بیڈ روم کی سیاست سے ڈرائنگ روم کی سیاست تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹک ٹاک گرل حریم شاہ کی لیک آڈیوز اور ویڈیوز کے معاملے کی ضرورت سے زیادہ کوریج نہ صرف سیاسی طور پر اخلاقی گراوٹ کی علامت ہے بلکہ عوام کی ذہنی پستی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ پاکستان میں اشرافیہ کس قدر معاشرتی اقدار کو دامن میں چھُپائے پھرتے ہیں اس سے تو کوئی نا واقف نہیں۔ مگر ایسی خبروں کا ضرورت سے زیادہ چرچا ہونا حقیقی صحافت کی موت بھی ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ، ”ہمیں کیوں اس واقعہ کو اتنی زیادہ کوریج دینے کی ضرورت ہے؟”

ایسے معاملات کم و بیش سب ہی کی ذاتی زندگی کا حصّہ ہیں تو پھر اُنکو ان کی زندگی کا حصہ بننے دیں۔ مرکزی ذرائع ابلاغ کے ذریعے بیڈ روم میں بننے والے تعلقات پبلک ڈومین میں آخر کیوں لائے جائیں؟ اس طرز کی خبروں کو ترجیح دینا پاکستان میں خبروں کے معیار اور حقیقی صحافت کی ضرورت پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے اور صحافت کے مقاصد اور معیار پر بھی بہت سارے سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک غیر ضروری مسئلہ جو ایک سیاست سے غیر متعلقہ عورت سے وابستہ ہے جس کا نہ تو کابینہ کے انتظامی اور قانونی امور سے کوئی لین دین ہے اور نہ ہی معاشی اور معاشرتی حالات سے۔

شوبز کا مرچ مصالحہ شاید عوام کے منہ کے ذائقے کو اب چڑھتا نہیں جو اس کی جگہ سیاست نے سنبھال لی ہے۔ ٹاک شوز مصالحہ دار خبروں سے بھرے ہیں۔ رپورٹر اور صحافی ہر دم چٹخارے دار مواد کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سیاست اور صحافت عام لوگوں کی پریشانی سے کہیں زیادہ اس بات کو لے کر فکر مند ہیں کہ ٹک ٹاک گرل اگلا پول کس سیاستدان کا کھولنے والی ہے۔ سیاسی منظرنامے میں یہ رویہ بہت سی چیزوں پر روشنی ڈالتا ہے۔

حریم شاہ نے جو کہا اور کیا اور اس پر اور بھی بہت ساری چیزوں پر بہت زیادہ تنقید اس لئے بھی ضروری نہیں کہ جو انہوں نے کیا اور کہا وہ ایسی خوابگاہ کا حصّہ ہے جس میں جو بھی ہوا دونوں فریقین کی مرضی سے ہوا۔ اس اس پر بے جا تنقید نے سیاست اور صحافت دونوں کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ ایلیٹ کلاس کی سیاست اور عوامی سرگرمیوں کے مابین یوں بھی ایک ایسا خلا چھایا ہے جو کبھی پُر نہیں ہو سکا۔ لیکن ایک بات تو واضح ہو چکی ہے کہ ایلیٹ کلاس کی سیاست کا سفر بس دو گام ہے۔

ایک ایسا سفر جو بیڈ روم سے شروع ہوتا ہے اور ڈرائنگ روم کی سیاست سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ مزاحمتی سیاست اور عوامی تحریکیں یوں بھی پِسی ہوئی اُس عوام کی نمائندگی کرتی ہیں جو سڑکوں اور چوراہوں پر دھکّم پیل میں پھنسی ہیں۔ ڈرائنگ روم کی سیاست تو نعرے بازی سے شروع ہو کے چند رسمی جھوٹے وعدوں پر دم توڑ دیتی ہے۔ ڈرائینگ روم کی سیاست ٹاک شوز میں چیخنے چِلّانے سے شروع ہوتی ہے اور گالم گلوچ پر ختم ہو جاتی ہے۔ پالیسی بنانے یا لوگوں کے حقوق کے بارے میں بات کرنے کے معاملے میں کوئی اصل سیاست نہیں ہے۔

یہاں کوئی حقیقی ترقی پزیر جمہوریت نہیں ہے جو لوگوں کی حکومتوں میں لوگوں کے حقوق کی بات کر سکتی ہو۔ پاکستان کو اس وقت بہت ساری پریشانیوں اور حقیقی چیلنجز کا سامنا ہے جس کے بارے میں ماہرین کو بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور بہت سے امور پر فوری طور پر قانون سازی کی ضرورت ہے جسے سیاسی بحث و مباحثے کے ذریعے اجاگر کرنے اور ان پر تبادلہ خیال کیا جانا ہی کافی نہیں ہے۔ توانائی کے بحران سے لے کر معاشی بحران سے تعلق رکھنے والے مسائل کی اک لمبی فہرست ہے۔

مسائل میں ہمارے نظام کے وہ معاشرتی روّیے اور سیاسی غلطیاں بھی شامل ہیں جن کا سّدِ باب کرنا بہت ضروری ہے۔ انصاف کے منتظر لوگ قانونی راستے سے انصاف کے طلبگار ہیں۔ عدالتوں کی بالا دستی چاہتے ہیں۔ مذہبی انتہا پسندی قوم کو ہلاک کررہی ہے۔ متعدد نسلوں اور اقلیتوں کے حقوق غصب کیے گئے ہیں۔ توہین رسالت کے قوانین پر فوری طور پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ لوگوں کی ذہنی نشوونما کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ضروری ہے۔

خواتین کے حقوق کی حمایت پر بات ہونی چاہیے۔ مدرسوں میں پیڈو فیلیا کے کلچر پر پابندی عائد کرنے اور مجرم کو فوری سزا دینے اور اس پر فوری عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ معاملات کی ایسی افسوس ناک صورتحال ہے کہ ہمارے پاس کوئی اصل مسئلہ باقی نہیں بچا ہے لیکن بس ایک چھوٹا معاملہ ہے کہ ٹک ٹاک گرل کیا کررہی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *