امریکہ ایران کشیدگی میں اقوام متحدہ پر اٹھتے سوالیہ نشان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنگ عظیم اول ( 1914۔ 1918 ) کی ہولناک تباہی لیگ آف نیشنز کے قیام پر جا کر منتج ہوئی جس کا مقصداقوام عالم کے درمیان ڈائیلاگ کے لئے ایسے اقدامات کرنا تھا کہ جن کے ذریعہ آئندہ ایسی ہولناک تباہی سے بچا جا سکے۔ لیگ کی 26 سالہ تاریخ طاقت کے سرچشموں کی ناجائز طور پر طرف داری سے عبارت رہی۔ مسولینی کا مشہور قول

The league is very well when sparrows shout, but no good at all when eagle fall out.

لیگ کے کردار کی صحیح رنگ میں تصویر بیان کرتا ہے۔ لیگ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے بری طرح ناکام ثابت ہوئی جس کے نتیجہ میں جنگ عظیم دوم ( 1939۔ 1945 ) کا انسانیت سوز سانحہ رونما ہوا۔ اس جنگ کے نتیجہ میں 60 ملین سے زائدانسانیت کی ہلاکت کے بعد ظلم کی انانیت کو کچھ تسکین ملی تو لیگ آف نیشنز کے کھنڈرات کی بنیادوں پر اقوام متحدہ کی عمارت تعمیر کی گئی۔

اقوام متحدہ ایک ایسا عالمی جمہوری فورم ہے جہاں حریف ممالک اپنا مؤقف بیان کر کے دنیا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر یں کہ جس سے ڈائیلاگ کی ایک فضا پیدا ہو اور کشیدگی اور تصادم کی راہ سے بچا جا سکے۔ امریکہ ایران کی حالیہ بڑھتی ہوئی کشیدگی میں اقوام متحدہ کے کردار پر سوالیہ نشان اٹھائے جا رہے ہیں چنانچہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کو امریکہ کا ویزہ ایشو نہ ہونے پراقوام متحدہ کے ادارہ سیکیورٹی کونسل میں شرکت سے روک دیا گیا۔

امریکہ کو اپنی سرزمین کے حوالہ سے کسی کو داخلہ کی اجازت دینے یا نہ دینے کا پورا اختیار حاصل ہے لیکن ایرانی وزیر خارجہ کوسیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے ویزہ ایشو نہ کرنا اقوام متحدہ کے قیام کی بنیادی روح اور اس کے قوانین سے متصادم ہے۔

ماضی میں ایسی کئی مثالیں ہیں کہ جب امریکہ کے شدید مخالفین عین جنگ کی حالت میں اقوام متحدہ کے اجلاسات میں آکر اپنے مخالفین کے خلاف تقاریر کرتے رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال کیوبا کے فیڈل کاسترو اور سویت یونین کے نکیتا خروشیف کی ہے جو سرد جنگ کے عروج کے وقت اپنے حریفوں کے خلاف سخت تقاریر کرتے تھے اور ایسے مخالفین کو امریکہ داخلہ سے نہ روکا گیا۔ اقوام متحدہ کو امریکہ ایران کشیدگی ختم کرنے کے لئے کلیدی کردار ادا کرنی کی ضرورت ہے نہ یہ کہ یہ اپنی پیش رو لیگ آف نیشنز کی ڈِگر پر چلنا شروع کر دے۔

اس حوالہ سے اگر اقوام متحدہ نے کوئی اہم کلیدی کردار ادا نہ کیا تو دلوں میں موجود نفرتیں اور زیادہ ہوں گی نیز اس بار مشرق وسطیٰ میں ہونے والا کھڑاک اپنی شدت میں ماضی سے بہت زیادہ ہو گا کیونکہ اس بار امریکہ کے مدمقابل ایران ہے جو کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے کلیۃً تسلط کے درمیان آخری روک ہے اس لئے جہاں امریکہ اپنا پورا زور اور طاقت لگائے گا وہاں امریکہ مخالف سوچ بھی پوری قوت کے ساتھ اپنے دفاع کے لئے نکلے گی لیکن افسوس کہ اس تمام کھیل میں انسانیت لہو لہو ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply