میڈیا کے لئے تھپکیاں اور تھپڑ جو نظر نہیں آتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

30 دسمبر کی رات ایک ”مقبول“ دانشور اور ٹی وی اینکر اپنا ٹاک شو ختم کر کے ابھی ”آف ایئر“ ہوئے ہی تھے کہ ٹھک سے ان کے موبائل پہ ”ٹویٹر والے صاحب بہادر“ کی کال آگئی، ٹویٹ الدولہ صاحب بہادر بہت خوش تھے، صاحب بہادر نے سی ایس ایس پاس اس اینکر کی ”پرفارمنس“ کو سراہتے ہوئے کہا ”آپ نے کچھ زیادہ ہی ڈوز دے دی، ہمیں اس بندے سے اتنی پرابلم نہیں ہے“ مذکورہ ٹاک شو میں ایک نہایت اہم حکومتی عہدے پر ”لاڈلے“ کی طرف سے حال ہی میں رکھے گئے ایک ایڈوائزر کے تقرر کو ہدف تنقید بنایا گیا تھا۔

باخبر ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کے امور بارے مشیر کے عہدے کے لئے ایک امریکی یونیورسٹی سے ”امپورٹ“ کیے گئے معید یوسف کی تقرری اور نیب قانون کو ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے toothless یعنی نرم بنانے سمیت حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے ان دونوں اقدامات کی بابت مقتدر حلقوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جس پر ان حلقوں میں ان دونوں ایشوز پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو ان تحفظات کے بارے میں آگاہ بھی کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتدر حلقوں میں یہ احساس جنم لے رہا ہے کہ ”لاڈلا“ اب آہستہ آہستہ فیصلہ کن کردار کی حامل قوتوں کے اثرونفوذ سے خود کو نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگرچہ ”ٹویٹر والے جرنیل“ کا مذکورہ فیورٹ اینکر سے یہ کہنا تھا کہ اس نے اس رات کے شو میں حکومت کو ضرورت سے زیادہ ہی رگڑا لگا دیا ہے، بہرحال۔ اس کی ”پرفارمنس“ سے ”موگیمبو“ خوش ہوا تھا۔ ۔

اور اگلی ہی رات جب عاصمہ جہانگیر کی ہونہار بیٹی اور میچور ٹی وی اینکر، منیزے رخصت ہوتے سال کی یاد میں اپنا لائیو شو کر رہی تھی تو اس کے دوران کئی بار گفتگو کو mute کر دیا گیا۔ شو کے شرکاء میں چاروں کے چاروں مہمان مبصر یعنی panelists صحافی تھے، ان میں شامل پشاور والے مہمان نے آنے والے برس کی بابت ابھی پہلا جملہ پورا بھی نہیں کیا تھا، یعنی ابھی اتنا ہی کہا تھا ”آپ کو پتہ ہے میں تو یہاں پختونخواہ میں بیٹھی ہوں، اور پختونخواہ تو پچھلے 80 سال سے۔ ۔ ۔ “ اور آڈیو بند ہو گئی جو مسلسل 7 سے 10 سیکنڈ تک بند رہنے کے بعد ایک لمحے کے لئے کھلتے ہی دوبارہ بند کر دی گئی۔ ہلکے پھلکے موضوع پر جاری اس نہاiت ”بے ضرر“ شو کے اس حصے میں بار بار اسے mute کیا گیا۔

تو یہ ہے ان تھپکیوں اور تھپڑوں کی آخری یعنی نرم ترین شکل جو بھونچال کی زد میں آئی اس ”جمہوری“ ریاست میں ان میڈیا والوں کو روز ”پڑتے“ ہیں جو ابھی تک سکرین پر موجود ہیں۔

پاکستان کو پوری دنیا میں وہ ”اکلوتی“ ریاست ہونے کا اعزاز حاصل ہے جہاں آج 21 ویں صدی میں بھی بظاہر ایک جمہوری نظام حکومت ہوتے ہوئے میڈیا والوں کو صرف تھپکیاں اور تھپڑ ”جڑنے“ کی غرض سے ایک ریاستی ادارے کے ایک شعبے کو ایک پوری ایمپائر میں بدل دیا گیا ہے، جہاں سیکڑوں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان دھڑا دھڑ ذرائع ابلاغ میں پیش کیا جانے والا مواد (content) مانیٹر کرتے ہیں تاکہ یہ تھپکیاں اور تھپڑ بانٹنے کے لئے ”مستحقین“ کا چناؤ کیا جا سکے۔

اور میڈیا کے اس دور میں جب دنیا ایک ”گلوبل گاؤں“ بن چکی ہو، ”حق داروں“ کو خراج دیا بھی کیوں نہ جائے کہ ریاست تو ماں کے جیسی ہوتی ہے نا !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *