لڈو کی ٹوپی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فیصل کے کھانسنے سے میری آنکھ کھل گئی، ذہن سو رہا تھا لیکن پریشانی سے آنکھیں پوری کھول کر فیصل سے پوچھنے لگی کہ کیا ہوا آپ کو لیکن فیصل کھانسے گئے، بہ مشکل سن ہوتے ہاتھ پاوں حرکت میں لائی اور فیصل کو سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس تھمایا، فیصل کو پانی پی کر ہی سکون آیا، خواہ مخواہ خشک ہوا چل پڑی، موسم خشک ہونے کی وجہ سے گلا بھی خشک ہو گیا تو کھانسی آ گئی، فیصل بولے، منہ بند کر کے سویا کریں، میں نے مشورہ دیا، فیصل بھنا گئے، عجیب بات کرتی ہو، میں ہنستے ہوئے دوبارہ لیٹ گئی، دیوار پر آویزاں گھڑی کو دیکھا لیکن نگاہ کی کمزوری گھڑی کی سوئیوں کو پہچان نہ پائی، ہائے یہ بڑھاپا، کمزور نگاہ اور سن ہوتے ہاتھ پاوں، سرہانہ ٹٹول کر دستی گھڑی میں وقت دیکھا، تو صبح کے سوا سات ہوئے تھے، بلا وجہ اتنی جلدی آنکھ کھل گئی، اب کیا کروں گی، پہاڑ سا دن اور کوئی مصروفیت بھی نہیں، اچانک فیصل کے خراٹے سنائی دیے تو اور بھی جھنجھلاہٹ ہوئی، خود تو کھانس کر میری نیند برباد کی اور اب سو بھی گئے، دل چاہا جھنجوڑ کر اٹھا دوں، لیکن پھر سوچا، بک بک کرتے رہیں گے، تھوڑی دیر سونے کی کوشش کی لیکن یہ ہمیشہ کی عادت تھی کہ صبح جب آنکھ کھل گئی تو بس بستر چھوڑ دیتی ہوں، آہستگی سے اٹھی، شال اٹھائی اور کمرے سے ملحقہ بالکنی میں چلی آئی، جہاں سے سفید جھاگ اڑاتا سمندر دکھائی دیتا، آہ کتنا ارمان تھا سمندر کنارے رہنے کا لیکن فیصل کی ریٹائرمنٹ کے بعد جب مکان بنایا تو جوڑوں کے درد شروع ہو گئے، مرطوب ہوا صحت کے لئے ضررساں ہوتی اور زکام شروع ہو جاتا، لیکن بچوں کے شوق میں رہتے رہے، اب جب کہ بیٹا اور ایک بیٹی شادی کے بعد ملک سے باہر جا بسے، چھوٹی بیٹی شہر کے دوسرے علاقے میں تھی، مہینے میں دو بار ملنے آتی تو دل بہلتا، ورنہ میں اور فیصل ایک دوسرے سے باتیں کیے جاتے یا پھر ٹی وی دیکھتے۔

برابر کے مکان کی بالکنی بھی خالی تھی، آج حمیرا نے بچے کے یا اپنے کپڑے دھو کر نہیں پھیلائے، میں نے سوچا، اکثر حمیرا اپنا ایک آدھ اپنا جوڑا، گیلا تولیہ یا جب سے بچہ پیدا ہوا تھا، تو اس کے کپڑے دھو کر پھیلا جاتی تھی، اور اگر میں بالکنی میں ہوتی تو مجھ سے ضرور سلام دعا کرتی، تھوڑی دیر میں کھڑی رہی پھر اندر آکر اپنے لئے چائے بنائی اور اون سلائیاں لے کر دوبارہ بالکنی میں آبیٹھی۔

حمیرا، اور اس کا میاں ایک ہی دفتر میں جاب کرتے، دو سال پہلے ہمارے برابر والے مکان کی بالائی منزل کرائے پر لی، نچلی منزل پر بھی کرائے دار تھے، جن سے سے صرف رسمی سلام دعا تھی، لیکن حمیرا خوش اخلاق و اچھی لڑکی تھی، اس لیے میری اس سے بات چیت ہو جاتی تھی، حمیرا، اور اس کے میاں نے پسند کی شادی کی تھی جب آئے تھے تو بچہ نہیں تھا، حمیرا نے مجھ سے کہا آنٹی دعا کریں شادی کو پانچ سال ہو گئے، ابھی تک اولاد نہیں ہوئی ہے، میری ساس طعنے دیتی ہیں، میری تو امی بھی نہیں ہیں جو میرے لئے دعا کریں، حمیرا نے نم آنکھوں سے کہا تھا، مجھے بہت ترس آیا، صدق دل سے دعا کی حمیرا کی ساس اکثر حمیرا کی برائیاں مجھ سے کرتیں، ساس کو حمیرا پسند نہیں۔

کیونکہ بیٹے کی پسند تھی نا، حالانکہ حمیرا نے ساتھ رکھا ہوا ہے دوسری بہو نے اپنا گھر ہوتے ہوئے بھی ساس کو ساتھ نہیں رکھا۔ میں چپ رہتی، بس ہوں ہاں کرتی، اس گھر میں میں آنے کے چھ ماہ بعد حمیرا کو خوش خبری مل گئی۔ وہ بہت خوش ہوئی، آنٹی آپ کی دعا لگ گئی مجھے، وہ مٹھائی دینے آئی اور میرے گلے لگ گئی، مجھے بھی بہت خوشی ہوئی، یہ تو سچ تھا کہ میں نے بہت دل سے اس کے لئے دعا کی تھی، حمیرا کو اپنا خیال رکھنے کی ہدایات کیں اور بیٹے کی پیدائش تک دعائیں جاری رکھیں، حمیرا کی ساس کا منہ بھی کچھ عرصے کے لئے بند ہو گیا، حمیرا نے نوکری چھوڑ دی اور بچے کے ساتھ ہی مصروف رہتی، اکثر میرے پاس بھی آتی، میں نے بچے کے لئے کپڑے اور سوئیٹربنائے۔

نہ جانے کیوں مجھے حمیرا، سے بہت زیادہ الفت محسوس ہونے لگی، میرے نواسے اور نواسی نے پہلی بار اتنا چھوٹا سا بچہ دیکھا تو بہت خوش ہوئے، بچے کو لڈو نام دیا اس کو پھندنے والی چھوٹی چھوٹی ٹوپیاں پہنے دیکھ کر ہنستے، کہتے لڈو نے لڈو والی ٹوپی پہنی ہے۔ لڈو دس ماہ کا ہو گیا، خوش مزاج ہنس مکھ بچہ سال بھر کا دکھائی دیتا، حمیرا خوش تھی۔

سردیاں شروع ہوئیں تو سمندر کی نمکین یخ بستہ ہوائیں صحت پر اثر انداز ہونے لگیں، فیصل کہتے دل چاہتا ہے کہ مکان بیچ کر شہر کے وسط میں دوسرا مکان خرید لیا جائے، چار مہینے کی تو سردی ہوتی ہے، میں فیصل سے کہتی، دراصل مجھے سمندر سے عشق ہے، اس کے قریب رہنا مجھے بہت پسند ہے، لہروں کے شور سے مجھے سکون ملتا ہے، میری فرمائش پر تو یہ گھر بنا تھا سالوں کی جمع پونجی۔ محنت اور ارمانوں کے بعد، اس لیے میں یہ گھر بیچنے پر ہر گز تیار نہ تھی۔

حمیرا بالکنی میں نکلی، لڈو کے اور اپنے کپڑے پھیلائے، لڈو دس ماہ کا ہو گیا تھا، عام بچوں کی بہ نسبت چلنے لگا تھا، صحت مند و خوبصورت توتلی زبان میں ماں سے باتیں کرتا رہتا، ماں کے پیچھے پیچھے رہتا، لڈو بھیگا ہوا تھا، حمیرا مجھ سے باتیں کرنے کھڑی ہو گئی، میں نے ٹوکا، حمیرا اندر جاؤ لڈو بھیگا ہوا ہے، ٹھنڈی ہوا لگ جائے گی، بس آنٹی اس کو نہلا رہی ہوں، شام کو بھائی کے گھر جاونگی، ان کی شادی کی سال گرہ ہے، سوئیٹر کے ساتھ میچنگ ٹوپی مکمل بن کر دے دیں، میں نے کہا، اچھا آج ہی مکمل کر دیتی ہوں، شام تک میں نے خوبصورت نیلی اور سفید اون سے ٹوپی بن دی، مغرب کے بعد حمیرا آئی، لڈو نیلا سوئیٹر پہنے بہت پیارا لگ رہا تھا، یہ سوئیٹر میں نے ہی اس کے لئے بنا تھا، نیلی اون کم پڑگئی تو سفید اون ملا کر لڈو کے لئے لڈو والی ٹوپی بنی تھی، حمیرا بہت خوش ہوئی، شکر یہ ادا کیا، بچے کا خیال رکھنا، بہت ٹھنڈ ہے۔

میں نے لڈو کو ٹوپی پہناتے ہوئے نصیحت کی، جی آنٹی، وہ میرے گلے لگی اور چلی گئی۔ رات کے کھانے کے بعد میں اور فیصل سو گئے، صبح ہماری آنکھ مستقل اطلاعی گھنٹی بجنے اور دروازہ دھڑ دھڑ بجنے سے کھلی، فیصل گھبرا کر بغیر انٹرکام پر پوچھے ننگے پاوں ہی دروازے کی طرف بھاگے، میں بھی پیچھے پیچھے چلی، حمیرا اور اس کا شوہر کھڑے تھے، حمیرا رو رہی تھی، انکل پلیز اپنی گاڑی دے دیں، ہماری گاڑی اسٹارٹ ہی نہیں ہو رہی، ٹیکسی سروس کی ٹیکسی ابھی تک نہیں پہنچی، کب سے کال کر رہا ہوں، لڈو کو اسپتال لے جانا ہے، ائے کیا ہوا لڈو کو، میرے تو پاوں تلے سے زمین نکل گئی فیصل چابی لینے اندر بھاگے، میں نے حمیرا کے ہاتھوں سے لڈو کو جھپٹ لیا، وہ بخار میں تپ رہا تھا، اور نبض محسوس ہی نہیں ہو رہی تھی، حمیرا چیخ چیخ کر رونے لگی آنٹی میرا بچہ، میرا لڈو، میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے حمیرا کو تسلی دی کہ اسپتال لے جاؤ ٹھیک ہو جائے گا، بچے بیمار ہوتے ہی ہیں۔ فیصل گاڑی کی چابی لے آئے اور خود بھی ساتھ چلے گئے۔

میں اندر آئی اور چپ چاپ بیٹھ گئی، دو گھنٹے کے بعد فیصل آئے اور کہا، کہ لڈو کو ایڈمٹ کر لیا ہے، تم۔ کیوں ایسے سردی میں بیٹھی ہو، چائے وغیرہ بناو، میں نے بہ مشکل چائے بنائی، توس سینکے اور فیصل کے سامنے رکھے، فیصل تفصیلات بتاتے رہے لیکن نہ جانے کیوں میرا دل بیٹھا جا رہا تھا، تصور میں صرف لڈو تھا، چلیں ہم اسپتال چلتے ہیں، میں نے فیصل سے کہا، کیسے جائیں گے، گاڑی میں وہیں چھوڑ آیا ہوں ان کے پاس کہ ان کو ضرورت نہ ہو، ٹیکسی کر کے آ گیا، اب دوبارہ ٹیکسی منگوائیں اور پھر سردی میں باہر جائیں اتنی ہمت نہیں ہے مجھ میں، ٹھیک ہو جائے گا بچے بیمار نہیں ہوتے کیا، یاد ہے ہمارے ارشد کو شدید نمونیہ ہوا تھا، ڈاکٹرز نے جواب دے دیا تھا، لیکن پھر کیسا بھلا چنگا ہو گیا تھا، میں نے دھیان بٹانے کو بیٹی کو کال ملائی، چند ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد فون رکھ دیا، پھر حمیرا کے میاں کا سیل نمبر ملایا، اس نے حمیرا کو فون تمھا دیا، جو رو رہی تھی، آنٹی گڈو آنکھیں نہیں کھول رہا، میں نے اسے تسلی دی، کہا کہ ہم بھی آ جاتے ہیں، حمیرا کے میاں نے فون اس کے ہاتھ سے لے لیا، آنٹی آپ لوگ تکلیف نہ کریں، امی کو دوا پانی پوچھ لیں، برائے مہربانی۔ ڈاکٹرز تسلی دے رہے ہیں آپ بس دعا کریں۔

میں نے فون بند کر دیا، اور حمیرا کی ساس کے پاس آگئی، دروازہ کھلا ہوا تھا، گھر میں مٹر پلاؤ کی اشتہاء انگیز خوشبو پھیلی تھی، حمیرا کی ساس کچن میں موجود تھی اور ہشاش بشاش نظر آتی تھی، کھانا بنا رہی ہوں، وہ لوگ ابھی اسپتال سے آتے ہی ہوں گے، ابھی لڈو نے آنکھیں نہیں کھولی ہیں، میں نے بتایا، اچھا مجھے تو کہا، تھوڑی دیر کے بعد آ رہے ہیں، میں یہ سوچ کر چپ رہی کہ شاید ماں کے پریشان ہونے کی وجہ سے نہیں بتایا، میں کرسی پر بیٹھ گئی، اور اس کی سرگرمیاں دیکھنے لگی، پلاؤ دم دینے کے بعد اس نے فریج سے کباب نکال کر فرائی کیے، دہی پھینٹ کر اس میں زیرے کا بگھار لگایا، اور میز سجا دی، میں سوچنے لگی بے چاری ماں بچوں کے دیے گئے دھوکے میں آ گئی، لیکن شاید میں غلط تھی، چند لمحوں کے بعد ہی حمیرا کا میاں اور فیصل گھر میں داخل ہوئے، حمیرا اور لڈو کہاں ہیں، میں نے پوچھا، وہ اسپتال میں ہی ہیں، لڈو نے آنکھیں کھول لیں، جی جی آپ پریشان نہ ہوں، حمیرا کا میاں یہ کہتا ہوا اپنی خواب گاہ میں گھس گیا۔

فیصل مجھے کہنے لگے، چلو گھر، تم نے کھانا بھی نہیں بنایا آج، حمیرا کی ساس فیصل سے اصرار کرنے لگی، بھائی صاحب بیٹھیے، ہمارے ساتھ ہی کھانا کھایئے، گھر کی تو بات ہے، فیصل فورا کھانے کی میز کی طرف بڑھے، واہ واہ خوشبو تو اعلی قسم کی آ رہی ہے، میں نے فیصل کو روکنا چاہا لیکن اخلاقاً چپ رہی، حمیرا کا میاں بھی کمرے سے نکلا، آیئے آنٹی آپ بھی، صبح سے پریشان ہو رہی ہیں، معذرت چاہتا ہوں، میں بادل نخواستہ بیٹھ گئی، فیصل نے مٹر پلاؤ کی پلیٹ میرے آگے رکھی، اور خود بھی شوق سے کھانے لگے، میں نے سب کے چہرے دیکھے، حمیرا کا میاں پلاؤ پر رائتہ انڈیل رہا تھا وہ مطمئن نظر آتا تھا، ساس بھی آرام سے کھارہی تھی، صرف میں ہی حمیرا اور لڈو کے لئے پریشان تھی، مجبورا چند لقمے کھائے، اور ہوچھا، بیٹا حمیرا نے کچھ کھایا؟ اس کے لئے لے جاوں گا آنٹی، وہ کھانے میں مگن بولا، میں نے فیصل کی طرف دیکھا، وہ دوسرا کباب لے رہے تھے، فیصل بڑے کا گوشت نہ ہو، احتیاط کریں، میں نے جھلا کر ٹوکا، نہیں بکرے کا ہے، بے فکر ہو کر کھائیں انکل، حمیرا نے میاں نے یہ کہتے ہوئے ایک اور کباب فیصل کی پلیٹ میں رکھا، فیصل بچوں کی طرح رائتے میں کباب ڈبو کر کھانے لگے، حمیرا کا میاں بھی یہی رغبت دکھا رہا تھا، ایک تو ان مردوں کی بھوک پریشانی میں بھی ختم نہیں ہوتی، میں نے کوفت سے سوچا، اور اپنی پلیٹ کے چاول فیصل کی پلیٹ میں الٹ دیے، کھانے کے بعد حمیرا کے میاں سے کہا، میں تمھارے ساتھ اسپتال چلتی ہوں، آنٹی مکینک آئے گا، کار ٹھیک کرنے۔

کار ٹھیک ہونے کے بعد ہی نکل سکوں گا، حمیرا وہاں اکیلی ہو گی بیٹا، اوئی اللہ اکیلی کیوں ہو گی، اتنا بڑا، اسپتال ہے، اس کے بھائی بھاوج آ جائیں گے، ویسے بھی کل انہی کے گھر نہ جانے بچہ کیا کھا آیا کہ بیمار ہو گیا، اچھا خاصا ہنستا کھیلتا گیا تھا اپنے گھر سے، حمیرا کی ساس نے کہا، میں نے حمیرا کا سیل نمبر ملایا لیکن بیل کی آواز گھر میں گونجنے لگی، آنٹی پریشانی میں حمیرا اپنا سیل گھر پر ہی چھوڑ گئی تھی، اب کیا کرے گی وہ، میں بد حواس ہو گئی، حمیرا کا میاں بولا۔ فکر نہ کریں، اسپتال میں ہر سہولت ہے، فیصل مجھ سے بولے، سمجھ دار لڑکی ہے، بلا وجہ فکر نہ پالو، سب ٹھیک ہو گا، میں اور فیصل گھر سے نکلے، اسی وقت مکینک نے اپنی موٹر سائیکل روکی، حمیرا کا میاں گھر سے نکل کر کار ٹھیک کرنے کی ہدایت دینے لگا۔

اپنے گھر میں آ کر میں نے فیصل کو کہا، میرا دل چاہ رہا ہے، کہ اسپتال چلی جاوں۔ چلئے چلتے ہیں، فیصل بدک گئے۔ صبح سے بے آرامی ہو رہی ہے، ڈرائیونگ کرنے کی ہمت نہیں، ارے پلٹیں بھر کر پلاؤ کھایا، ندیدوں کی طرح کباب کھا رہے تھے، انسان مروت میں ہی رک جاتا ہے، میں سیخ پا ہو گئی، نہ جانے تم کو اتنا غصہ اور پریشانی کیوں ہو رہی ہے، اپنے بچوں کے بعد پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں پالے، بچوں کے ساتھ پریشانیاں ہوتی رہتی ہیں، معلوم تو ہے تم کو، یہ چڑاچڑاپن چہ معنی دارد، میں چپ ہو کر بیٹھ گئی، فیصل خواب گاہ میں چلے گئے اور کچھ دیر کے بعد ان کے خراٹے لاونج تک آنے لگے، میں گھر سے باہر آ گئی، مکینک گاڑی پر جھکا ہوا تھا اور حمیرا کا میاں نہ جانے کہاں تھا، کتنی دیر لگے گی بیٹا، میں نے مکینک سے پوچھا، ایک ڈیڑھ گھنٹہ، اچھا کہہ کر میں دوبارہ اندر آگئی، ٹی وی آن کیا اور خالی ذہن سے دیکھنے لگی، شام ڈھل گئی، مکینک نے گاڑی اسٹارٹ کی تو میں باہر گئی، حمیرا کا میاں اور مکینک دونوں گاڑی اسٹارٹ کر کے مزدوری پر بحث کر رہے تھے۔ میں چپ چاپ کھڑی رہی۔

مکینک اپنا حق محنت لے کر رخصت ہوا تو میں نے کہا، بیٹا مجھے لے چلو، آنٹی لڈو ٹھیک ہے میں نے ڈا کٹر کو فون کیا ہے، میں ابھی دونوں کو لے کر گھر واپس آتا ہوں، حمیرا کا میاں کار میں بیٹھ کر روانہ ہو گیا، فیصل بھی باہر آ گئے، اندر چلو، اتنی ہوا میں باہر کیوں کھڑی ہو، وہ چلا تو گیا ہے آخر اس کی بیوی اور بچہ ہے، وہ خود فکر مند ہے تم بلا وجہ پریشان ہو رہی ہو، مجھے بھی کچھ تسلی ہوئی، گھر کے اندر آئے تو فیصل نے چائے کی فرمائش کر دی، میں چائے بنانے گئی تو خیال آیا، آج کھانا نہیں بنایا ہے، فیصل کو چائے دے کر کھانا بنانے میں مصروف ہو گئی، جب ہم کھانا کھانے بیٹھے تو بیل بجی، میں نے بے تابی سے انٹرکام اٹھایا، حمیرا تھی، آنٹی ہم آ گئے ہیں، لڈو کو ہوش آ گیا، اچھا تم اندر اپنے گھر میں جاو، بے وقوف لڑکی ٹھنڈ میں کیوں کھڑی ہو، میں نے انٹرکام رکھا اور دروازے پر گئی، حمیرا اور اس کا میاں اپنے گھر میں داخل ہو رہے تھے، میں بھی پیچھے پہنچی، حمیرا کا میاں کہنے لگا، میں نے کہا تھا کہ آنٹی کو بتا دو۔

وہ بہت پریشان تھیں، میں نے لڈو کو چھوا، حرارت سی تھی وہ غنودگی میں تھا، حمیرا کا چہرہ اترا ہوا تھا، لگتا ہے تم نے سارا دن کچھ نہیں کھایا پیا ہے، کھاؤ پیو اور سو جاو، لڈو کو بھی پرسکون رکھو، جی آنٹی، حمیرا تھکی ہوئی آواز میں بولی، آپ کا شکریہ، کس بات کا شکریہ، لڈو ٹھیک ہو جائے گا بالکل۔ میں نے اس کا شانہ تھتھپایا، وہ چپ رہی، اس کو تسلی دلاسے دے کر میں واپس آ گئی، کھانا کھا کر فیصل ٹی وی دیکھنے لگے، میں خوابگاہ میں آگئی، میں سونا چاہتی تھی کیونکہ سارا دن کی ذہنی تھکان کے بعد اب لڈو کو دیکھ لیا تھا تو تسلی ہو گئی تھی۔

صبح تازہ دم اٹھی اور ناشتے سے فراغت پا کر حمیرا کے گھر آ گئی، بیرونی دروازہ کھلا ہوا تھا، میں آوازیں دیتی ہوئی اندر داخل ہوئی، لاونج خالی تھا، میں نے رک کر آواز دی، حمیرا، اندر سے حمیرا کی چیخ کی آواز آئی، میں تیزی سے آگے بڑھی، حمیرا کے بیڈ روم سے ڈاکٹر اور اس کی ساس باہر آ رہے تھے، کیا ہوا، میرا دل دھک سے رہ گیا، ساس رو رہی تھی، ڈاکٹر بھی افسردہ سا تھا، میں بیڈ روم میں داخل ہوئی، حمیرا کو اس کا میاں بہ مشکل بستر پر لٹا رہا تھا، دونوں نے مجھے دیکھا، حمیرا نے کچھ کہنا چاہا لیکن وہ بول نہ سکی اور بستر پر لڑھک گئی، لڈو بستر پر موجود تھا لیکن اس کا منہ چادر سے ڈھکا ہوا تھا، میں نے چادر جھپٹ لی اور لڈو کو جھنجھوڑ دیا، لڈو آنکھیں کھولو، حمیرا کے میاں نے آہستگی سے میرے ہاتھ ہٹائے، لڈو زندہ نہیں رہا آنٹی، یہ کیسے ہوا، میں حواس کھو بیٹھی، اور چیخنے لگی، حمیرا کے میاں نے مجھے گھسیٹ کر کمرے سے نکالا۔

نہ جانے کیوں مجھے غصہ آ گیا، لاونج میں صوفے پر بیٹھی حمیرا کی ساس پر چیخنے لگی، بڑھیا چھوٹا سا بچہ نہیں سنبھالا گیا، مار ہی دیا اس کو، حمیرا کی ساس میرا منہ تکنے لگی، میں پاگلوں کی طرح اس کو برا بھلا کہہ رہی تھی، حمیرا کے میاں نے فیصل کو فون کیا، فیصل بوکھلائے ہوئے آئے اور مجھے ان کے گھر سے نکالنے لگے، لیکن میں حواس کھو چکی تھی، میری چیخ و پکار سے تنگ ہو کر فیصل نے مجھے زوردار تھپڑ دے مارا، میں بے ہوش ہو کر فیصل کی بانہوں میں جھول گئی، جب ہوش آیا، تو اپنی خوابگاہ میں تھی، فیصل میرے سامنے تھکے ہارے سے بیٹھے تھے، مجھے سب کچھ یاد آگیا، ایک دم بستر سے اٹھی لیکن چکر آ گیا، فیصل بولے، لیٹی رہو، چائے بنا کر لاتا ہوں، میں چپ چاپ بیٹھی رہی، فیصل چائے بنا لائے، پہلے پانی میری طرف بڑھایا، پانی پی کر حواس بحال ہوئے تو فیصل سے پوچھا، لڈو کہاں ہے، اس کی تدفین کر دی ہے، اللہ ہم سب کو صبر دے، حوصلہ رکھو۔

میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی، صدمے و نقاہت سے دوبارہ بے ہوش ہو گئی، تین چار دن اسی طرح گزر گئے، میری بیٹی اور بچے رہنے آ گئے، طبعیت کچھ سنبھلی تو مجھے حمیرا کا خیال آیا، میری بیٹی نے بتایا، وہ تین چار دن اسپتال میں رہی ہے، اب اس کے بھائی اس کو لے گئے ہیں آئے گی تو مل لیجیے گا، میں نے کہا، میرے سیل فون میں اس کے بھائی کے گھر کا نمبر بھی ہے، فون ملاو، مجھے اس سے بات کرنی ہے، بیٹی نے نمبر ملا دیا، جو کسی بچے نے اٹھایا، حمیرا کا نام لینے پر کہنے لگا، پھوپھو تو پاگل ہو گئی ہیں وہ کچھ نہیں بولتیں، بری بات ہے میری بیٹی نے ٹوکا، اپنی امی کو بلاو، حمیرا کی بھابھی نے فون حمیرا کو تھما دیا، وہ بے ربط نہ جانے کیا کیا بولتی رہی۔ ، میں نے دکھ کے ساتھ فون رکھ دیا، اور رونے لگی، امی اب آپ اپنی طبعیت خراب نہ کریں۔ میری بیٹی مجھے تسلیاں دینے لگی۔

دو دن کے بعد فیصل نے بتایا کہ حمیرا کا میاں مکان چھوڑ رہا ہے، میں ملنے چلی گئی، حمیرا کی ساس دو ملازموں سے سامان بندھوا رہی تھی، مجھے دیکھ کر مسکرائی، آیئے آپ کی طبعیت کیسی ہے، میں نے کہا، حمیرا کہاں ہے، وہ تو اپنے بھائی کے گھر ہے، کمرے سے ایک لڑکی یہ کہتی ہوئی نکلی، آنٹی سارے کپڑے سوٹ کیسز میں رکھ دیے ہیں اب حمیرا کے بھائی کے گھر بھجوا دیں سوٹ کیسز، یہ کون ہے، میں نے فورا پوچھا، میری سہیلی کی بیٹی ہے، میرے ساتھ سامان بندھوانے آ گئی ہے، میں چپ چاپ واپس آ گئی۔

پڑوس میں دوسرے لوگ آ گئے لیکن کبھی سامنا نہیں ہوا۔ دو مہینے گزر گئے۔ ایک دن سڑک پر چہل قدمی کرتے ہوئے ایک بچے کو دیکھ کر مجھے لڈو بے طرح یاد آگیا، میں نے فیصل سے ضد کی کہ مجھے حمیرا کے بھائی کے گھر لے چلیں، فیصل چار و نا چار راضی ہو گئے، ہم فون پر پتہ لے کر فلیٹس کے گنجان علاقے میں بہ مشکل اس کے بھائی کے فلیٹ پہنچے، اس کی بھابھی نے دروازہ کھولا، وہ بہت اکتائی ہوئی تھی، حمیرا تو صدمے سے پاگل ہو چکی ہے، نہ جانے کہاں نکل جاتی ہے، اس کے میاں کو کہو علاج کروائے اس کا۔ آنٹی اس نے شادی کر لی ہے، نہ جانے کہاں گھر بدل لیا ہے، فون نمبر بھی تبدیل کر لیا ہے، صرف ایک بار اسے دیکھنے آیا تھا۔

میں اور فیصل صدمے سے چپ رہ گئے، تھوڑی دیر کے بعد دروازہ بجا اور بچے ایک مدقوق اور میلی کچیلی عورت کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے، وہ ہمیں ایسے دیکھنے لگی جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو، میں بھی اسے نہ پہچانتی اگر اس نے وہی نیلی اور سفید اونی ٹوپی اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی نہ ہوتی جو میں نے اپنے ہاتھوں سے اسے لڈو کے لئے بنا کر دی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *