عمران خان کو اقتدار میں لانے کے بعد بیانیہ

سرخی میں لفظ عمران کو اقتدار میں لانا پڑھ کر کچھ پڑھنے والوں کو غصہ دلا سکتا ہے۔ آئیے پہلے اس کو حل کریں۔ آپ میں سے جن لوگوں نے شیکسپیئر کے عظیم ڈرامے میکبیتھ کو پڑھا ہے یا جنہیں اس ڈرامے کو تھیٹر میں دیکھنے کا موقع ملا ہے وہ مذکورہ لفظ کو پڑھنے کے بعد الجھ نہیں سکتے۔ میکبتھ، ایک عظیم جنرل، جب اپنے دوست بانکو کے ساتھ ایک فاتحانہ مہم جوئی سے واپس آ رہا تھا، گھر

Read more

سیاسی ارسٹوکریسی اور مطالعے سے شغف

کچھ عرصہ ڈیرہ غازی خان کے پوسٹ گریجوئیٹ کالج میں تعیناتی کے دوران گاھے گاھے دوست میرے ہاتھ میں ہر وقت کوئی کتاب دیکھ کر سردار امجد خان کھوسہ، جو ان دنوں بھی پاکستان نیشنل اسمبلی کے رکن تھے، کی کتاب دوستی کی بات ضرور کرتے۔ اشتیاق رہتا کہ کبھی ان سے ملاقات ہو لیکن ایک طویل معاشرتی فاصلے کی بدولت ایسا ممکن نہ تھا۔ سردار صاحب ڈیرہ غازی خان کے تمن کھوسہ کے سردار ہیں اور من آنم کہ

Read more

فلم لیجنڈ آف مولا جٹ اور کازو ایشی گرو

کل آخر لیجنڈ آف مولا جٹ دیکھ لی۔ میں کافی دن اس فلم کا دیکھنا ٹالتا رہا کیونکہ کچھ مہینوں بیشتر سرمد کھوسٹ کی فلم کملی نے حال میں بننے والی پاکستانی فلم سے مجھے کافی مایوس کیا۔ لیکن لیجنڈ آف مولا جٹ کے ریلیز ہونے کے بعد میں معاشرتی میل جول کی محفلوں میں جہاں بھی گیا مجھے اس فلم کا چرچا سننے کو ملا یہاں تک میرا فزیو جس کے پاس میں اپنے کاندھے اور ایڑی کے ناقابل

Read more

بے لباس آدمی کا نوحہ

کل ایک ٹویٹ دیکھنے کو ملا جس میں پرنس کریم آغا خان کو یہ کہتے ہوئے نقل کیا گیا کہ ضیاء الحق نے ان کے سامنے اعتراف کیا کہ ان کی اسلامائزیشن کی پالیسی بہت بڑی غلطی تھی کیونکہ اس نے ملک میں فرقہ واریت کو جنم دیا۔ اس تاسف میں بہت دیر ہو چکی تھی، ملک ضیا الحق کی سیاسی نا عاقبت اندیشی کو بھگت چکا تھا اور بھگت رہا ہے۔ ملک مصائب کا گڑھا بن چکا ہے اور

Read more

منگو کوچوان اور نئی تعیناتی

سعادت حسن منٹو کے دو افسانوں، نیا قانون اور ٹوبہ ٹیک سنگھ، کو میں ان کے شہکار اور اوریجنل افسانے سمجھتا ہوں۔ شہکار اس لیے کہ وہ تیکنیکی اعتبار سے اردو افسانے کی نئی جہت کی بنیاد بن سکتے تھے اگر ان افسانوں کے تکنیکی پہلوؤں پہ توجہ دی جاتی شاید کچھ تنقید نگاروں نے اس جانب توجہ مبذول کرائی ہو لیکن میں لا علم ہوں۔ اوریجنل اس لیے کہ یہ دو افسانے سعادت حسن منٹو کی رپوتاژ صنف میں

Read more

محمد خالد اختر کی فینتاسی بیس سو گیارہ

محمد خالد اختر اردو کے معروف ادیب ہیں۔ ان کا تعلق بہاولپور سے تھا۔ انگریزی ادب ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ وہ کہتے ”رابرٹ لوئس سٹیونسن میری پہلی اور آخری محبت ہے۔“ وہ سوچتے انگریزی زبان میں تھے اور لکھتے اردو زبان میں تھے۔ ان کی اس عادت نے اردو زبان کو ایک نیا آہنگ بھی دیا۔ انہیں ادیبوں کا ادیب کہا جاتا ہے۔ ان کی تصانیف میں ان کا ناول چاکیواڑہ میں وصال سرفہرست ہے جسے اس کے اسلوب

Read more

لمپین پرولتاریہ اور عمران خان کے بارے میں گزارشات

گزشتہ دنوں دوستوں کے ساتھ عمران خان اور اس کے جان نثار حامیوں کے متعلق بحث رہی۔ میرا خیال تھا کہ عمران خان کے زیادہ تر حامیوں کا تعلق ہمارے معاشرے کے لمپن پرولتاری lumpenproletariat طبقے سے ہے۔ دوست متفق نہ ہوئے۔ دراصل وہ لمپن پرولتاریہ کی طبقاتی اصطلاح کو مارکس اور اینگلز کی تحریروں کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بات کو آگے بڑھانے سے پہلے بہتر ہو گا کہ مارکس اور اینگلز کی تحریروں کے

Read more

عمران خان اور جماعت اسلامی

عمران خان کے سیاسی محرکات کو سمجھنا اتنا آسان بھی نہیں جیسا کہ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے بہت سے سیاسی مفکرین ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ عمران کی سیاست کو پاپولزم کے پیمانے پہ پرکھا جائے؟ اسے ایک انقلابی کے طور جانا جائے؟ عمران خان کی سیاسی جدوجہد کو سمجھنے کے لئے، میرے خیال میں، ملک کی نظریاتی ساخت کو سمجھنا ضروری ہو گا جس کی بنیاد گزشتہ 75 سالوں میں رکھی گئی اور ہر آنے والے

Read more

ارشد شریف اور انا پرستی

سنہ 2002 میں مشرف انتظامیہ کے زیر اہتمام عام انتخابات کے دوران ملک میں الیکٹرانک میڈیا کا آغاز ہوا۔ اسی دور میں ملک میں صحافت قدرے آزاد ہوئی اور جیسا کہ عرض کیا کہ ہمارے ہاں الیکٹرانک میڈیا میں نیوز چینلز کی شروعات ہوئیں۔ ٹاک شوز میں ملکی حالات پہ نسبتاً آزادانہ گفتگو ہونے لگی۔ سب اچھا لگا۔ یہ سوال میرے لئے اہم رہا کہ جنرل مشرف کو پریس اور الیکٹرانک میڈیا کو آزاد کرنے کی کیا ایسی ضرورت آن

Read more

پاکستان میں معاشرتی کشمکش اور فکری بے سرا پن

ملک میں جاری سیاسی کشمکش ہماری معاشرتی کشمکش کی ایک واضح تصویر ہے۔ جمائما خان نے 2009 میں سنڈے ٹائمز کے لئے لکھے پاکستان کی سماجی اور سیاسی صورت حال پہ اپنے ایک مضمون (روزنامہ ڈان کے 8 جون 2009 کے شمارے میں اس مضمون کے اقتباسات چھپے ) میں برملا کہا کہ ”پاکستان لامتناہی تضادات کا معاشرہ ہے“ اپنی دلیل کو ثابت کرنے کے لیے اس نے متضاد اسم صفات کی مدد لی۔ مثلاً پاکستانی معاندانہ بھی ہے اور

Read more

ہمارا الیکٹرانک میڈیا اور معاشرتی ہیجان

گزری دہائی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں واقعات سے بھر پور دہائی کے طور پہ یاد رکھی جائے گی۔ دو منتخب حکومتوں نے اپنی حکومتی مدت پوری کی۔ یہ بھی حقیقت رہی کہ دونوں حکومتی جماعتیں کو دوران حکومت بڑے دشوار راستوں پہ اپنا سفر طے کرنا پڑا۔ ان پہ ماضی میں کی گئی غلطیوں کا بوجھ بھی تھا۔ نوے کی دہائی دو بڑی سیاسی جماعتوں کا ایک دوسرے پہ عدم اعتماد، ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا اور ملک کی

Read more