گلوبل وارمنگ۔ کیا انسان اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مار رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان کو اشرف المخلوقات اس بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ اسے قدرت نے سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ یہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی ہے کہ انسان ہمہ وقت اپنی زندگی کو بنانے اور سنوارنے کی تگ و دو میں مصروف رہتا ہے۔ پر ایسی تگ و دو میں، جہاں انسانی ایجادات انسان کی زندگی کو آسان و سہل کرنے میں مدد دگار ثابت ہوئی ہے۔ وہاں زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کے چکر میں انسان نے اپنے لئے کئی مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔ دور حاضر میں دنیائے انسانیت کو دو اہم مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ جس میں ایک ماحول میں بڑھتی ہوئی آلودگی اور دوسرے کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے۔

ماحولیاتی آلودگی اورگلوبل وارمنگ کا تذکرہ ترقی یافتہ ممالک میں آج کل بہت عام ہوچکا ہے۔ عوامی دلچسپی کی وجہ سے نا صرف ان مسائل پر قابو پانے کے لئے سائنس اور ریسریچ پر کام ہورہا ہے بلکہ وہاں کی سیاسی جماعتیں بھی ماحول اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں توجہ دیتی نظر آتیں ہیں۔ پردوسری طرف پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک میں یہ مسائل ابھی بری طرح سے بے توجہی کا شکار ہیں۔

اب اگر ہم بات کریں کہ یہ گلوبل وارمنگ کیا ہے تو گلوبل وارمنگ زمین کے اوسط درجہ حرارت میں اضافے کا نام ہے۔ دراصل ہماری زمین کے ماحول میں مختلف قسم کے عوامل کے سے کچھ ایسی گیسز پیدا ہوتی ہیں۔ جو ہماری آب و ہوا کا حصہ بن کرزمین کا درجہ حرارت بڑھانے کا سبب بنتی ہیں۔ ان گیسوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ سرفہرست ہے۔

پر یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم فضا میں دوسری گیسوں کے اخراج کو تو روک سکتے ہیں، لیکن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج پر مکمل پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔ انسانوں کی جانب سے فضا میں بھیجی جانے والی کاربن کا صرف چالیس فی صد حصہ فضا میں رہتا ہے۔ 60 فیصد میں سے تقریبا آدھی کاربن سمندر جذب کرلیتے ہیں۔ جبکہ باقی کی تقریبا 30 فیصد کاربن کو کہیں نہ کہیں زمین جذب کرلیتی ہے۔ پرصنعتی انقلاب کے بعد سے فوسل فیولز (پیٹرول، ڈیزل، کوئلہ، لکڑی اور قدرتی گیس وغیرہ) کے استعمال سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ایک بڑی مقدار فضا میں شامل ہوجاتی ہے۔

چونکہ توانائی کے لئے یہ فوسل فیول ہماری توانائی کے حصول کے بنیادی ضروریات میں شامل ہیں۔ لہٰذا اسے فوری طور پر بالکل ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ان میں خاص طور پر کاربن ڈائی اکسائیڈ، میتھین اور کلوروفلورو کاربن ایسی گیسس ہیں جن کی مقدار بڑھنے سے فضا میں موجود گرین ہاؤس گیسز میں اضافہ ہوتا ہے، جوزمین کی سطح کا درجہ حرارت بڑھانے کی بھی ایک بنیادی وجہ ہے۔ اسی بنیاد پر اقوام متحدہ کی جانب سے کردہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے متعلق نویں سالانہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سال 2030 میں گرین گیس کا اخراج 15 ارب ٹن زیادہ ہوگا، جو کہ دو ڈگری سیلشئس سے زیادہ تپش بڑھانے کا سبب بنے گا، جس کا مداوا کرنے کے لئے کوئلے کے استعمال کو مکمل طور پرختم، آئل اور گیس کے استعمال میں کمی اور قابل تجدید توانائی میں اضافے کرنے پر ہے۔ اس کے علاوہ درخت بھی گرین ہاؤس گیسوں کو جذب کرتے ہیں۔

پاکستان کی بات کریں تو جرمن تھنک ٹینک، گرین واچ کی گلوبل کلائمیٹ انڈیکس 2020 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک میں پانچویں نمبرپر ہے۔ اسی رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 1999 سے 2018 کے درمیان موسمی تغیرات کی وجہ سے پاکستان کو تقریبا 9، 989 انسانی جانوں کا ضیاع اور 3.8 بلین ڈالر کے اقتصادی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تھنک ٹینک نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پیش آنے والے خطرات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

یہ گلوبل وارمنگ کے آثرات ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال موسم گرما میں گرمی کی شدت میں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ پاکستان کا حصہ گلوبل وارمنگ کا باعث بننے والی گیسز کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن گلوبل وارمنگ پر قابو پانے کی ٹیکنالوجی نا ہونے کے باعث ہم باقی ممالک کی نسبتا زیادہ متاثر ہورہا ہے۔

اگر ہم ان عوامل اورعناصر کی بات کریں جو گلوبل وارمنگ کا باعث بن رہے ہیں تو گرین ہاؤس گیسز میں اضافہ کا سب سے بڑا سبب فوسل فیولز کا استعمال ہے۔ جن کے جلنے سے بے تحاشا کاربن ڈائی آکسایئڈ پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جنگلات جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے میں انتہائی اہم کردار ہے، ان کی کٹائی کی وجہ سے بھی گلوبل وارمنگ میں اضافے ہو رہا ہے۔ فرسودہ اور روایتی طرز کی فارمنگ میتھین گیس اورنائیٹرس آکسائیڈ کے اخراج کا سبب بنتی ہیں جو گلوبل وارمنگ میں اضافے کی ایک وجہ ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں پر اقوام متحدہ کے بین الحکومتی پینل آئی پی سی سی کے عمومی اجلاس میں منظور کردہ رپورٹ میں یہ انتباہ کیا گیا ہے آنے والے سالوں میں عالمی حدت زمینی علاقوں کو متاثر کرے گی۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ صنعتی دور سے پہلے کا سطح زمین کا درجہ حرارت اوسط عالمی درجہ حرارت سے تقریباً دو گنا تک بڑھا ہے۔ جس کی وجہ سے بیشتر خطوں میں گرمی کی لہر سمیت گرمی سے متعلقہ مظاہر کی تعداد، شدت اور دورانیہ بڑھا ہے۔ بحیرہ روم، مغربی افریقا اور جنوبی امریکا کے بیشتر حصوں اور دیگرعلاقوں میں خشک سالی کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

آئی پی سی سی کا تخمینہ ہے کہ شدید موسمی حالات کے باعث خوراک کی مستحکم فراہمی کم ہو جائے گی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اگر 21 ویں صدی کے اختتام تک عالمی آبادی 9 بلین ہو گئی تو 2050 ء میں اناج کی قیمت 23 فیصد تک بڑھ جائے گی۔ جس سے خوراک کا عالمی بحران پیدا ہو گا۔

اگر ہم پاکستان پر گلوبل وارمنگ کے اثرات کی بات کریں تو گلوبل وارمنگ کے باعث پاکستان کے سلسلہ کوہ ہمالیہ میں گلیشیئرز کے پگھلنے سے ملک کے دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافے کا خطرہ ہے۔ قومی ادارہ برائے اوشنو گرافی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اگر سمندر کی سطح بلند ہوتی رہی تو آئندہ 35 سے 45 برسوں کے درمیان کراچی کے ساحلی علاقے ڈوبنے کا خطرہ ہے۔ درجہ حرارت کے بڑھنے سے پاکستان کے بنجر اور نیم بنجر علاقوں میں زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ آب و ہوا میں ہونے والی تیزی سے تبدیلی سے جنگلات میں پودوں اور درختوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اور تو اور گلوبل وارمنگ سے ہونے والے ان تمام نقصانات کی وجہ سے پاکستان میں خوراک اور توانائی کی سلامتی کو بھی شدید خطرہ درپیش ہے۔

اگرچہ گلوبل وارمنگ کے ادراک کے لئے موجود حکومت درخت لگانے پر زور دیتی ہے جوایک آچھا قدم ہے لیکن ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ مسئلہ صرف درخت لگانے سے حل نہیں ہوگا۔ ہمیں کاربن ڈائی آکسایئڈ کے اخراج کے دیگرعوامل کی روک تھام کی طرف بھی سنجیدگی سے غور کرنا پڑے گا۔

ہمیں تسلیم کرنا ہے کہ دنیا ماحولیاتی تبدیلی اورعالمی حدت کے باعث بڑی تیزی کے ساتھ اپنی ہلاکت کی جانب بڑھ رہی ہے۔ یہ ہماری خودغرضی ہے کہ اس سنگین مسئلے پر بے توجہی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ہم اس کو انسانی فظرت یا خودغرضی کہہ سکتے ہیں کہ انسان ہمیشہ اجتماعی مفاد کے مسئلوں سے منہ موڑتا ہے۔ لیکن اب اگر ہم ماحولیاتی آلودگی اور گلوبل وارمنگ جیسے مسائل کو نظر انداز کرتے ہیں تو بلا شبہ یہ اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply