بلھے شاہ کے کتوں سے فیض صاحب کے کتوں تک


سندھ میں کتوں کا بڑا چرچا رہا ہے۔ مجھے ان کتوں کے حوالے سے اپنے پروگرام کے لئے ریسرچ کرنا تھی۔ میں یہ کام بڑی تندہی سے کررہا تھا کہ ٹیلی ویژن پر ڈھڈھن کے بریکنگ نیوز کی ساز و آوازسننے کو ملی۔ خبر یہ تھی کہ قومی اسمبلی نے اکثریت رائے سے آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020 منظور کرلیا گیا۔ میرے لئے یا کسی بھی صحافی کے لئے یہ خبر حیران کن نہیں تھی۔ کیونکہ یہ طے شدہ امر تھا۔ یہ ہونا ہی تھا۔ پچھلے چند دنوں کے دوران سب کے بھرم کھل کر سامنے آگئے تھے۔ سب کے دعوی توکل و زہد اور اصول پسندی کی قلعی کھل چکی تھی۔ خیر ایسا پہلی بار بھی نہیں ہوا۔

مشرف کی ایمرجنسی پلس کے بعد مسلم لیگ ن نے اپنی ہیئت و طبعیت بدلنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن یہ نظریاتی بہروپ میمو گیٹ پر خود کشی کر گیا تھا۔ فوجی عدالتوں کے قیام کے معاملہ پر بھٹو کی جماعت خود بھٹو کو فراموش کرکے حاضر جناب کہہ رہی تھی۔ سو میں نے محترمہ فردوس عاشق اعوان اور طمانچہ نواز سرکار محترم فواد چودھری کی میڈیا سے رسمی بات چیت بھی نہ سنی جو کل تک کی غدار اور گرددن زدنی سیاسی قیادتوں کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے تھے۔

سو آرمی ایکٹ پر ان سیاسی جماعتوں کے یوٹرنز کو چھوڑئے۔ کتوں کی سنیئے۔ دنیا بھر میں اس وقت ہر نسل اور ہر رنگ کے کتوں کی تعداد نو کروڑ ہے۔ امریکہ میں تقریبا نوے لاکھ جبکہ پاکستان میں صرف ایک لاکھ بیس ہزار کتے پائے جاتے ہیں۔ ان میں آوارہ کتے بھی شامل ہیں اور پالتو بھی۔ امریکہ اور پاکستان میں کتوں کا تناسب دیکھیں۔ اور اندازہ لگائیں کہ ایک لاکھ بیس ہزار کتوں نے ہمارا ناک مین دم کر رکھا ہے اور امریکہ نوے لاکھ کتے رکھ کر بھی کتنا پرسکون ہے۔ کراچی میں کتوں کے کاٹنے سے لوگوں کے مرنے کی خبریں تواتر سے آرہی ہیں۔

جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ کتوں کی اقسام انسانوں سے زیادہ ہے۔ انسان کالا ہوتا ہے یا گورا، درمیان والوں کو براؤن کہہ لیتے ہیں، کچھ چپٹی ناک والے ہوتے ہیں اور کچھ ستواں ناک رکھتے ہیں۔ لیکن کتوں کی نسل و اقسام کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پطرس بخاری نے لکھا ہے کہ "ایک موڑ پر سے جو مڑے تو سامنے ایک بکری بندھی تھی۔ ذرا تصور ملاحظہ ہو آنکھوں نے اسے بھی کتا دیکھا، ایک تو کتا اور پھر بکری کی جسامت کا۔ گویا بہت ہی کتا۔”

جیسے کتوں کی ان گنت اقسام ہیں اسی طرح ان کی صلاحیتوں کا بھی شمار نہیں۔ بی بی سی نے رپورٹ کیا ہے کہ کتے اپنے مالکان کی آواز بھی پہنچاتے ہیں۔ بی بی سی والوں نے محض یہ جاننے کے لئے بہت لمبی چوڑی تحقیق کی، ہم سے پوچھ لیتے تو اتنی محنت سے بچ جاتے۔ اب ہم سے زیادہ کون جانتا ہے کہ کتے آوارہ بھی کیوں نہ ہوں، ان کا بھی کوئی نہ کوئی مالک ضرور ہوتا ہے، اور وہ اپنے مالک کی آواز خوب پہچانتا ہے۔ ہمارے ہاں تو کتوں کی مالک کے ساتھ وفاداری پر شاعری بھی ہو چکی ہے ۔ بابا بلھے شاہ نے کہا تھا کہ

” خصم اپنے دا در نہ چھڈدے۔ ۔

 بھانویں وجن سو سو جتے۔

کتے تیتھوں اتے۔

کتوں کی فضیلت پر بابا بلھے شاہ کا کلام آفاقی ہے۔ بابا بلھے شاہ کے ہاں کتا ایک صبر والا جانور ہے جو مالک کی ڈانٹ ڈپٹ بلکہ دبڑ کٹ پر بھی مالک کا شکر گزار ہی رہتا ہے جبکہ فیض احمد فیض کے ہاں کتا ایک ٹھکرایا ہوا جانور ہے۔ وہ کہتے ہیں

یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتے

کہ بخشا گیا جن کو ذوق گدائی

زمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کا

جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی

نہ آرام شب کو نہ راحت سویرے

غلاظت میں گھر نالیوں میں بسیرے

جو بگڑیں تو اک دوسرے سے لڑا دو

ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو

یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے

یہ فاقوں سے اکتا کے مر جانے والے

یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے

تو انسان سب سرکشی بھول جائے

یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیں

یہ آقاؤں کی ہڈیاں تک چبا لیں

کوئی ان کو احساس ذلت دلا دے

کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے

میرے خیال میں بابا بلھے شاہ کے ہاں کتے کا جو مقام ہے وہ بھی ٹھیک ہے اور غلط فیض صاحب نہیں کہتے۔ کتوں کی فطرت میں سو جوتے کھانا بھی ہے اور سرکشی نہ کرنا بھی۔ کتے خونخوار بھی ہوتے ہیں اور شدید بھونکنے والے بھی، مگر ان کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ بھونکتے بھی کتے پر ہی ہیں اور کاٹنے بھی کتے کو ہی ہیں۔ ہاں کبھی کبھی مالک کے کہنے پر کسی دوسرے انسان کو بھی کاٹ کھاتے ہیں۔ لیکن مالک کو کاٹتے ہیں اور نہ ہی اس پر بھونکتے ہیں۔ بس مالک کو دیکھتے ہی دم ہلاتے ہیں۔ ہاں کبھی کبھی کوئی کتا پاگل بھی ہوجاتا ہے۔ ایسے کتے کو سزانے موت سنا دی جاتی ہے۔ اس سزا کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ باقی کتے پاگل ہونے سے ڈرے رہتے ہیں۔ خوف قائم رکھنے کی حکمت علی اپنی جگہ مگر اس کے باوجود کتوں کی سب سے اہم خصلت یہ ہے کہ وہ صرف اور صرف وفادار ہوتے ہیں اس کے سوا کچھ اور نہیں ہوتے ۔

Facebook Comments HS