صدائیں مجھے نہ دو!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فضا میں خنکی بڑھتی جا رہی ہے۔ میں کافی کا کپ لے کر ٹیرس پہ آ بیٹھا ہوں۔ نومبر کی شاموں کی اداسی میرے مزاج کے عین مطابق ہے۔ نومبر سے اگلے مہینے بھی میری سرد مہری سے زیادہ سرد نہیں۔ مو بائل کے سپیکر سے اٹھتی مہدی حسن کی آواز مجھے اپنے دل کی آواز لگ رہی ہے۔

شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو

میں کب کا جا چکا ہوں صدائیں مجھے نہ دو

سیگریٹ سلگا کر کافی کا ایک گھونٹ بھرتا ہوں اور سوچتا ہوں، کافی بھی تلخ مزاج لوگوں کی طرح اپنی کڑواہٹ میں میٹھے کی آمیزش سے مزید دلنشیں ہو جاتی ہے۔ لوگ مجھے بھی تلخ گردانتے ہیں مگر میرے لئے ستائش بھی چھپا نہیں پاتے۔ کافی میں تسکین کا احساس ہے۔ مجھے اس دنیا کی ہر شے سے بس اتنا ہی تعلق درکار ہوا کرتا ہے۔ ا س سے زیادہ کا تعلق دکھ ہے۔

میں جانتا ہوں کہ اب کچھ دن موبائیل پہ کوئی نوٹیفیکیشن آئے گا نہ ہی مجھے کسی مسیج کا جواب دینے کی کوفت سے گزرنا پڑے گا۔ آج ہی تو قصہ ختم ہوا ہے۔ بات جب ختم ہو جائے تو لمبی تاویلیں مجھے اچھی نہیں لگتیں۔ اپنے آخری میسیج میں وہ کہہ رہی تھی۔ ’لیکن کیوں؟ ۔ اگر یوں بدل جانا تھا تو پھر مجھ سے۔ ‘ اس کی آواز دکھ میں ڈوبتی محسوس ہو رہی تھی۔ میں بدلا کب ہوں۔ میں تو ہمیشہ سے ایسا ہی ہوں۔ میں کسی کی نا سمجھی کے لئے قطعی جواب دہ نہیں ہو سکتا۔

جو مجھے سمجھ نہ پائے میں اسے سمجھانے کا پابند ہر گز نہیں۔ بس میں چاہتا ہوں کہ مجھ پہ جذباتی وار نہ کیے جائیں۔ مجھے لوگوں کے خود ساختہ دکھوں سے کبھی ہمدردی محسوس نہیں ہوتی۔ چند دن کی گفتگو کوئی گہرا تعلق نہیں ہوتا۔ ہم فیس بک پر دوست بنے تھے۔ میں نے اسے اپنا ہم ذوق پایا تو اسے اپنے دوستوں میں شامل کر لیا جیسے دیگر کئی دوست۔ ان باکس بات کرتے کرتے ادب کی ہر جہت پہ بات ہوتی۔ بہت سے فلسفے زیر بحث آئے۔

وہ مجھے پینٹو میتھ (Pentomath) کہتی۔ اس بات سے مجھے خوشی ملتی۔ گفتگو کا سلسلہ جاری رکھنے کی یہ پہلی وجہ تھی۔ دوسری یہ کہ میرے دیگر دوستوں کی طرح وہ ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ حسین بھی تھی۔ ذہانت کے ساتھ حسن کی دلیل نہ ہو تو میرے لئے توجہ مرکوز کرنا خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔ شاید اسی لئے میں دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میرے سب دوست خوش شکل ہیں۔ لوگ مجھے بھی خوبرو گردانتے ہیں اور اس بات کو میں نے کبھی کوپلیمنٹ نہیں سمجھا بلکہ اس سے مجھے دوسروں کے خوش ذوق ہونے کی سند ملتی ہے۔ اور یوں میرے لئے بھی ان سے محو گفتگو ہونا سہل ہو جاتا ہے۔

ہوا کے جھونکوں نے یک دم خنکی کو سردی کے احساس میں بدل دیا ہے۔ کافی سرد ہواؤں سے مقابلے میں بر سر پیکار ہے۔ اور سگریٹ کے ہر کش کے ساتھ میں خود احتسابی کے عمل سے گز رہا ہوں۔ فراز کی غزل جاری ہے۔

کب مجھ کو اعتراف محبت نہ تھا فراز

کب میں نے یہ کہا صدائیں مجھے نہ دو

اعتراف محبت میری کہانی میں کبھی کہیں نہ تھا۔ محبت کی سر خوشی جب بھی محسوس ہوئی میں نے خود کو سمجھا لیا کہ یہ ایک وقتی احساس ہے، انتہائی مختصر المیعاد۔ اس لئے میں عہد و پیمان کا کبھی قائل نہ ہوا، نہ ہی کبھی کسی رشتے کو اس ڈور سے باندھنے کی کوشش کی۔ آج جو کچھ ہوا تھا پہلی بار نہ تھا۔ ہر بار کے بعد میرے روئیے میں مزید بے زاری در آتی ہے۔ میں خود کو مزید محَدود کر لیتا ہوں۔ مگر پھر کوئی نہ کوئی ایسی واردات ہو ہی جاتی ہے۔

’ آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کر رہی‘ ۔ موبائل پہ غیر متوقع طور پہ روشنی ابھری ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں میں بھی میسیج پڑھا جا سکتا ہے۔ ’بالکل نہیں‘ ۔ مجھے تعلق کے ابتداء میں فوری ریپلائی کرنا بھلا محسوس ہوتا ہے۔ کئی بار اسی طرح دوستیوں کا آغاز ہوا۔ البتہ جب گفتگو میں فکری اور منطقی استدلال کی جگہ جذباتیت لے لے تو میسج کا جواب دینا میرے لئے محال ہو جاتا ہے۔

میں زندگی میں ’محبت ایک بار ہوتی ہے‘ کا کبھی قائل نہیں رہا۔ یہ سراب جا بجا ہیں۔ میں نے اس تعلق کے نام پہ جڑنے والے رشتوں کو اذیت کی حد تک جاتے دیکھا ہے۔ اس لئے میں اس خیال کا حامی ہوں کہ ’تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا‘ ۔ البتہ وہ محبت جو دوسرے کے لئے عقلی اور جذباتی بوجھ نہ بنے ایک اعلیٰ محبت کہی جا سکتی ہے۔

میری شادی شدہ زندگی بھی شاید اسی لئے کچھ زیادہ خوش گوار نہ تھی۔ مجھے اپنی بیوی کے چھوٹے چھوٹے نا قابل بیان دکھ کبھی سمجھ نہ آئے تھے۔ یا شاید میں سمجھنا چاہتا نہیں تھا۔ میں شروع ہی سے ایک آزاد طبع انسان ہوں۔ مجھے پابندیوں سے گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ میں کسی کو اپنے ذہن پہ سوار نہیں کر سکتا۔ مجھ جیسے لوگوں کے لئے اکثر شادی جیسا تجربہ ناکام ہی ثابت ہوتا ہے۔ اگر کوئی تعلق توڑ کے جانا چاہے تو اسے روکنا میرے نزدیک غیر اخلاقی رویہ ہے۔

مجھے صرف وہی بات متاثر کر سکتی ہے جس کو میں شعوری سطح پہ جانچ سکوں، پرکھ سکوں۔ اس لئے اکثر جذبات جیسے واردے میرے لئے ایک حیاتیاتی حقیقت سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ انسان کے ہارمونز کسی جذبے کو تحریک دیتے ہیں تو اس کی شدت سے انسان مغلوب ہو جاتا ہے۔ مگر ہر انرجی کی طرح ہارمونز کے اثرات بھی اپنی شدت کو پہنچ کر کسی اور انرجی میں ڈھل جاتے ہیں۔ لاء آف کنزرویشن آف انرجی انسانی جذبات پر بھی پوری طرح صادق آتا ہے۔

سیگریٹ کے دھویں سے کتنے ہی نقش بن رہے ہیں۔ اس دھوئیں میں کئی عکس ہیں۔ سب دوستوں کے۔ ان کی سب خوبیاں۔ روشن باتیں۔ گہری آنکھیں۔ دلکش مسکراہٹیں سب۔ ان سب دوستوں کو ایک ایک کر کے میں نے کھو دیا۔ سب چہرے مجھے یاد ہیں جو اب میرے ساتھ نہیں۔ میرے ساتھ اس لئے نہیں ہیں کیونکہ میں اپنی ذات کی نفی کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ان سب کو کھو کر میں خود کو پہلے جیسا مکمل محسوس کرتا ہوں۔ اپنے ہونے اور تنہا ہونے کا احساس میری سب سے بڑی طاقت ہے۔

یادوں کے دھندلکے میں ان حسینوں کے چہرے اور کھنکتی آوازیں بھی شامل ہیں جن سے محبت میں نے بھی کی مگر میں اظہار سے معذور ہی رہا۔ محبت کا احساس بھی دیرپا ثابت نہ ہو سکا۔ تسخیر کی خو نے مجھے سفر میں ہی رکھا۔ میں نے دیکھا کہ محبت کبھی یکساں رہتی ہے، نہ دائمی ہوتی ہے۔ لوگ اس میں تغیر دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں۔ مجھے اس میں تبدل فطری دکھتا ہے۔ محبت کو بھی اس دنیا کی ہر شے کی طرح کسی نہ کسی نقطے پہ فنا ہو جانا ہے۔ زندگی اس فنا کے نقطے تک انسان کو آنکھیں بند کر کے چلنے کا اذن دیتی ہے۔ مجھے یہ بہلاوہ قبول نہیں۔ میں زندگی کھلی آنکھوں سے، ہوش مندی سے جینے کا قائل ہوں۔ مجھے کوئی تابع نہیں کر سکتا۔ یہی میرا مسلک ہے۔

میں نے جس قدر مذاہب کی تاریخ پڑھی، مجھ میں سر جھکانے کی صلا حیت اسی قدر نا پید ہوتی چلی گئی۔ ’Cognito ergo sum‘ ۔ ’میری عقل ہی میرے ہونے کی دلیل ہے‘ ۔ میں رینے ڈیکارٹ کے اسی اثبات کے ساتھ جینا چاہتا ہوں۔ میرے نصف صدی کے مشاہدے میں گنے چنے ایسے افراد آئے جو اس بات کو نہ صرف سمجھ سکے بلکہ میری ہی طرح عقل سے ہر جذبے کا ادراک کرتے ہیں۔ مجھے اگر کوئی شے متاثر کر سکتی ہے تو وہ ذہانت ہے۔ میرے لئے جنسی تحریک کا ماخذ بھی یہی ہے۔

’ آپ کسی سے محبت کر ہی نہیں سکتے‘ ۔ اس کے آخری الفاظ میرے ذہن میں گونج رہے ہیں۔ محبت کے جذبے نے انسان کو ہمیشہ الجھاؤ میں رکھا۔ اپنی اثبات پہ تشکیک محبت ہی کا خاصہ ہے۔ میں مسکراتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ محبت ایک سراب نا رسا ہے۔ میں محبت کا عقلی اور شعوری طور پہ تجزیہ کرتا ہوں۔ کچھ محبتیں ساحر کی محبت کی طرح ہوتی ہیں جن کا تعلق دل سے نہیں عقل و شعور سے ہوتا ہے۔ دنیا ابھی انھیں سمجھنے پہ آمادہ نہیں۔ فضا میں بڑھتی خنکی مجھے بھلی لگ رہی ہے۔ میرے فون میں روشنی جگمگا رہی ہے۔ ذہین لوگوں سے دلچسپ گفتگو میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *