حد سے زیادہ مسلمان کی نشانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج پلاسٹک شیٹ خریدنے کے لیے دکان پہنچے۔ دکان میں دو چھوٹے بچے نظر آئے۔ ان کو مطلوبہ شیٹ کا سائز بتایا، تو انہوں نے ایک اونچے سے کاٶنٹر کی طرف اشارہ کیا۔ کاٶنٹر کی طرف دیکھا، تو ایک صاحب تلاوت قرآن میں مصروف نظر آئے۔ ان سے مدعا عرض کیا، تو انہوں نے جہاں پیسز پڑے تھے، وہاں کا اشارہ کیا۔ اس جانب گئے، خود ہی چھانٹ کر ایک پیس پسند کیا، جو مطلوبہ سائز سے چوڑا تھا۔ قیمت پوچھی اور رقم دینے سے قبل عرض کیا کہ جناب آپ شیٹ کو مطلوبہ سائز میں کاٹ دیں۔ شیٹ کاٹنے کے لیے مناسب شخصیت انہوں نے مجھے ہی تصور کیا۔ ان کے انتخاب کو میں نے رد کیا اور شیٹ بچے کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے، دکان سے باہر آ گیا۔

موصوف چونکہ کاروباری اوقات میں تلاوت قرآن میں مصروف تھے۔ اس لیے دکان داری کرنے سے معذور تھے۔ ایسے حضرات کو میں حد زیادہ مسلمان کا خطاب عطا کرتا ہوں۔ حد سے زیادہ مسلمان چونکہ دنیاوی معاملات میں حد سے گیا گزرا ہوتا ہے۔ اس لیے چپ چاپ موصوف کی دکان سے نکلنے میں عافیت جانی۔ پلاسٹک شیٹ کی خریداری میں ناکامی کے بعد بیگم نے اپنی مطلوبہ اشیا کی خریداری پر توجہ مرکوز کی اور اس ہدایت کے ساتھ ہمیں رخصت کیا کہ الوداعی مقام پر کچھ دیر بعد دوبارہ ملتے ہیں۔

ایک عام مسلمان کی دکان سے کم قیمت پر بہتر مطلوبہ شیٹ خریدنے کے بعد بیگم کے ہدایت شدہ مقام پر پہنچے، تو بیگم کا دور دور کہیں پتا نہیں تھا۔ بیگم موبائل کے استعمال کو ہر قسم کی جانوں کے لیے مضر سمجھتی ہیں۔ اس لیے با وجود اصرار ہنوز ذاتی موبائل رکھنے سے انکاری ہیں۔ رابطہ ممکن نہیں تھا۔ بیگم کے انتظارمیں کھڑے تھے، تو سینیئر رفیق کار ٹہلتے ہوئے، اپنی جانب آتے نظر آئے۔ سلام و علیک کے بعد ان کے ہاتھ میں تھامی ہوئی تھیلی میں تازہ بھنے مکئی اور چنے نظر آئے۔ جو انہوں نے کھانے کے لیے ہمیں بھی دیے۔ چنے واقعی بہت خستہ اور لذیذ تھے۔

بات چیت خشک میووں پر چل نکلی، تو ہم نے سامنے کھڑے ٹھیلے کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ”اس کے اخروٹ اچھے ہیں۔ محض انگوٹھے کے دباٶ سے چٹخ جاتے ہیں۔ اور گری نکالنے کے لیے اون کی سلائیاں استعمال کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ “ اخروٹ کے اعلی معیار پر متفق ہوتے ہوئے، انہوں نے سوال کیا کہ ”آپ نے کس حساب اخروٹ خریدے؟ “ ہم نے قیمت بتائی، تو ان کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ نمو دار ہوئی۔ جس کو دیکھ کر ہمارا دل تھوڑا ہوا۔ اب ہم نے ان سے قیمت پوچھی کہ ”آپ نے کیا حساب خریدے؟ “ تو انہوں نے جو قیمت بتائی، وہ ہماری بتائی گئی قیمت سے نقد سو روپے کم تھی۔ عرض کیا: ”ہم نے بھی خریداری کے وقت اسی قیمت کی پیش کش کی تھی، جس پر آپ نے اخروٹ خریدے۔ لیکن ہم سے اس نے کہا کہ یہ تو میری قیمت خرید بھی نہیں۔ “

بہرحال ٹھیلے کی جانب بڑھے اور ہمارے دوست نے اخروٹ ترازو میں ڈالنے شروع کیے۔ اور ہم نے چوری چھپے بٹوے سے پیسے نکالنے۔ چپکے سے رقم دوست کے ہاتھ میں تھمائی اور آگے کی طرف نکل کر دوست کے ہاتھ سے اخروٹ کا شاپر لے لیا۔ ٹھیلے والے کی جانب سے اپنے سے کی جانے والی واردات پر آنسو بہا ہی رہے تھے، کہ ٹھیلے والا ٹھیلا چھوڑ چھاڑ تیزی سے مسجد کی طرف دوڑ لگاتا نظر آیا۔ ذرا سی دیر میں کئی طرح کے مسلمانوں سے ملاقات ہو گئی۔ بلکہ ایک نئی قسم حد سے زیادہ مسلمان کی بھی دریافت ہو گئی۔ سچ پوچھیں، تو ہمیں عام مسلمان نے زیادہ متاثر کیا۔ بیگم کا تو ابھی بھی کوئی اتا پتا نہیں ہے۔ اس لیے انتظار کی ان گھڑیوں میں یہ تحریر لکھنا اور دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا غنیمت جانا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *