آرمی ایکٹ کے حق میں ووٹ، ڈاکٹر کمار کی پارٹی رکنیت ختم

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں آرمی ایکٹ میں حالیہ ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر نیشنل پارٹی نے اپنے اقلیتی سینیٹر ڈاکٹر اشوک کمار کی پارٹی کی رکنیت ختم کر دی ہے۔

دوسری جانب ڈاکٹر اشوک کمار کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’ضمیر کی آواز پر‘ یہ ووٹ دیا ہے۔

نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا ہے کہ ڈاکٹر اشوک نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حق میں ووٹ دے کر پارٹی کے بنیادی سیاسی فکر و فلسفے کی نفی کی ہے۔

نیشنل پارٹی نے میاں نواز شریف کے دور حکومت میں بلوچستان میں ڈھائی سال حکومت کی تھی۔ نیشنل پارٹی صوبے اور وفاق میں بھی حکومت کا حصہ رہی۔ سینیٹ میں میر حاصل بزنجو سمیت پارٹی کے پانچ سینیٹرز ہیں۔

نیشنل پارٹی کے ترجمان جان بلیدی کا کہنا ہے کہ پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر حاصل بزنجو نے آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترمیم سے متعلق پارٹی پالیسی واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیشنل پارٹی ایک فرد کے لیے آئین میں ہونے والی ترمیم کی مخالفت کرے گی اور جمہوریت کے استحکام اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔

جان بلیدی کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق سینیٹر اشوک کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے اور 15 روز میں انہیں جواب دینا ہے جس کے بعد سینیٹ کی رکنیت کی منسوخی کے لیے الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیج دیا جائے گا۔

ڈاکٹر اشوک کمار 2015 سے سینیٹر ہیں اور 2021 میں ان کی مدت پوری ہو گی۔ ان کا بنیادی طور پر تعلق سندھ کے صحرائی علاقے تھرپارکر سے ہے۔ بعد میں وہ بلوچستان کے صنعتی علاقے حب منتقل ہوگئے تھے۔ اس سے قبل وہ تھر میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑ چکے ہیں جس میں انھیں شکست ہوئی تھی۔

وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے۔ انھوں نے سندھ میڈیکل کالیج سے ایم بی بی ایس کیا ہے۔ وہ تجارت سے بھی منسلک ہیں۔

ڈاکٹر اشوک کمار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان پر کسی کا کوئی دباؤ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے ’ضمیر کی آواز پر اور ملک کے وسیع تر مفاد میں‘ آرمی ایکٹ کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

’میں پارٹی کا شکر گزار ہوں جس نے مجھے یہاں تک پہنچایا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ملکی مفاد پارٹی کے مفاد سے زیادہ ہے، آخر میری سینیٹ کی یہ نشست چلی بھی گئی تو خیر ہے۔ میں نے ملکی مفاد کو اولیت دی۔‘

یاد رہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعد بدھ کو سینیٹ سے بھی پاکستانی برّی فوج سمیت دیگر مسلح افواج کے سربراہان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے قوانین میں ترامیم کا بِل منظور کر لیا گیا تھا۔

سینیٹ سے منظوری کے بعد اب یہ بل صدرِ پاکستان کو دستخط کے لیے بھیجا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15388 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp