میاں نواز شریف نے کس دباؤ پر گھٹنے ٹیکے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایسی کیا افتاد ٹوٹ پڑی تھی کہ میاں نواز شریف ایک دم اپنے بیانئے سے پیچھے ہٹ گئے اور آرمی ایکٹ ترممی بل میں غیر مشروط حمایت کر دی یہ وہ سوال ہے جو آج زبان زدعام ہے اس کا جواب ڈھونڈنے کی اپنی تہی کوشش کی مختلف ذرائع سے ملا اُن سے گفت و شنید کی تو یہ جان پایا کہ میاں نواز شریف کو طاقتور حلقوں کی جانب سے پیغام پہنچایا گیا کہ ترمیمی بل کی حمایت کرنا بصورت دیگر میاں نواز شریف کو لندن سے واپس لا کر بیٹی سمیت جیل میں ڈال دیا جائے گا شریف خاندان کا آئندہ پاکستان کی سیاست میں کوئی کردار نہیں ہو گا آزمائش اور ابتلاء کا نیا دور شروع ہو جائے گا سیاست تو دور کی بات شریف خاندان بکھر جائے گا یہ وہ لمعہ تھا جب میاں نواز شریف کو فیصلہ کرنا پڑا اور انھوں نے خاندان اور مملکت خداداد پاکستان میں اپنا سیاسی کردار بچانے کے لیے یہ کڑوا گھونٹ پیا۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہمارے جمہوری لیڈر ہر دور میں طاقتور حلقوں کے سامنے سرنگوں رہے۔ اقتدار تک پہنچنے کے لیے طاقتور حلقوں کی خوشنودی کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کو تیار رہتے۔ قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب شہاب نامہ میں لکھتے ہیں کہ حسین شہید سہروردی یہ راز جان چُکے تھے جس طرز کا نظام حکومت اس وقت ملک میں رائج ہے اس میں عروج حاصل کرنے کے لیے گورنر جنرل کی خوشنودی حاصل کرنا ضروری ہے چنانچہ وہ حسب توفیق اس کے لیے ہاتھ پاؤں مارتے رہتے انھیں فوٹو گرافی کا بہت شوق تھا وہ ساکت اور متحرک تصویریں کھینچنے کے کمیرے کندھے سے لٹکائے مختلف تقاریب میں مسٹر غلام محمد کی تصویر کشی میں نمایاں رہنے کی کوششوں میں لگے رہتے۔

ذوالفقار بھٹو نے اقتدار میں آنے کے لیے میجر جنرل سکندر مرزا کو استعمال کیا جسٹس جاوید اقبال مرحوم اپنی کتاب ”اپنا گریبان چاک“ میں لکھتے ہیں کہ بھٹو سکندر مرزا کا قرب حاصل کرنے کے لیے اُن کے گھر دیسی مرغ بھیجتے اُنھیں بطور سیڑھی استعمال کر کے اقتدار تک پہنچے اور جب سکندر مرزا پر بُرا وقت آیا تو اُن سے آنکھیں اس طرح چُرانے لگے جیسے وہ انھیں جانتے ہی نہ ہوں۔ ایوب خان کو اکثر وہ ڈیڈی کہہ کر مخاطب کرتے۔

قدرت اللہ شہاب مزید لکھتے ہیں کہ یکم مارچ 1962 ء کا دن جب صدر ایوب نے ریڈیو پر تقریر کر کے نئے آئین کا اعلان کرنا تھا آئین میں یہ درج تھا کہ آئین کے نفاذ کے دو برس بعد صدر مملکت کا ازسرنو انتخاب ہو گا کابینہ کے چند وزیروں کو یہ فکر دامن گیر ہو گئی کہ اگر صدر کا انتخاب دو برس بعد ہوا تو اُن کی وزارت بھی دوبرس کی قلیل مدت میں ختم ہو جائے گی چنانچہ اپنی وزارتی معیاد کو طول دینے کے لیے انھوں نے یہ چال چلی کہ انھوں نے حیلے بہانوں سے صدر پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ وہ آئین میں اپنا انتخاب دو کی بجائے پانچ برس کے بعد رکھیں ان کا کہنا تھا کہ جنرل نے بہت سی انقلابی اصلاحات کا ڈول ڈالا ہوا ہے ان اصلاحات کی بیل منڈھے چڑھانے کے لیے دو برس کا وقفہ نہایت ناکافی ہے اس لیے آئین کی رو سے صدر کا انتخاب پانچ برس بعد ہو (اس نکتے پر جی ایچ کیو اور سیاست دان ایک صفحے پر تھے ) یکم مارچ کو پریس کانفرنس سے چند گھنٹے قبل وزراء جنرل ایوب کے گرد شہد کی مکھیوں کی طرح بھنبھناتے رہے اور دو سال کی مدت کو بڑھانے کے جتن کرتے رہے جنرل اپنی بات پر ڈٹے ہوئے تھے کہ مدت دو سال ہی رہے گی مگر جب وہ پریس کانفرنس کے لیے جا رہے تھے تو ایک وزیر صاحب نے گھٹنے ٹیک کر جنرل کا راستہ روک لیا اور ہاتھ جوڑ کر بولے سر خدا کے لیے عبوری دور کی مدت کچھ تو ضرور بڑھائیے۔

محترمہ بینظیر بھٹو شہید 9188 ءجلاوطنی کاٹ کر واپس آئی تو اقتدار تک پہنچنے کے لیے روٹی کپڑا مکان کے نعرے کو چھوڑ کر مصلحت پسندی اختیار کی اور اسی مصلحت پسندی کا نتیجہ تھا کہ جنرل بیگ کو تمغہ جمہوریت دیا گیا محترمہ جان چکی تھی کہ اقتدار حاصل کرنا ہے تو نادیدہ قوتوں سے بنا کر رکھنی پڑے گی۔

میاں نواز شریف نے کوشش کی کہ عوام کے ووٹ کو عزت دلوائی جائے بیچ میں پانامہ آ گیا۔ اقتدار سے علحیدہ کیا گیا بیٹی سمیت جیل میں ڈال دیا گیا۔ علاج کے لیے بیرون ملک چلے گئے پھر جب وقت آیا تو میاں نواز شریف کو مجبور کیا گیا انھیں ایک فیصلہ کرنا تھا خاندان سمیت جیل یا پھر حمایت انھوں نے خاندان کو بچانے کے لیے یہ کڑوا گھونٹ پیا لیکن ایسا نہیں کہ ووٹ کو عزت نہیں ملے گی ووٹ کو عزت ضرور ملے گی تھوڑا وقت لگے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشارت راجہ

بشارت راجہ رفاہ یونیورسٹی سے میڈیا سائسز میں ایم فل کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ بطور کورٹ رپورٹننگ کر رہے ہیں۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے بلاگ اور کالم بھی لکھتے ہیں۔

bisharat-siddiqui has 99 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *