کیا انسان بے بس ہوتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر انسان کی معلوم شدہ ابتدائی تاریخ کا مطالعہ کریں اور اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کریں تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ شاید انسان ایک بے بس اور مجبورِ محض مخلوق ہے۔ غاروں میں رہنے والا انسان اپنی ابتدائی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے بغیر کسی منصوبہ بندی کے جو اس کے جی میں آتا تھابالکل اسی طرح ہی کرتا تھا جب بھوک لگتی تھی تو غار سے باہر نکل کر جس چیزسے بھی سامنا ہوتا تو اس کو چیڑپھاڑ کر کھا جاتا تھا۔ اپنا قد سے بڑی کسی بھی چیز یا مخلوق کے سامنے خود کو بے بس پاتا تو اس کو بھگوان یا دیوتا ماننے میں ذرا بھی دیر نہیں لگاتا تھا۔

اگر ہم انتہائی گہرائی سے غار کے انسان اور آج کے ٹیکنالوجیکل جدید انسان کے درمیان بنیادی سِرا یا کامن فیکٹر کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں تو ہمیں پتا چلے گا کہ اس بنیادی سِرے کا نام ”جستجو اور کھوج“ ہے۔ چیزوں کو ٹٹولنے کی خواہش کی وجہ سے ہی حضرت انسان اپنی خیالی جنت سے باہر آکر حقیقی اور مادی دنیا سے نبرد آزما ء ہوا اور اسی دنیا میں اپنی جستجو اور کھوج کی بنیاد پر قدرتی آفات سے لڑتے لڑتے ایک طاقت ور انسان کے روپ میں ڈھل گیا۔

سائنس کی آمد سے پہلے یہی انسان خیالوں میں بڑے بڑے تیر چلایا کرتا تھا عمرو عیار کا جادوئی پیالہ، اڑن کھٹولا اور جادوئی قالین کی طرح کا متھالوجیکل ادب تخلیق کرنے والا انسان آج سائنس کی بدولت اپنی خیالی تشنگیوں کوعملی روپ میں ڈھالنے کے قابل ہوچکا ہے۔ اس کی زندہ مثال ا سٹیفن ہاکنگ تھاجو اپنی بھر پور جوانی میں ایک ایسی مہلک بیماری کا شکار ہو گیا کہ جس کی وجہ سے اس کا جسم آہستہ آہستہ مفلوج ہونے لگا لیکن اس کی قدرتی رازوں کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے کی جستجو اور کھوج نے اس کے دماغ اور اس کی پلکوں کی امید کو ختم نہیں ہونے دیا اور انسان ہی کی بنائی ہوئی جادوئی کرسی میں مقید ہو کر کے اپنی ذہنی لیبارٹری کے تجربات و نتائج کو انسان ہی کے بنائے ہوئے طاقت ور کمپیوٹر کی سکرین پر اتار کر آنے والی نسلوں کو مختلف کتابوں کا تحفہ دے کر انسانی ورثہ میں جستجو اور کھوج کا ایک نیا باب رقم کر دیا۔

اب آج کا انسان ایک ایسے دور میں داخل ہوچکا ہے کہ جہاں اندھے ایمان کا تو کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ آج کا جدید انسان تمام سچائیوں کو ننگی آنکھ سے دیکھنے کا عادی ہوچکا ہے اب اس کی کھوج کے سامنے ایمانی بیرئیر کی کوئی وقعت نہیں رہی اور وہ تمام مقدس روایات سے آزاد ہوکر بلا خوف سوال پوچھنے لگ گیا ہے۔ اب اس کا دماغ ”کیوں، کیسے، کیا اور کب“ کی گردان سے گونجنے لگ گیا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ اس کے اندر صبر بالکل بھی نہیں ہے اگر صبر ہوتا تو خیالی جنت میں چپکے سے دبکا رہتا اور ابدی خوشیاں انجوائے کرتا اور اب تو اس کی جرات اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ اس قسم کے گستاخانہ سوالات پوچھنے لگ پڑا ہے۔

1۔ ہر چیز کا خالق ہوتا ہے تو پھر خالق کا خالق کون ہو گا؟

2۔ مذاہب کا نزول آسمانی ہے یا انسان خود اس کا موجد ہے؟

3۔ خالق اگر ایک ہے توپھر انسانوں نے اتنے خدا کیوں بنا لیے؟

4۔ اگر تمام بنیادی سچ آسمانی کتابوں میں موجود ہیں تو پھر نئے سچ کو کس کھاتے میں ڈالنا ہے؟

اسی طرح کے بڑے بڑے سوالات آج کے جدید انسان کے ذہن میں پیدا ہونے لگ گئے ہیں انہی سوالات کی بنیاد پر بڑی بڑی قد آور شخصیات نے بہت ساری کتابیں لکھ ڈالی ہیں۔ میری نظر میں سوال کبھی نہیں مرتابلکہ ہر دور میں نئے نئے سوالات جنم لیتے ہیں اور سوال کا کوئی مذہب نہیں ہوتا یہ ہر دور میں مختلف رنگوں کے ساتھ دیوانہ وار سامنے آتا ہے۔ چاہے وہ منصور ”اناء الحق کی صدا کی صورت میں ہویا سقراط، برونو یا گلییلیو کی صورت میں“ سوالات وقت کے جبر کی گرد میں کچھ دیر کے لیے دب ضرور جاتے ہیں مگر دفن بالکل نہیں ہوتے اس گرد کو ہٹانے والے مختلف روپ میں ”صوفی، سنت، سادھواور حقیقت کوننگی آنکھ سے دیکھنے کے متلاشی سائنسدان“ کی صورتوں میں سامنے آجاتے ہیں۔ اگر سوال مرتا تو زہر کا پیالہ پینے کے بعد سقراط کب کا مرگیا ہوتا مگر سقراط تو آج بھی زندہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *