کنج کنواری نہیں، کنواری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ماں تم ہمیشہ میری شادی کے پیچھے ہی پڑی رہتی ہو۔ اب چھوڑ بھی دو۔
بیس سال میں کوئی نہیں آیا۔ خدا نے میرے لئے کوئی پیدا ہی نہیں کیا۔ اب وہ پیدا کر بھی دے تو مجھ سے چالیس سال چھوٹا ہو گا۔

اب جب کہ میری آنکھوں کی چمک ماند پڑ گئی ہے ان کے گرد حلقے گہرے ہو گئے ہیں۔ میک اپ کے بغیر میں بیمار اور بوڑھی لگتی ہوں۔ مجھے شادی نہیں کرنا ہے۔ ”

” تو کیا ساری عمر کنواری رہو گی؟ کیوں کنواری ارمان بھری مرنا چاہتی ہو؟ “

”کون سے ارمان؟

اورکنواری رہنے میں ہرج کیا ہے؟ ”

میری ماں کے ساتھ اکثر یہی بحث ہوتی۔ گھر میں اب میرے اور اس کے سوا کوئی نہیں تھا۔ دونوں بہنیں کب کی بیاہی جا چکی تھیں۔ بھائی بھی اپنی بیوی بچوں کے ساتھ دوسرے شہر منتقل ہو چکا تھا۔

بیس سال کی تھی کہ ماں نے میرے اور دوسری بہنوں کے رشتے ڈھونڈنے شروع کر دیے تھے۔ وہ دونوں مجھ سے چھوٹی تھیں اور خوبصورت بھی زیادہ۔ جو بھی آتا ان کی ہی بات کرتا۔ کچھ عرصہ تک تو ماں انکار کرتی رہی کہ پہلے بڑی کا کرنا ہے لیکن پھراس نے بھی شکست مان لی۔ دونوں بیاہی گئیں۔ میں نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور پھر نوکری بھی کر لی۔ میرا تعلق ایک روایتی اور عام سے گھرانے سے ہے لیکن میں اپنے خاندان کی دوسری لڑکیوں سے مختلف ہوں، ایک جاگتے اور سوچتے ذہن کی مالک۔

جاب کے دوران بھی میں نے پڑھائی جاری رکھی اور پی ایچ ڈی کر لی۔ جوں جوں عمر ڈھل رہی تھی نا امیدی بڑھتی جا رہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی طرح طرح کے ہتک آ میز جملوں اور جنسی ہرا سانی کا بھی نشانہ بنناپڑتا تھا۔ گھر ہو یا باہر یوں لگتا تھا کہ کوئی دیوار ہی نہیں رہی ہر کوئی اندر گھسنے کی کوشش کرتا۔ بچ بچا کر گزرنا مشکل ہوتا جاتا تھا۔ رشتہ دار ہوں، محکمے کے کلرک ہوں یا ساتھی ملازم سب مجھے اپنے نشانے پر رکھتے تھے۔ بہن بھائی جوں جوں اپنے پیروں پر کھڑے ہوتے ہیں، برادری اور شریکا بن جاتے ہیں۔ ذو معنی فقرے بازی ان کا خا صہ بنتا جاتا ہے۔

کن کن مدارج سے گزر کر اس عمر تک پہنچی، ناقابل بیان ہے۔ میں کسی کو اپنے مسائل بتاتی اور نہ ہی دکھ کہتی۔ ماں سال ہا سال سے وچولوں کو پیسے دے رہی تھی۔ وہ بھڑوے بھی کبھی شاد ہوئے ہیں؟ میں گھر آتی توکسی نہ کسی کو ماں کے پاس بیٹھا دیکھ کرآزردگی مزید بڑھ جاتی۔ اب تو وہ مجھے دیکھ کر ہی اپنی مٹھی گرم کر کے جلد از جلد اپنا راستہ ناپتے۔

لوگ ابھی بھی آتے اور دیکھ کر کچھ بتائے بغیر چلے جاتے۔ میں تو اب ان ساری باتوں سے بے نیاز ہو گئی تھی اور ان سب سے بے اعتنائی برتتی تھی۔ میں تو تھک چکی تھی لیکن میری ماں کی امید کے خلاف امید ابھی بھی زندہ تھی۔

جنوری کا مہینہ تھا دو دن سے ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ دوپہر کے بعد بادل چھٹ گئے۔ پر فسوں بھیگی سرد شام۔ میری کیفیت سے بے پرواہ زوال پذیر سورج افق میں اپنے رنگ بکھیر رہا تھا۔ سارا آسمان سرخ تھا۔ یہ موسم، یہ سرخی مائل نیلا گگن مجھ پر چھائی افسردگی میں لا متناہی اضافہ کر دیتا ہے۔

میں گھر میں داخل ہوئی تو کچھ خواتین ایک میان کار کے ساتھ امی کے پاس بیٹھی ہو ئی تھیں۔ ایک لڑکا بھی ساتھ تھا۔ لیکن اس کی عمر مجھ سے کافی کم لگتی تھی۔ کچھ لوگ ویسے بھی عمر چور ہوتے ہیں وہ بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دیتا تھا۔ بہت سال گزر گئے جب عورتیں اور لڑکے آنکھوں ہی آنکھوں میں مجھے قربانی کی بچھڑی کی طرح ٹٹول لیتے اور میں سر جھکائے بیٹھی رہتی۔ اب میرا بیس سالہ تجربہ تھا۔ میں نے ماں کو کہہ دیا تھا کہ جو بھی آئے اپنے سورمے کو ساتھ لائے۔ مجھے تو انہوں نے کھنگالنا ہی ہے، برد کھوا بھی ساتھ ہی ہو جائے۔ میں بھی تو دیکھوں مجھے رد کرنے والے میں کتنے کس بل ہیں؟

لڑکا قبول صورت شرمیلا سا تھا۔ سر کے بال کم کم ہی تھے۔ اپنے گنجے چاند کو اس نے بہت سنبھال کر رکھا تھا لیکن وہ بانجھ کالی بدلیوں کے بیچ میں سے واضح رونمائی کر رہا تھا۔ نظریں جھکائے بیٹھا رہا۔ ایک دو مرتبہ اس نے نظر اٹھا کر میری طرف دیکھنا چاہا تو مجھے گھورتے دیکھ کر شرمندہ ہو کر سر جھکا لیا۔

دوسرے دن ان کی طرف سے ہاں آگئی تو میں انتہائی پریشان ہو گئی۔

ماں بہت خوش تھی۔ اس کے چہرے سے اطمینان بخش کش مکش کی لہریں ابھر اور ڈوب رہی تھیں۔ ماں کے چہرے پر موجود مدو جذر، جوار بھاٹا لہروں کا تلاطم اس کے تشخص میں ٹوٹ پھوٹ کے عمل کے ساتھ اس کی بناوٹی خاطر جمعی کو ظاہر کر رہا تھا۔ یہ سب کچھ حالات کو مزید مخدوش بنا رہا تھا۔ ماں کہنے لگی، ”شکر خدا کا! میری بیٹی کے نصیب کھلے ہیں۔ “

مجھے سب کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ لڑکا پڑھا لکھا تھا۔ کسی پرائیویٹ کمپنی میں ملازم۔ ماں کہتی تھی، ”کوئی بات نہیں مل جل کر گزارا کر لینا۔ “

میری شادی کی لطافتوں سے حظ اندوز ہونے کی عمر گزر چکی تھی۔ مجھے یہی سب سے بڑا مسئلہ لگ رہا تھا، لڑکے کی خواہشات کو میں کیسے پورا کروں گی؟ دنیا کی لذتیں تو برقرار تھیں، مجھے ہی بطلان ذوق تھا۔

میں نے اپنے مردہ ارمانوں کو ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ بکھرے ہوئے سپنے اکٹھے کیے، ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں جمع کیں، سوئے ہوئے جذبات کو جگایا اور بہت اضطراب کے ساتھ شادی کا انتظار شروع کر دیا۔

مجھے زیور کی ہوس نہیں تھی۔ بنگلے کار کی خواہش، سیر سپاٹے کی حسرت نہیں، میں صرف اور صرف اپنے خاوند کی خدمت گزاری کرنا چاہتی تھی۔ یہی میری زندگی کا منشا تھا اور یہی اس کا ماحاصل۔

میری خواہش تھی کہ میرے گھر میں محبت کے نور سے وہ آسودگی، اطمینان اور سرشاری جنم لے جو باغ رضواں کا خا صہ ہے۔ مجھے اپنے خاوند سے صرف محبت کی خواہش تھی۔ میرے جیسی غم نصیب لڑکی کے لئے ذرا سی محبت چھلکا دینے کو کافی ہے۔ میں دن بھر انہی خیالات میں کھوئی رہتی اور راتوں کو پر نشاط خواب بنتی۔

ماں نے مجھے سب بہنوں سے زیادہ جہیز دیا۔ دادو دہش میں بھی کوئی کمی نہ چھوڑی۔

میں اس کے خیالوں میں کھوئی، ان دیکھی محبت کی اسیر کشاں کشاں اس کے گھر پدھاری۔ وہ بھی خوش لگ رہا تھا۔

کچھ دنوں کے بعد شادی کا شورو غل تھما تو کہنے لگا، ”میری ماں مجھے بہت خوش قسمت کہتی تھی۔ میرے حالات خراب رہے ہیں۔ میں کافی مشکلات کا شکار رہا ہوں۔ تمہارے ساتھ شادی سے میرے لئے کچھ آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔ تمہاری تنخواہ سے کئی رکی ہوئی ضروریات کو پہیے لگ جائیں گے اور میرے کئی مسائل حل ہو جائیں گے۔ “

میرے تمام خواب بکھر گئے، خواہشیں جھوٹے رنگ کی طرح اُڑ گئیں۔ یہ اس کے چھچھورے پن کی انتہا تھی اس نے مجھے صرف دولت کے حصول کا آلہ سمجھا تھا۔ اس نے شادی میری تنخواہ سے کی تھی۔

میرا جسم اس کے لئے لابھ ہی لابھ ہے۔ میری بدقسمتی ہے کہ میں نے اس ہوس زدہ معاشرہ میں جس شخص کے لئے اپنے آپ کو چالیس سال تک سنبھال کر رکھا، بچا کررکھا، اس کے ساتھ شادی کے بعد بھی میرے ارمان کنوارے ہی ہیں۔ میں پر نائی تو گئی، کنج کنواری تو نہ رہی لیکن کنواری ہی رہ گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *