اخلاقیات یا جنازیات؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں ڈرامہ نگاری کی معاشرے میں اہمیت بہت زیارہ ہے کیونکہ پاکستان کا ہر تیسرا شخص پاکستان کے کسی نہ کسی ڈرامے سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔ اور یہ ایسا کیونکر ہے؟ کیونکہ پاکستان کے زیادہ تر عوام کام سے زیادہ اپنے ارد گرد ہونے والی سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ اب بیشک آپ اپنے ارد گرد بغور جائزہ لیں تو آپ کو ہر گھر میں ایک نہ ایک شخص ضرور دیکھنے کو ملے گا جو کہ آپ کو ہر دوسرے گھر میں وقوع پزیر ہونے والے واقعات سے آگاہ رکھتا ہو گا۔ ایسے میں زیادہ تر لوگوں کے فارغ رہنے کی وجہ سے ٹی وی پر نشر ہونے والے ڈراموں کو دیکھنا ایک اہم فریضہ سمجھتے ہیں۔

تو ایسے میں ہمارے ملک میں کس طرح کے ڈرامے دکھا ئے جاتے ہیں وہ بھی ملا حظہ کیجئے۔ ایسا معاشرہ جہاں روانہ کی بنیاد پر زینب، فرشتہ جیسے واقعات رونما ہو رہے ہوں وہاں پاکستان کا ہر ڈرامہ صرف عاشقی اور محبت دکھا رہے ہیں۔ اگر پاکستان میں شائع کیے جانے والے ڈراموں پر نظر ڈالی جائے تو شاید ہی کوئی اکا دکا ڈرامے معاشرتی مسائل پر روشنی ڈالتے ہیں۔ مگر باقی کے زیادہ تر ڈراموں میں صرف اور صرف محبت جیسا عنصر ہی دکھائی دیتا ہے۔ یہی نہیں اس کے علاوہ معاشرے میں بڑھتے ہوتے طلاق کے رجحان کو بھی بڑے فخر سے دکھایا جاتا ہے جو کہ کسی زمانے میں ایک معیوب سمجھا جاتا تھا مگر آج کل کے ڈراموں میں اس شے کو بڑھا چڑھا کر دکھایا جا رہا ہے۔

اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ ڈرامہ دیکھتے اور مشاہدہ کرتے بچے بھی والدین سے ایسی باتیں پوچھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ڈراموں میں دکھائے جانے والے غم و غصے اور دیگر عناصر کو بچے خود میں ڈھالنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر یوں ایک تیار شدہ بچہ بلکہ یوں کہیے کہ ایک تیار شدہ ڈرامہ آپ کے سامنے موجود ہے۔

ڈرامہ نویسی چونکہ آج کل کے دور میں بے حد مقبول ہو رہی ہے اور اس میں سب سے ضروری قابل غور امر یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل ان ڈراموں میں زیادہ دلچسپی لیتی ہے تو ڈرامہ نگاروں کو بھی یہی چاہیے کہ وہ معاشرے میں موجود ہر برائی کو منظر عام پر لائیں۔ تاکہ لوگ ان برائیوں سے واقف ہوں اور ایسے ڈراموں میں محبت کے عناصر کو کم سے کم دکھائیں تاکہ ہماری نوجوان نسل اس مرض سے دور رہے۔ جس سے کہ نتیجے میں ہم ایک مستحکم ریاست کا قیام عمل میں لا سکتے ہیں تاکہ ان برائیوں کا بہترین حل تلاش کیا جا سکے اور معاشرے کو ان برائیوں سے چھٹکارا مل سکے۔

اور ڈرامہ نگاری و نویسی بہترین اخلاقی اقداروں کو فروغ دے سکیں نہ کہ اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ملک وقار احمد، ملتان کی دیگر تحریریں

Leave a Reply