرس ہمیں پیش کر رہی ہو۔ حامد لودھی کے فرزند عزیزم طاھا حامد لودھی نے کتاب کے ساتھ ہم دونوں کی تصویر بنائی۔

ہم اس دن چار ادبی بچوں کے باپ بن چکے تھے۔ ہماری پہلی تخلیق Trespass تھی، جس کے اندر ہم نے محمد الیاس کے 29 اردو افسانوں کو انگریزی شارٹ سٹوریز کے قالب میں ڈھالا تھا۔ وہ کتاب سنگ ِ میل لاہور نے 2016 ء ؁میں شائع کی تھی۔ اس کے بعدہم سے ہر سال ایک کتاب اردو سے انگریزی ترجمہ ہوئی۔ 2017 ؁ء میں خرم بقاء کی کلیشے نامی کتاب جس میں کل 27 افسانے ہیں، ترجمہ ہوئی۔ اس کے بعد پاکستانی افسانوں کا انتخاب ترجمہ ہوا۔

اس کا انگریزی نام ”The Incredible Pakistani Short Stories“ اورسب ٹائٹل Sweetheart ہے اس کتاب کو بھی سنگِ میل ہی نے چھاپاھے۔ اس کتاب میں کل تیس افسانوں کو انگریزی شارٹ سٹوریز بنایا گیا ہے اور زیادہ تر افسانہ نگار نئے ابھرتے ہوئے با صلاحیت نوجوان ہیں۔ جو 2000 ؁ء سے بعد کے ہیں۔ ہماری چوتھی کاوش Dervishes Inn ہے۔ یہ کتاب ترجمہ ہونے سے قبل اردو میں۔ ”درویشوں کا ڈیرہ“ تھی۔ گرین زون پبلیکیشنز Greenzone Publications۔ Ontario۔ Canada سے چھپنے والی۔ ”درویشوں کا ڈیرہ“ 50 ادبی و تخلیقی خطوط کا مجموعہ ہے۔ جن کو لکھاری خواب نامے کہتے ہیں۔ رابعہ الرّبا، اردو افسانے میں اہم نام ہے۔ لاہور میں رہائش پذیرادیبہ و شاعرہ نے اردو ”افسانہ عہد حاضر میں“ کے نام سے ایک انسائیکلو پیڈیا جس کو نیشنل بک فاؤنڈیشن نے چھاپا ہے، مرتب کر کے ادبی دنیا میں اپنا لوہا منوایاہے۔ ہم جب 2018 ؁ء میں تیس افسانوں کا انتخاب کر کے ترجمہ کرنے میں مصروف تھے ان دنوں رابعہ کا افسانہ : سویٹ ہارٹ SWEETHEART موصول ہوا۔ اس افسانے نے مجھے ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ میری رابعہ سے قلمی دوستی ہو گئی۔ رابعہ نے میرا تعارف ”درویشوں کا ڈیرہ“ کے میزبان ڈاکٹر خالد سہیل سے کروایا اور یوں رابعہ مجھے درویشوں کے ڈیرے تک لے آئی۔ میں نے کتاب کا نام Dervishes Inn کیوں رکھا؟ اس کے پیچھے ایک کہانی ہے۔ ”یہ کہانی پھر سہی“

میں درویشوں کے ڈیرہ پر قریب چھہ ماہ درویش خالد سہیل اور رابعہ کے ساتھ قیام پذیر رہ کر اس ادبی و تخلیقی رہائش گاہ کو Dervishes Inn بنانے میں کامیاب ہو گیا۔

اب یہاں انگریزی، اردو، پنجابی، فرانسیسی سمجھنے والے درویش ان کا تعلق خواہ کسی قوم، ملک، رنگ، نسل یا مذہب سے ہو خوشی خوشی آکر قیام کر سکتے ہیں۔ یہ سرائے نہ صرف حق کے

متلاشیوں کے نام سے منسوب ہے بلکہ یہاں آنے والے درویش ادیب، شاعر، فلاسفر، آرٹسٹ اور دانشور درحقیقت حق کی تلاش کے سفر کے مسافر ہیں۔ بقول ڈاکٹر خالد سہیل ایک سنت، سادھو صوفی، ادیب، شاعر، دانشور مرد یا عورت ہو سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ حق کی تلاش میں مخلص ہو۔ اس میں رنگ، نسل، مذہب یا جنس کی کوئی تفریق نہیں۔

چائے سے متواضع ہونے کے بعد ہم حامد لودھی کے گھر سے رخصت ہوئے۔ ڈاکٹر خالد سہیل ہمیں سیدھا ڈاؤن ٹاؤن میں واقع گولڈن تھائی ریسٹورنٹ Golden Thai Restaurant لے آئے۔ یہ ریسٹورنٹ ٹورنٹو کے ادیبوں کا Pak Tea House کی طرز کا مقام ہے۔ وہ ایک یادگار اور خوبصورت شام تھی۔ وہاں ہم نے اپنی تازہ طباعت شدہ کتاب ”The Incredible Pakistani Short Stories“ ڈاکٹر صاحب کو پیش کی۔ ہماری تصاویر وہاں موجود میزبان دوشیزہ جو میری Marry جو ویٹرس کا کام کرتی ہے، سے فرمائش پر بنوائیں۔

حسینہ کو جب ڈاکٹر صاحب نے ہمارا بتایا تو وہ بہت متاثر ہوئی۔ میری نے بتایا کہ وہ بھی کتابیں پڑھنے کی بہت شوقین ہے۔ اس نے amazon کا ایڈریس نوٹ کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ آج ہی کتاب آرڈر کرے گی۔ اس ریستوران پر کام کرنے والی لڑکی ہمیں متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی کر گئی۔ کیونکہ ہم نے کتب بینی کے شوقین ویٹر اپنے ملک میں نہیں دیکھے تھے۔ بلکہ یہ عادت ہمارے ملک میں اشرافیہ میں بھی ناپید ہی ہوتی جا رہی ہے۔ یہ سوچتے ہوئے ہمیں یاد آیا کہ ایک ماہ قبل ہم نے ا پنی دوسری شارٹ اسٹوری کی کتاب کی دو کاپیاں دو سینئیر ادیبوں کو پڑھ کر تبصرہ کرنے کے لیے دی تھیں۔ وہ حضرات تبصرہ تو خیر کیا کرتے، انھوں نے کتب پڑھنی بھی گوارا نہیں کیں۔ ابھی تک جواب کا انتظار ہے۔

رات قریب گیارہ بجے درویش (ڈاکٹر سہیل) کے گھر، جس کو وہ ”کٹیا“ کہتے ہیں، وارد ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب کی رہائش گاہ وھٹبی Whitby میں ہے۔ یہ جگہ ٹورنٹو کے مرکز سے چالیس پچاس منٹ کے فاصلے پر ہے۔ گھر جانے سے پہلے ڈاکٹر صاحب نے اپنا کلینک دکھایا جس کو 20 سال قبل قائم کرتے وقت انہوں نے مطب برائے تخلیقی طریقہ علاج Psychotherapy Clinic Creative کا نام دیا تھا۔ کلینک ایک کشادہ Basement میں قائم ہے جہاں کتابوں اور کچھوؤں کی بہتات ہے۔

آپ کو وہاں ہر سائز کے کچھوے ملیں گے۔ جگہ جگہ بڑے، درمیانے اور چھوٹے سائز کے کچھوے رکھنے کے پیچھے یہ فلسفہ کار فرما ہے :۔ : ’ ”Slow and steady wins the raceاگرچہ Turtles بے جان ہیں مگر ڈاکٹر صاحب کی ماحول کو فراھم کردہ مستقل توانائی سے جاندار نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے مریضوں کی تعداد یعنی انتظاری فہرست waiting list تین سو کے قریب ہے۔ گویا اگر آپ کو اپنا ذہنی معائنہ کروانا ہو تو آپ کی باری ایک سال بعد آئے گی۔ وہ ہر مریض کو ایک گھنٹہ دیتے ہیں۔ برعکس حکومتی قوانین کے جو ایک مریض کو آدھا گھنٹہ دیکھنے پر بھی قانع ہیں۔

اگلی صبح ایک ادبی ناشتے کا اہتمام تھا جو Eggs Smart نامی مقامی ریسٹورنٹ میں تھا۔ وہاں پر میرے اعزاز میں تین اور ادبی شخصیات کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ ان میں مارسلینہ نینی (Marcelina Naini) جو ڈاکٹر صاحب کے کلینک پر سیکرٹری کے طور پر کام کرتی ہیں، کرس اینڈرسن، جو تاریخ دان ہیں (Chris Anderson) اور سیّد حیدر شامل تھے۔ جو اہم مزاح نگار ہیں۔ ناشتے پرادبی بہت گفتگو دلچسپ رہی۔ اس کے بعد آثار قدیمہ اور ٹاریخ جیسے موضوعات نے ہلکے پھلکے ناشتے کو کسی قدر ثقیل بھی بنایا۔ مگر ایک لمحہ بھی بوریت کا احساس نہ ہوا۔ (جاری ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *