مولا نگاہ نگاہ ایک عہد ساز شخصیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان ایک کثیراللسانی ملک ہونے کے باوجود یہاں پر لسانی تنوع کو دل سے کبھی قبول نہیں کیاگیا۔ اس وجہ سے پاکستان میں بولی جانے والی چھوٹی زبانوں اور ثقافتوں کی آبیاری کے لیے حکومتی سطح پر پالیسی تشکیل دی گئی نہ کوئی منصوبہ بندی کی گئی۔ اس وجہ سے چھوٹی زبانوں سے تعلق رکھنے والے ادیب اورلکھاری ہمیشہ حکومتی سرپرستی اور حوصلہ افزائی سے محروم رہے۔ لیکن ماں بولی سے پیار کرنے والے یہ مقامی ادیب، لکھاری جو نام اور شہرت سے بے پرواہ ہو کراپنی زبان کی ترویج اور اپنی ماں بولی کو معدوم ہونے سے بچانے کے لیے صلے اور ستائش کی تمنا کیے بے غیر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور کچھ نے اپنی پوری زندگی اس ماں بولی کی خدمات کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے۔

ان عظیم لوگوں میں سے ایک نام کھو زبان کے محقق، شاعرادیب اور لکھاری مولا نگاہ نگاہ مرحوم کا بھی ہے۔ جو پوری عمر بے غیر کسی لالچ اور عہدے کے صرف اور صرف اپنی ماں بولی اور ثقافت کی ترویج کے لیے اپنی زندگی وقف کی۔ اس طرح نگاہ صاحب اپنی خدمات اورتحقیق کی وجہ سے کھو زبان و ثقافت کی اور کھو زبان و ثقافت نگاہ صاحب کی پہچان بن گئی۔ مولا نگاہ 1949 ء میں چترال کے ایک دور افتادہ گاؤں تریچ میں پیدا ہوئے۔ نگاہ صاحب کا بچپن تریچ گاؤں میں ہی گزرا۔

پانچویں جماعت تک تعلیم اپنے علاقے تریچ کے پرائمری سکول سے حاصل کی۔ مڈل کا امتحان گاؤں سے دور مستوج کے ایک سکول سے پاس کیا۔ اس کے بعد گاؤں واپس آگئے کیونکہ گاؤں کے قریب کہیں مزید تعلیم کے لیے ادارے موجود نہیں تھے۔ والدین اپنے بچے کو گاؤں سے بہت دور بھیجنے کے لیے تیارنہیں تھے۔ اس طرح دو سال گزر گئے۔ جب موڑکھو گاؤں میں پرائمری سکول کو میٹرک تک کا درجہ دیا گیا تو نگاہ صاحب نویں جماعت میں داخلہ لیا۔

اسی سکول میں نگاہ صاحب 15 جولائی 1968 ء کو ریاست چترال کے میٹرک بورڈ سے پہلی پوزیشن لی۔ اس وقت تک چترال میں میٹرک سے آگے تک کی تعلیم میسر نہیں تھی۔ اس لیے 20 اگست 1968 ء کو میٹرک کے رزلٹ آنے کے ایک مہینہ اور 5 دن بعد ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں جے وی (پی ٹی سی ) ٹیچرکی حیثیت سے اپنی ملازمت شروع کی۔ اس طرح سیکھانے کے عمل کے ساتھ سیکھنے کا عمل بھی جاری رہا۔ ایف اے، سی ٹی، بی اے، بی ایڈ پھر ایم اے اردو پرائیویٹ طور پر پشاور یونیورسٹی سے کیا۔

اردو میں ماسٹر کے بعد ایم اے فارسی میں داخلہ لیا۔ ایم اے فارسی سال اوّل کا امتحان پاس کیا ہی تھا، گھر میں والد صاحب کی بیماری کی وجہ سے یہ سلسلہ قائم نہیں رہ سکا۔ نگاہ صاحب اپنے وقت کے ایک قابل اور محنتی استاذ کے طور پر مانے جاتے تھے۔ دوران ملازمت آپ نے محکمہ ایجوکیشن میں کئی ذمہ دار عہدوں پہ فائض رہے اور ہرجگہ اپنی محنت اور قابلیت سے نام کمایا۔ اس طرح محکمہ ایجوکیشن میں طویل وقت گزار کر نگاہ مرحوم نے 2002 ء کوگریڈ 18 میں پرنسپل کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔

نگاہ صاحب کی شاعری کا آغاز نویں جماعت سے ہی ہوتا ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں نگاہ صاحب نے اس طرف اشارہ کیا تھا کہ ابتدائی شاعری کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے لیکن شاعری کا جذبہ موجود رہا۔ نگاہ نگاہ ستمبر 1979 ءمیں غلام عمر کے معیت میں پہلی بار شغور لوٹ کوہ میں ایک مشاعرے میں شرکت کی۔ یوں نگاہ صاحب کا رجحان ادب اور شاعری کی طرف ہوگیا۔ 2006 ء بابا سیار کے فارسی دیوان کو اردو میں ترجمہ کیا اور شرح لکھی۔ جسے مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد نے چھاپا۔ اس کی تقریب خانہ فرہنگ ایران پشاور میں اکیڈمی ادبیات پاکستان کی اشتراک سے منعقد ہوئی۔ جس میں پاکستان بھر سے ادیب اور دانشور حضرات نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔

یہ کتاب مولا نگاہ نگاہ صاحب کی فارسی دانی کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔ اب کتاب اردو زبان کی معروف ویب سائیڈ ریختہ میں دستیاب ہے۔ نگاہ صاحب کی اردو دانی اور ادب شناسی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں جب 11 ستمبر 2007 ء کو وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر ِنگرانی ”قائد تجھے میرا سلام“ کے عنوان پر قومی مکتوب نویسی مقابلے میں حصہ لے کر پاکستان میں ساتویں نمبر پر رہا۔

اس مقابلے میں قائداعظم محمد علی جناح کو خط لکھ کر اپنا پیغام پہنچانا تھا۔ اس مقابلے میں پاکستان بھر کے لکھاریوں میں ساتویں پوزیشن لینے پر اسلام آباد وزیر اعظم ہاؤس بلا کر نگاہ صاحب کو پرائم منسٹر انعام اور کیش پرائز سے نوازا گیا۔ مذکورہ مقابلے کے انعام یافتہ مضامین اور خطوط کو اکٹھا کرکے ایک کتابی صورت میں وزارتِ اطلاعات ”قائد تجھے میرا سلام“ کے ٹائٹل سے شائع کی ہے۔

نگاہ صاحب کا شعری مجموعہ ”نقطہ نگاہ“ کھوار شاعری میں ایک مستند اور خوبصورت اضافہ ہے۔ جس میں حمد باری تعالیٰ، نعت رسول مقبولؐ، نظم اور غزل کل ملا کر 84 اشعار پر مشتمل ہیں۔ یہ کتاب 2012 میں شائع ہوئی۔ نگاہ صاحب نے اگرچہ شاعری کے تمام اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔ لیکن نظم گوئی میں جو رتبہ پایا ہے وہ بہت کم شعراءکے حصے میں آیا ہے۔ خصوصاً نگاہ صاحب کو کھوار مزاحیہ شاعری کا بانی تصوّر کیا جاتا ہے۔ ان کی سنجیدہ و مزاحیہ نظموں کے اکثر اشعار کھوارمیں ضرب المثل کی شکل اختیار کر چکے ہیں نگاہ صاحب کے کئی ایک غیر مطبوعہ نسخے بھی موجود ہیں، جن میں آپ کی لکھی ہوئی آپ بیتی جو اردو میں ہے، اردو شاعری کا مجموعہ، نعتیہ شعری مجموعہ، کھوار شاعری کے دومجموعے، کھوار اردو لغت، کھوار محاوروں کا کتابچہ، رضا خیل برادری کا شجرہ نصب اور ”مہتر شجاع الملک کی دور حکمرانی“ شامل ہیں۔

نگاہ صاحب ادب کے ساتھ ساتھ لسانیات کی باریکیوں کو بھی بہت اچھے طریقے سے سمجھتے تھے۔ وہ صوتیات، ساختیات، لغت نویسی، ارتھوگرافی اور ایٹیمالوجی کے ماہر تھے۔ نگاہ صاحب کی ایک اور خوبی یہ تھی کہ چترال کے اندر کئی ادبی اور ثقافتی تنظیمیں اپنی بساط اور طریقہ کار کے مطابق زبان کی ترقی کے لیے کام کرتی ہیں۔ لیکن نگاہ صاحب ایک تنظیم کے بنیادی رکن اور عہدہ دار ہونے کے باوجود بھی تمام دوسرے برادر تنظیموں کے لیے قابل قبول تھے۔ وہ ادب کے کاموں میں کبھی پارٹی نہیں بنتے تھے۔

نگاہ صاحب کا کا کہناتھا ”میں کام کرنے والوں کے ساتھ ہوں جو بندہ یا جو تنظیم مجھ سے ادب کا کام لینا چاہے میری خدمات حاضر ہیں“۔ نگاہ صاحب کی اِن باتوں سے اُن کی ادب دوستی اور عظمت کا پتہ چلتا ہے۔ چترال میں تاریخ کے حوالے سے بھی نگاہ صاحب ایک مستند حوالہ سمجھے جاتے تھے چترال کی تاریخ کا ایک ایک واقعہ ان کو ازبر تھا۔ ان کو وہ واقعات بھی یاد تھے جو تاریخ کے کتابوں میں آچکے ہیں اور نگاہ صاحب کو وہ واقعات بھی یاد تھے جو کسی نہ کسی وجہ سے تاریخی دستاویز کا حصہ نہ بن سکے۔

نگاہ صاحب کی عظمت یہ تھی وہ نوجوانوں کی رہنمائی کے لیے ہر وقت دستیاب ہوتے تھے وہ ہر ایک لکھنے والے کی حوصلہ افزائی کرتے ان کی مدد کرتے، قلمی کاموں کی نوک پلک سنوارتے، رہنمائی کرتے۔ اگر نگاہ صاحب وقت کا وہ حصہ اپنے کاموں کی تکمیل پر صرف کرتے تو یقینی بات ہے اُن کی مطبوعات کی تعداد زیادہ ہوتی۔ باتیں لکھتے جائیں نگاہ صاحب کی باتیں بڑھتے ہی جائیں گے لیکن نگاہ صاحب کی زبان و ادب کی خدمات کی باتیں ختم نہیں ہوں گے جس پہلو سے دیکھے جس زاویے سے نظر دوڑائیے نگاہ صاحب کی خدمات سب سے اگے ہی نظر آئیں گی۔ اس لیے میں یہ کہنے میں حق بجا نب ہوں کہ نگاہ ایک دور کا نام تھا یہ دور 5 جنواری 2019 کو تمام ہوا لیکن نگاہ صاحب کا نام زبان و ادب کی خدمت کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

(نگاہ صاحب کی پہلی برسی پر لکھی گئی تحریر)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *