JNU پر حملہ کیوں ہوا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علموں پر حملے نے بھارتی حکومت کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ اتوار کی شب سینکڑوں نقاب پوش لڑکے اور لڑکیاں ہاتھوں میں لوہے کے راڈ پکڑے زبردستی یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہیں، بوائز اور گرلز ہاسٹل میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ کرتے ہیں اور طالب علموں کے نام پکار کر ان کو مارتے ہیں اور زخمی کرتے ہیں جبکہ دلی پولیس صرف خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جے این یو پر حملہ کیوں ہوا اور وہ کون لوگ تھے جنہوں نے جے این یو پر حملہ کیا؟

نریندر مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اس کی حالت پہلے سے خراب ہوچکی ہے اور ایک بپھرے ہوئے سانڈ کی طرح جو بھی راستے میں آئے اسے کچلتا چلا جارہا ہے۔ جے این یو پر حملہ ”اے بی وی پی“ نے کیا۔ اے بی وی پی (اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد ) ہندو قوم پرست راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے وابستہ آل انڈیا طلبہ تنظیم ہے۔ بھارت میں CAA کے بعد جہاں عام عوام نے اس کی کھل کر مخالفت کی وہیں پر سٹوڈنٹ یونینز بھی کسی سے پیچھے نہ رہیں۔ بھارت کی ”پنجاب یونیورسٹی“ چندی گڑھ، ”آئی آئی ٹی یونیورسٹی“ اور ”جے این یو“ ان مظاہروں میں پیش پیش رہی۔

بھارت میں جاری کشیدگی کی ابتدا CAA کے بعد ہوئی۔ بھارت میں 1955 میں CA کی بنیاد رکھی اور اس میں حکومت کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ جس کو جب چاہے بھارتی شہریت دے سکتی ہے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ اس میں ترمیم کی ضرورت کیوں پیش آئی جبکہ حکومت کے پاس تو پہلے سے اختیارات موجود ہیں اور ایک ایکٹ بھی موجود ہے جس کے تحت وہ کسی بھی شہری کو جو بھارت سے باہر کا ہے اسے بھارتی شہریت دی جا سکتی ہے لیکن یہ فیصلے کا اختیار صرف سنٹرل گورئمنٹ کے پاس ہے۔

سی اے اے میں ترمیم کرکے بھارت میں پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آئے ہندو، سکھ اور دوسرے مذاہب کے لوگ (سوائے مسلمانوں کے ) بھارتی شہریت حاصل کرسکتے ہیں اس بنیاد پر کہ انہیں ”متعلقہ ملک یعنی پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں مذہب کی بنیاد پر حقوق حاصل نہیں ہیں یا ان کی جان کو خطرہ ہے“۔ بالکل ویسے جیسے کسی ویسٹ ملک میں جاکر یہ کہہ کر پناہ لے لی جائے کہ مجھے میرے ملک میں جان کا خطرہ ہے۔ مودی حکومت کی مکاری کا کسی کو علم نہیں ہے کہ اس نے یہ بل میں ترمیم کیوں کی۔

سی اے اے کی منظوری کے بعد بھارت میں دو مراحل پر مشتمل ایک پروجیکٹ سٹارٹ کردیا ہے جس میں پہلے مرحلے میں NPR یعنی ٹوٹل نیشنل پاپولیشن کو کاؤنٹ کیا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں NCR کی رجسٹریشن کے لیے عوام پر دباؤ ڈالا جائے گا۔ این سی آر کی رجسٹریشن ادھار کارڈ، برتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ ہوگی۔ اس مرحلے میں تمام کے تمام لوگ جو ہندوستان میں مقیم ہیں چاہے وہ ہندوستانی ہیں یا کسی اور ملک سے تعلق رکھتے ہیں کو ڈاکومنٹری پروف حکومت کو دینا ہوگا جس کی بنیاد پر ان کی رجسٹریشن ہوگی۔

اسی مرحلے میں جب ڈاکومنٹس حکومت کے پاس آئیں گے تو مودی سرکار یہ جاننے میں اہل ہوگی کہ کون سے مذاہب کے لوگ کتنی تعداد میں بھارت میں مقیم ہیں، ان میں سے کتنے مسلمان ہیں جو پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے بھارت میں مقیم ہیں ان کو الگ کرلیا جائے گا اور انہیں نہ تو شہریت دی جائے گی اور نہ ان کے ممالک (پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش) واپس بھیجا جائے گا بلکہ ان کو ”ڈیٹینشن سیل“ میں ڈال دیا جائے گا چاہے کوئی مرد ہے یا عورت۔

بھارت اب تک لاکھوں ڈیٹینشن سیلز بنا چکا ہے اور باقیوں کی کنسٹرکشن جاری ہے جس میں ان مسلمانوں کو ڈال کر سڑنے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔ اور ان کا ووٹ کا حق جو آج تک استعمال کرتے آئے ہیں ختم ہوجائے گا، انہیں کسی قسم کی کوئی شناخت نہیں دی جائے گی اور تصور یہ کیا جائے گا کہ یہ غیرقانونی طریقے سے بھارت میں داخل ہوئے اور عرصہ دراز سے بھارت کو لوٹتے رہے۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا شمار بھارت کی ٹاپ یونیورسٹیز میں ہوتا ہے۔ یہ وہ یونیورسٹی ہے جہاں پڑھا لکھا طبقہ جو اچھے اور برے میں تمیز کرنا جانتا ہے، ریسرچ اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں لینے والے طلبہ اپنے ملک میں ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں جو کسی بھی حکومت کو منظور نہیں ہے۔ جے این یو وہ پلیٹ فارم ہے جہاں پر بڑی تعداد میں مسلمان سکالرزاور دوسرے مذاہب کے طالب موجود ہیں جو مودی سرکار کی پالیسیوں سے جینوئن اختلاف کرتے ہیں اور عوام کے حق کی بات کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار نے اپنے رائٹ ونگ آل انڈیا طلبہ تنظیم کو استعمال کیا اور یونیورسٹی پر حملہ کروایا جس کا مقصد اپنے (حکومت) خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانا ہے۔ مودی سرکار کا شہریت بل ترمیم کا مقصد مسلم ووٹرز کا خاتمہ ہے۔ اس کے لیے پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ سفارتی تعلقات خراب تو کیا ختم بھی کرنا پڑے تو مودی سرکار اس سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ سی اے اے میں ترمیم کا مقصد صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانا ہے۔ ساتھ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آنے والے مہینوں میں بھارت مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے بد ترین ملک بن جائے گا۔ مودی نے مسلمانوں کے خلاف آر ایس ایس کو تو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی اب تعلیمی اداروں میں بھی اب اپناآپ دکھانے کے لیے طلبہ تنظیم کو استعمال کررہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *