پاکستان امریکی پول میں کھیلے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عموماً کسی ملک کی خارجہ پالیسی کی قسمت کا فیصلہ، اس ملک کی عوام اور سیاسی قوتیں کرتی ہیں۔ لیکن پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے، جس کی قسمت کا فیصلہ ہمیشہ اس کی خارجہ پالیسی کرتی رہی ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کبھی بھی آزاد نہیں رہی۔ برطانوی میراث میں ملی ہوئی عسکری اور سول بیوروکریسی نے پہلے سے طے کر لیا تھا، کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کس نہج پر اور کس طرز کی ہوگی۔ کون دوست اور کون دشمن ہوگا؟ کون ”اہل کتاب“ اور کون اللہ کا دشمن سمجھا جائے گا؟ کس صف میں کھڑا ہو کر، پاکستان کس سمت کو کعبہ و قبلہ سمجھے گا؟ ماضی میں جس نے بھی اس پالیسی سے سرتابی کی کوششیں کی ان کا سر ان کے کاندھوں پر نہیں رہا۔

اس خارجہ پالیسی بلکہ عسکری خارجہ پالیسی کی افادیت روس کے انہدام پر عتربود ہوئی، تو پاکستان نے نئی دنیا میں اپنی ضرورت ثابت کرنے کی خاطر سی آئی اے کے کھڑے کیے گئے جہادی ڈھانچے، (جس کا برملا اعتراف شہزادہ سلیمان نے کئی بار کیا ہے ) ، کے انہدام اور اس کے ملبے کو ٹھکانے لگانے کے لئے اپنی خدمات پیش کرکے اپنی خارجہ پالیسی کے تسلسل کو مزید چند عشروں تک کامیاب بنانے کی کوشش کی۔ جب وہ اہداف تقریباً مکمل ہوتی ہوئی محسوس کی گئی، تو پاکستان کے لئے ایف اے ٹی ایف، ڈالر کی اونچی اڑان، عالمی فنانسرز سے قرضہ جات کی حصول اور ریشیڈولنگ میں مشکلات، مختلف سرحدات پر روزانہ بڑھتی ہوئی جھڑپیں، اندرون ملک انتشار اور بھانت بھانت کے احتجاجی اور مرکز گریز گروپوں کی عالمی فورمز پر پذیرائی جیسے مسائل کھڑے کر کے احساس دلایا گیا، کہ ہنی مون اور نظر انداز کرنے کا دور گزر چکا۔ جس کے سدباب اور اپنی افادیت کی اظہار کی خاطر پاکستان نے چین کے ساتھ سی پیک معاہدہ کر کے اس کا اتنا شور مچایا کہ ایک دفعہ پھر علاقائی سٹریٹیجک معاملات میں امریکہ نے پاکستان کی اہمیت کو دوبارہ محسوس کیا۔ جس کے بنا پر پاکستان کی سیاست میں اتھل پتھل مچاکر نئے سٹ آپ کے لئے تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔

زرداری صاحب ایران سے گیس پائپ لائن اور چین سے سی پیک کے منصوبے لاکر نواز شریف کے حوالے کرگیا تھا۔ دونوں منصوبے امریکہ کے مفادات اور خواہشات کے برخلاف تھے۔ اس لیے دونوں کو جیل کی دال کھلائی گئی۔

پاکستان میں لگائے جانے والی مارشلائیں یا ماضی میں مختلف جرنیلوں کو ملنے والی ملازمانہ توسیعات، کبھی بھی ملکی ضروریات کی وجہ سے ظہور پذیر نہیں ہوئی۔ کیونکہ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ پاکستان کے اردگرد کچھ بین الاقوامی معاملہ ہو رہا ہو تو پاکستان میں چھ چار مہینے پہلے سیاسی حکومت مشکلات کا شکار ہوئی ہوتی ہے۔ اور نیا نظام، جس میں بروقت اور تیز ترین فیصلے کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، وہ عمل پذیر ہوچکی ہوتی ہے۔ جیسے کہ سیٹو، سینٹو اور بڈھ بیر سے پہلے ایوب خان، افغان وار سے پہلے ضیاءالحق، نائن الیون سے پہلے پرویز مشرف، اور طالبان کی صفائی کے لئے جنرل کیانی۔

ان سب نے اپنی ملازمت میں توسیع یا تو خود اور یا برائے نام سیاسی حکومتوں سے حاصل کیں۔ کیونکہ وڈے چوہدری کو اپنی معاملات میں روانی اور تسلسل کے لئے ایک فوکل پرسن کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ اس تسلسل میں خلل ڈالنے کا جس سے بھی خدشہ ہو وہ بھٹو اور اس کی بیٹی کی طرح ہمیشہ زندہ جاوید بنا لئے جاتے ہیں۔ غالب امکان ہے کہ نواز شریف اور زرداری کو بھی اندرونی قوتوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے اور توسیع ملازمت کے لئے بڑے چوہدری کا ”مثبت کردار“ ادا کرنے کا پیغام ملا ہو۔

کیونکہ مثبت کردار ادا نہ کرنے کی صورت میں دو سیاستدانوں کی مثال کافی ہے۔ ویسے بھی ان کی اولادیں، جائیدادیں۔ بنک بیلنسسز، ماضی میں ان کے ساتھ رکھے گئے اندرون ملک، رویئے کی بنا پر، بیرون ملک ہیں۔ مشرف کو کھل کر کھیلنے کی خاطر نواز شریف کو پکڑ باہر بھیجا گیا تھا۔ اب بھی باہر کیا گیا ہے۔ اگر بلاول مثبت اور لیڈنگ رول کے لئے تیار نہیں ہوا تو زررداری صاحب بھی ”علاج“ کے لئے بیرون جا سکتے ہیں۔

چین اور امریکہ کے درمیان رواں ٹھنڈی لڑائی کا ٹورنامنٹ لگتا ہے پاکستان میں شروع ہوگیا ہے۔ جس کی تیاری کی خاطر نواز شریف اور زرداری کی کوچنگ پر جذوقتی پابندی لگادی گئی تاکہ گراونڈ اور ٹیم کی سیلکیشن اور تیاری خاطرخواہ انداز میں ہوسکے۔ مقتدرہ قوتوں کے درمیان اس ٹورنامنٹ میں حصہ لینے یا نہ لینے کے بارے میں ابھی تک تذبذب اور کشکمش کی صورتحال موجود ہے۔ امریکی پول میں کھیلنے والوں کے دلائل جتنے حقیقی اور وزن دار ہیں۔

چینی پول میں کھلینے کے خواہشمندوں کے خدشات اتنے ہی اندوہناک ہیں۔ مولانا کا دھرنا، اور اس کے بدلے میں لی گئی یقین دہانیاں اگر چینی پول میں کھیلنے والوں کی خواہشات کی آئینہ دار ہیں، تو نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی پس پردہ کوششیں اور دونوں پولز کو حمایت کا یقین دلانا رئیل پالیٹک اور ان کی بے بسی کا اظہار ہے۔

امریکی کی ٹوکن عسکری امداد، نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی مصلحت آمیز سیاست، وزیر اعظم کے کوالالمپور جانے کی بجائے اچانک سعودی عرب کا دورہ، ایرانی جرنیل کے قتل کے بعد جنرل باجوہ کو امریکی وزیر خارجہ کا ٹیلیفون، نیز خلیج فارس میں ظہور پذیر ہونے والی غیریقینی اور ابتر ہوتی ہوئی صورتحال، اور سعودی اور ایرانی مخاصمت سے لگتا ہے، کہ پاکستان امریکی پول میں کھیلے گا۔ کیونکہ چین کی دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بے شک اونچی ہو، نہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے شکنجے سے نکالنے، نہ آئی ایم ایف سے نئے قرضہ دلانے یا لئے گئے قرضے کی ادائیگی میں سہولت دلانے، نہ سرحدات کی مخدوش ہونے والی صورتحال میں کوئی مثبت کردار ادا کرنے، نہ ڈالر کی اونچی اڑآن میں مدد کرنے اور نہ اندرون ملک پیدا ہونے والے انتشار میں معاونت کرسکتا ہے۔

روس اور مغرب کی سیاسی لڑائی سے لے کر آج تک پاکستان نے وقتی مفادات کے حصول کی خاطر جی بھر کر اس بہتی گنگا میں اشنان کیے ہیں۔ جس کا زیادہ بہاؤ عسکری حلقوں کی طرف رہا۔ جس کی مثالیں عسکری انڈسٹریل بزنسز، عسکری اشرافیہ خاندانیں اور ان کی سیاست ہے۔ مغرب اور امریکہ نے پاکستانی قوم کی بھلائی یا انسانی حقوق کی کبھی بھی کوئی فکر نہیں کی ہے۔ بلکہ ہمیشہ اپنے مقاصد اور مفادات کی خاطر ڈکٹیٹروں اور غیرجہموری قوتوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

البتہ ان کو دیے گئے قرضے آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے ذریعے پاکستانی عوام سے وصول کیے گئے ہیں۔ جس کی بناء پر سوشل سیکٹر مکمل طور زبوں حالی کا شکار رہا۔ امید کی جاسکتی ہے کہ اس دفعہ امریکی پول میں کھلینے کی وجہ سے جو بھی مراعات، رائلیٹی اور سہولیات ملیں گی۔ انہیں کافی سوچ و بچار اور احتیاط کے ساتھ انسانی ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔ کیونکہ ممکن ہے یہ آخری موقع ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *