کیا پاکستان پیپلزپارٹی نے سمجھوتہ کرلیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آرمی ایکٹ بل میں ترمیم کے حوالے سے اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے کارکنان کی جانب سے زبردست تنقیدی ردعمل آیا، اپوزیشنکی تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حکومتی بل کو سول بالادستی کا ایک اسٹینڈرڈ بنالیا جوبذات خود ایک بحث طلب معاملہ ہے کہ آیا واقعی یہ ایکٹ سول بالادستی کا کوئی معیار تھا یا نہیں تاہم اپوزیشن کی سیاسیجماعتوں کے کارکنان کا اختلاف رائے ان کے باشعور ہونے کا ثبوت ہے، حکمران جماعت پی ٹی آئی کے کارکنان کے برعکس اپوزیشنکی سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے اختلاف رائے کے ایک مثبت رویے کا مظاہرہ کیا جس کی جتنی ستائش کی جائے وہ کم ہے کیونکہ سیاسی جماعتوں میں تنقید کا عمل ہی ان کے سیاسی جماعت ہونے کی ایک دلیل ہوتا ہے۔

جب آرمی ایکٹ بل میں ترمیم کے بل کا معاملہ سامنے آیا تو مسلم لیگ نون نے فوری طور پر غیرمشروط حمایت کرکے مشترکہ اپوزیشن کی جانب سے کسی بھی قسم کی مزاحمت یا تجاویز کے امکان کو یکسر ختم کردیا، اگر مسلم لیگ نون غیرمشروط حمایت نہ کرتی اور اپوزیشن کے مشترکہ پلیٹ فارم سے بل کے حوالے سے حکومت سے بات کی جاتی تو بل میں اپوزیشن اپنی مرضی کی ترامیم کرواسکتیتھی تاہم مسلم لیگ نون کی غیرمشروط حمایت کے بعد یہ آپشن نہ رہا۔

بغیر کسی مشاورت کے مسلم لیگ نون کے اقدام کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی اپنے 55 ووٹوں کے ساتھ کسی بھی بات کو منوانے کیپوزیشن میں نہیں تھی، یہ کافی پیچیدہ صورت حال تھی، اگر پاکستان پیپلزپارٹی بل کی یکسر مخالفت کرتی تو یہ آئسولیشن میں جانے کے مترادف تھا کہ جس کے بعد پاکستان میں سول بالادستی کو منوانے کے تمام دروازے شاید بند ہوجاتے، پاکستان پیپلزپارٹیبغیر کسی پالیسی بحث کے بل کی حمایت بھی نہیں کرسکتی تھی چناچہ پی پی پی نے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلایا، جسمیں بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں راجہ پرویز اشرف، فرحت اللہ بابر، رضا ربانی، شیری رحمان، شازیہ مری و دیگر پارلیمانی وقانون سازی کے امور کے ماہرین نے بیٹھ کر طویل مشاورت کی، یہ بھی ایک دلچسپ نکتہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے علاوہ کسیدوسری جماعت نے اس حوالے سے کوئی پالیسی بحث نہیں کی بلکہ بغیر کسی مشاورت کے غیرمشروط حمایت پر اکتفا کیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے قبل ایک بڑی پیش رفت یہ ہوئی تھی کہ بلاول بھٹو نے اسٹینڈ لے کرپی ٹی آئی اور مسلم لیگ نون کے آرمی ایکٹ بل کو فوری منظور کرنے کے منصوبے کو ناکام بنادیا تھا، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نون نے منصوبہ بنایا تھا کہ تین جنوری کو جمعے کے روز نماز سے قبل قومی اسمبلی اور نماز کے بعد سینیٹ سے بل کو منظور کروالیاجائے گا، یہ ایسی صورت حال تھی کہ کسی پارلیمنٹرین کو بل کی نقول تک فراہم نہیں کی گئی تھیں، اس موقع پر بلاول بھٹو کا کافیسخت ردعمل آیا اور انہوں نے پارلیمانی قواعد و ضوابط کی پیروی پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل کو قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں بھی پیش کیا جائے، حکومتی مذاکراتی ٹیم کو بھی انہوں نے اپنا مؤقف واضح طور پر بتادیا اور حکومت پارلیمان کو بائی پاس نہ کرنے پر مجبور ہوئی اور قانون سازی کے سلسلے میں پارلیمانی قواعد و ضوابط پر عمل شروع ہوگیا۔

دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے حکومتی بل میں اپنی ترامیم پیش کرنے کا اعلان کردیا، سینیٹر رضاربانی نے پارٹی کی سی ای سی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ حکومتی بل اور عدالتی احکامات میں بظاہر فرق نظر آرہا ہے، پاکستان پیپلزپارٹی کے قانون ساز ماہرین نے بل میں تین ترامیم کی تجویز دی، پاکستان پیپلزپارٹی کی پہلی ترمیم یہ تھی کہوزیراعظم کو پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کو سروسز چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی وجوہات ریکارڈ کرانا ہوں گی، دوسری ترمیم کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے پارلیمان کو وجوہات بتانے کے بعد ایکسٹینشن تو دی جاسکتی ہے مگر دوبارہ تعیناتی نہیں کی جاسکتی جبکہ تیسری ترمیم کے تحت پاکستان پیپلزپارٹی نے مطالبہ کیا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حکومتی بل میں سے توسیع کے معاملے کو عدالت میں چیلنج نہ کرنے کی شق بھی ختم کی جائے۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنی ترامیم قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروادیں، جس کا مطلب تھا کہ پارٹی ان ترامیم پر بحث کے لئے سنجیدہ ہے، یہ ترامیم قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں بھی پیش کردی گئیں، جہاں حکومت نے ان پر غور کا عندیہ تھا جس کے بعدمذاکراتی دور شروع ہوا، بل منظور ہونے سے ایک دن قبل رات گئے تک پی پی پی اور حکومت میں مذاکرات ہوتے رہے، اگلے دن صبح پھرایک مذاکراتی دور ہوا، بل منظور ہونے سے قبل حکومت کی جانب سے پرویز خٹک نے قومی اسمبلی کے فلور پر باقاعدہ درخواست کی کہ پاکستان پیپلزپارٹی اپنی ترامیم کو واپس لے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کارکنوں کی جماعت ہے، بلاول بھٹو نے کارکنان کے تحفظات پر کہا کہ ہماری گزشتہ نسلوں نے بھی جمہوریت کے لئے قربانی دی جبکہ اگلی نسلیں بھی جمہوریت کے لئے قربانی دیں گی، انہوں نے کارکنان سے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی آپ کے لئے ہی پارلیمان کو فعال بنانے کی جدوجہد کررہی ہے، بلاول بھٹو کے مطابق وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے جمہوریت پسندوں کے لئے پاکستان پیپلزپارٹی امید ہے اور ایک ایسی صورت حال میں کہ جب نمبرز گیم ہمارے حق میں نہیں، پی پی پی نے اسٹینڈ لیا، اسپیچیدہ صورت حال میں کہ موجودہ پارلیمان ملکی تاریخ کی کمزور ترین پارلیمان ہے، قواعد و ضوابط پر عمل کرواکر بھی بھٹو شہیدکے ادارے پارلیمان کو مضبوط کیا، بلاول بھٹو نے کہا کہ جب پارلیمان کو آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے سبوتاژ کرنے کی کوشش ہوئی تو جیالوں کی پاکستان پیپلزپارٹی تھی کہ جس نے ایسا نہیں ہونے دیا۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے کہ جہاں سیاسی جماعتوں کو شاید دوسرے ممالک کی طرح وہ آزادیاں میسر نہیں کہ جو ان کا حق ہوتیہیں، یہاں سیاسی جماعتوں کو اپنا وجود برقرار رکھتے ہوئے سیاسی جدوجہد کی اسپیس پیدا کرنا ہوتی ہے، ایک سیاسی جماعتڈائیلاگ کرتی ہے جو پاکستان پیپلزپارٹی نے کیا، ایک سیاسی جماعت اپنے فورم پر جدوجہد کرتی ہے جو پارلیمان میں پاکستانپیپلزپارٹی نے کیا، کسی دوسری سیاسی جماعت نے سوائے ہاں میں ہاں ملانے کے ایک لفظ تک نہیں کہا تاہم بدقسمتی سے انجماعتوں پر تنقید کے بجائے سوال صرف پی پی پی سے کیے جارہے ہیں جس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان جانتے ہیں کہ ملک میں حقیقی سیاسی جماعت صرف پاکستان پیپلزپارٹی ہے اور آرمی ایکٹ کے حوالے سے قانون سازی کے تناظر میں پی پی پی نے اپنے کردار سے یہ ثابت بھی کیا۔

تصادم کا راستہ اپنے تصور میں بہت سحرانگیز ہے تاہم حقیقت میں تصادم کا مطلب ایک فریق کے وجود کا خاتمہ ہوتا ہے، وہ دروازے بند کرلینا ہوتا ہے کہ جنہیں بمشکل کھولا گیا، قانون سازی ایک مسلسل عمل کا نام ہے، یقینا مستقبل میں آرمی ایکٹ میں مزید بہتریاں لائی جائیں گی اور بہتری کا سلسلہ تو جاری رہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *