اسقاط حمل: کچھ پہلو یہ بھی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسقاط حمل سے متعلق ہمارے یہاں شاید اتنی ہی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جتنی کسی غیر بالغ کو جنسی تعلق کے حوالے سے ہوتی ہیں۔ اور اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں ایک اسے غلط سمجھنا دوسرا اس پہ بات کرنے کو برا یا غیر ضروری سمجھنا۔ برا سمجھنا ذاتی اخلاقیات کے ذمرے میں آتا ہے جس کا ہر کسی کو حق ہے۔ لیکن یہ فیصلہ کرنے سے پہلے کہ ہم کسی عمل کو درست یا غلط سمجھ رہے ہیں اس کے حوالے سے مکمل معلومات ہونا بہت ضروری ہے۔

ہمیں لگتا ہے کہ اسقاطِ حمل کا مطلب ایک مکمل بچے کو ماں کے جسم میں مار دینا ہے جبکہ ہر بار یہ سمجھنا درست نہیں۔ دوسری ایک اور بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ایسا صرف غیر ازدواجی تعلقات چھپانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ بھی کافی غلط سوچ ہے پوری دنیا میں پاکستان سمیت زیادہ تر شادی شدہ خواتین گھریلو، معاشی یا جسمانی مسائل کی وجہ سے اسقاط حمل کرواتی ہیں۔ یہ اسقاط حمل عموما حمل کی پہلی سہ ماہی میں کیے جاتے ہیں۔ حمل کی آخری سہ ماہی میں کیے جانے والے اسقاط حمل نا صرف کم ہیں بلکہ ماں کے لیے خطرناک بھی ہیں۔

فرق صرف اتنا ہے کہ بہت سے ممالک جہاں ابارشن سے متعلق واضح قوانین ہیں وہاں خواتین کو ابارشن کے لیے بہتر سہولیات میسر ہیں۔ انہیں اپنی جسمانی صحت کے بارے میں معلومات زیادہ ہیں۔ ان ممالک میں آخری سہ ماہی میں اسقاط حمل کا تناسب صرف ایک فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔

پاکستان اور ہندوستان جیسے ترقی پذیر ممالک جو کہ واضح پدرسری نظام بھی ہیں یہاں اسقاط حمل کی ایک وجہ حمل کا لڑکی ہونا بھی ہے۔ اور یہ پہلی سہ ماہی میں پتا ہونا ممکن نہیں یعنی اس بنیاد پہ کیے گئے اسقاط حمل ماں کی زندگی داؤ پہ لگا کر کروائے جاتے ہیں اور ان میں سے اکثریت میں ماں کی اپنی مرضی شامل نہیں ہوتی۔

اگر وجہ یہ نہ ہو جو اوپر بیان کی گئی تو عموما اسقاط حمل کے فیصلے پہ قصور وار عورت کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے ایک دفعہ کا غیر ذمہ دارانہ تعلق اسی عورت کے لیے ایک اضافی ذمہ داری بن جاتا ہے جس میں مردوں کی اکثریت اپنی کوئی ذمہ داری لینا ضروری نہیں سمجھتی۔

ہمارے دیہاتوں میں فیملی پلاننگ سے متعلق معلومات بہت کم ہیں۔ دوسری طرف ابارشن لیگل ہونے کے باوجود اس کو ہر سچویشن میں گناہ سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے بہت سی خواتین گھر والوں کو اعتماد میں لیے بغیر اس خطرناک عمل سے گزرتی ہیں۔ کیوں کہ انہیں لگتا ہے کہ ان کامسئلہ کوئی سمجھنے کی کوشش نہیں کرے گا اور یہ سوچ کسی حد تک درست بھی ہوتی ہے۔ ایک عورت جسے ڈاکٹر نے واضح بتایا ہو کہ اس کا جسم حمل نہیں سہہ سکتا ایسے میں حمل ہونا صرف اس کی غلطی نہیں ہوگی۔ موجودہ اولاد کو بہتر زندگی دینا اس سے زیادہ اہم ہے کہ آپ اپنی اولاد کی نفری میں کسی مخصوص جنس کا اضافہ چاہتے ہوں۔

ایک اور نکتہ سمجھنا اہم ہے۔ ایک ایسی لڑکی جو اپنی مرضی سے کسی تعلق کاحصہ بن رہی ہے وہ ہر ممکن حد تک اسے محفوظ اور پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرے گی بلکہ فریقین کی کوشش یہی ہوگی۔ جب ہمیں کچروں کے ڈھیر پہ مکمل و نامکمل بچے ملتے ہیں تو ہم سب سے پہلے یہی سمجھتے ہیں کہ یہ کسی ایسے گناہ کا شاخسانہ ہیں جہاں دونوں کی مرضی شامل تھی جب کہ زیادہ امکان ہے حقیقت اس کے برعکس ہو۔ ایک لڑکی جسے زبردستی اس تعلق میں شامل کیا گیا ہو ایسے میں والدین قانونی مدد لینے کی بجائے معاملے کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یا اس تعلق بلکہ جرم کا ذمہ دار مرد، لڑکی کو اس پہ مجبور کرتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں کہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہوگا۔ ہر دفعہ عورت یا لڑکی مجبور نہیں ہوتیں۔ لیکن ہمارے جیسے معاشرے میں اکثریت اس کیٹیگری سے تعلق رکھتی ہیں جن کا تذکرہ اوپر کیا گیا۔

کوشش کریں کہ یہ نوبت نہ آئے کہ مجمعے میں اپنی اولاد کو یہ طعنہ دینا پڑے کہ اسے پیدا کرکے آپ نے غلطی کی۔ حمل ہونا یا اسقاط حمل دونوں میں فریقین کا ایک دوسرے کی جسمانی، معاشی اور معاشرتی مجبوریوں کو سمجھ کر ایک متفقہ فیصلہ ضروری ہے جس میں کسی بھی تیسرے کا اپنا فیصلہ مسلط کرنا نامناسب ہے۔ دوستانہ مشورہ اور مخلصانہ مدد کی بات الگ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 54 posts and counting.See all posts by absar-fatima

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *