جمہوریت کہاں سے تلاش کریں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی بھی معاشرہ ہو، جب تک وہاں حق کا بول بالا نہیں ہوگا، وہاں نہ امن ہوگا اور نہ خوشحالی۔ جب معاشرے میں لوگوں کا مقصد صرف اپنی زندگی جینا ہوگا تو پھر نہ کوئی محمد علی جناح پیدا ہوگا نہ اقبال اور نہ ہی کوئی نیلسن منڈیلا بنے گا۔

لیکن یہاں معاشرے میں ہر دوسرا سیاسی لیڈر اپنے آپ کو جناح اور منڈیلا سمجھتا ہے۔ اور باقی طبقہ مفکر، دانشور بنتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں بڑے بڑے خود غرض سیاستدان ہیں۔

لیکن! جو پتہ وزیراعظم بننے کی آس لگائے شریف بردارن نے کھیلاہے اس میں صرف اور صرف ذلت ہے۔

قبلہ عمران خان صاحب بہت یو ٹرن لیتا ہے لیکن! شاید اتنا بڑا موجودہ دور میں نہ لیا ہو۔

یہ کون لوگ ہیں؟

کیا انسان نہیں؟

کیا صرف اقتدار ہی سب کچھ ہیں؟

یہ حق کا عَلم بلند کرنے والے کیسے گراوٹ کے نچلے درجے کو چھو سکتے ہیں؟

یہ کیسے مشکلات میں گِھری قوم کے جز بات سے کھیل سکتے ہیں؟

یہ بڑے لیڈر کیسے اپنے ورکرز کو شرمندہ کروا سکتے ہیں؟

ان سب سوالات کا جواب آج اس قوم کو خود جاننے ہیں۔

جو آنکھیں بند کرکے اپنی جان، مال سب ان پہ نچھاور کرتے ہیں۔ ڈان لیکس کے بعد میاں نواز شریف کی زیر سرپرستی دیگر ن لیگی مرکزی قیادت نے اداروں کے خلاف عَلم بغاوت بلند کیا۔ اور نتیجہ یہ نکلا کہ وزارت عظمی کی کرسی بھی گئی اور پارٹی کو بھی اپوزیشن بینچزپہ بٹھا دیا۔ سڑکیں بند، ہر طرف احتجاج، لانگ مارچ، پانچ نے نکالا، مجھے کیوں نکالا، خلائی مخلوق، محکمہ ذراعت، ‏واٹس ایپ جج، ‏ہیروں کی جے آئی ٹی، ‏نیب کیسز، ‏جیل کی سلاخیں، ‏ہتھکڑیوں کی زنجیریں، ‏حوالدار میڈیا، ‏اداروں کے سوشل میڈیا سیل وغیرہ وغیرہ۔ یہ بیانیہ تھا ن لیگ کا۔ لیکن، اچانک کیسے روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے بدلا۔

 کہا جاتا ہے کہ اس سب کا ماسٹر مائینڈ Hat boy ہے۔

اگر شریف بردارن نے یہی سب کرنا تھا، بالآخر

اگر چوہدری نثار بیانیہ ہی چلنا تھا تو تب ہی حق کا عَلم بلند کردیتے۔

تاکہ آج سعد رفیق، احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی وغیرہ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت نہ رہے ہوتے۔

آج خواجہ آصف اور رانا ثنا اللہ جیسے دبنگ لیڈر ٹاک شو میں اینکر کے ایک سوال کا جواب دینے کے لئے پچاس بار اٹکتے ہیں۔

پارٹی کی جونئیر قیادت بھی پریشان ہے کہ اگر میاں صاحبان نے عمران خان کی امامت میں کھڑا ہونا تھا تو پھر ماضی میں جنرل راحیل شریف، پرویز مشرف سے ہی ہاتھ ملا لیتے تاکہ پارٹی کو اخلاقی اور نفسیاتی نقصان نہ پہنچتا۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ شریف فیملی کی تاریخ ہے کہ ان کا سیاسی آغاز اور اختتام صرف اسٹیبلشمنٹ کے مرہون منت ہے اور ہمیشہ انہوں نے نظریہ ضرروت کے تحت پینترا بدلا۔ کتنی ذلت کا مقام ہے کہ آج پرویز رشیدجیسے لیگی لیڈر نے سینٹ میں پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کیں۔

نظریہ ضرورت کے تحت طاقتور حلقوں کی گود میں بیٹھ گئے۔ لیکن! شاید اقتدار کی ہوس میں یہ سب بھول گئے کہ پارٹی کا نظریہ ہی اس کی سیاسی زندگی اور موت ہے۔ آج میاں برادران تو لندن میں بیٹھے حکم دیتے ہیں لیکن لیگی نظریاتی ورکرز کہا رونا روئے!

جمہوریت کا درس دینے والی مریم نواز کیسے خاموش بیٹھی ہے اتنی جمہوریت پسند تھی تو کھڑی ہوجاتی اس حکم نامے کے خلاف، علم بغاوت بلند کرتی۔ مریم نواز نے ماں کی موت دیکھی، مریم کے بھائی ماں کے جنازے میں نہ آسکے۔ بیٹی بوڑھے باپ کے ہمراہ گرفتار ہورہی ہیں۔ کیا مریم نواز نے یہ سب جمہوریت کے لئے کیا تھا یا اقتدار کے لیے؟ لیگی ورکرز سوچنے پہ مجبور ہیں۔

یہ سب کرنے کے باوجود بھی اُنکا کیا پتہ کل کو اِنکو پھر دغا دیں۔

عمران خان کا تو کوئی سیاسی وارث نہیں، ان کے وجود سے پارٹی کا وجود ہے۔ کہیں یہ نہ ہو، کہ کل کو اپنوں سے دغا کرنے والوں سے دغا ہوجائے!

عام پاکستانی یہ سوچنے پہ مجبور ہوگیا تھا چاہے جس بھی سیاسی جماعت سے اس کا تعلق ہو کہ اب میاں صاحب جمہوری ہوگئے۔

لیکن، ساری محنت پہ پانی پھیر دیا۔ اس قوم کے باسیوں سے اپیل ہیں کہ یہاں سب سکرپٹ کے تحت ہورہا ہیں۔

سیاسی بیان بازیوں میں نہ آئے اور اپنا وقت اپنی اور اس قوم کی ترقی کے لئے صرف کریں۔ تعلیم حاصل کریں تاکہ اشرف المخلوقات کا مقصد جان سکیں اور ایک اچھی زندگی بسر کرسکیں۔

مشکل وقت میں شریف فیملی کا ساتھ دینے والے اب جمہوریت کہاں تلاش کریں۔ اگر قیادت اقتدار کی بھوکی ہو تو شاید کبھی نہ کرپائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply