”دی آئرش مین“۔ ایک ماسٹرپیس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے ایک مہینے سے میں ایک فلم کے لیے وقت نکالنے کی کوشش کر رہا تھا کیونکہ وہ کوئی معمولی فلم نہیں تھی بلکہ ساڑھے تین گھنٹے پہ محیط ایک لمبی چوڑی فلم تھی۔ آج کی مصروف زندگی میں اتنی لمبی فلم دیکھنے کے لیے وقت نکالنا آسان کام نہیں ہے۔ بالآخر وقت نکالا، فلم دیکھی اور دیکھتا ہی رہ گیا۔ پلک جھپکنے والا محاورہ اگر میں یہاں استعمال کر سکوں تو میں کہوں گا کہ ساڑھے تین گھنٹے کیسے پلک جھپکتے گزر گئے پتہ بھی نہ چلا۔

مجھے شک تو پہلے ہی تھا کہ یہ ایک دھماکے دار فلم ہو گی جس کی مختلف وجوہات ہو سکتی تھی۔ ایک تو یہ کہ یہ کسی عام شخص کی کاوش نہیں یعنی کہ اس کا ہدایتکار، اور پھر اس میں کام کرنے والے اداکار۔ فلم دیکھنے کے بعد پتہ چلا کہ یہ صرف ایک دھماکے دار فلم ہی نہیں بلکہ ایک شاہکار ہے اور اس جیسی کوئی فلم کم از کم ماضی قریب میں میری نظروں سے نہیں گزری۔

ساڑھے تین گھنٹے پہ محیط اس بے مثال فلم کا نام ”The Irishman“ ہے جس کے ہدایتکار مشہور و معروف Martin Scorsese ہیں جن کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ بس اتنا کہنا کافی ہے کہ اب تک وہ آٹھ مرتبہ بہترین ہدایتکار کے طور پر آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد ہو چکے ہیں۔ اور تقریباً چار سال کے عرصے کے بعد انہوں نے کسی فلم کی ڈائریکشن دی ہے اور یوں دھماکے دار انداز میں واپسی کی ہے۔

اب آتے ہیں فلم کے اداکاروں کے متعلق۔ فلم کے تین اہم ترین کردار ایسے چمکتے ستارے ہیں جو گزشتہ نصف صدی سے اداکاری کے آسمان پر اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہے ہیں۔ یہ تینوں ستارے اپنی عمر کی کم و بیش اسی بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ لیکن ابھی بھی ان میں سے صرف کسی ایک کا نام ہی فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے چہ جائیکہ تینوں ایک ساتھ ہی کسی فلم میں نمودار ہو جائیں۔ اور یہ مہان اداکار ہیں Al Pacino، Robert De Niro، Joe Pesci۔

یہ فلم آسانی سے نہیں بنی اور مارٹن سکورسیسی نے اس فلم کو بنانے میں کافی مشکلات کا سامنا کیا۔ سب سے بڑی مشکل اس فلم کا بجٹ تھا۔ شروع میں اس فلم کا سٹوڈیو پیراماؤنٹ پکچرز تھا جو آہستہ آہستہ اس فلم کی پروڈکشن سے پیچھے ہٹتا جا رہا تھا کیونکہ آئے دن اس فلم کا بجٹ بڑھتا جا رہا تھا۔ تب مارٹن سکورسیسی نیٹ فلیکس کے پاس گئے اور نیٹ فلیکس نے ان کی پیشکش قبول کر لی اور یوں یہ فلم تقریباً ایک سو پچھتر ملین ڈالر میں جا کر مکمل ہوئی۔

یہ فلم یکم نومبر دو ہزار انیس کو ریلیز ہوئی۔ نیٹ فلیکس کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی روشنی میں تقریباً تین ہفتے اس فلم کو مخصوص تھیٹرز پر ریلیز کیا گیا اور پھر ستائیس نومبر دو ہزار انیس کو یہ فلم نیٹ فلیکس پر آ گئی۔

سنجیدہ ناظرین کے لیے بنی اس فلم کو آپ ایک بائیوپک کرائم ڈرامہ بھی کہ سکتے ہیں۔ اس فلم کی کہانی دو ہزار چار میں لکھی گئی ایک کتاب I Heard You Paint Houses سے لی گئی ہے جس کو چارلس برانڈٹ نے لکھا تھا۔ چارلس برانڈٹ ایک تحقیقاتی صحافی تھے جنھوں نے اپنے ناول کے ذریعے امریکن انڈر ورلڈ پہ راج کرنے والے ایک دیو مالائی کردار جمی ہافا نامی شخص کے انجام کے بارے میں سب سے پہلے بتایا تھا کہ اس کی زندگی کا اختتام کس طرح ہوا تھا۔

یہ فلم انیس سو پچاس سے انیس سو نوے کے درمیان امریکی گینگسٹرز پر بنائی گئی ہے جن میں سب سے بڑا نام جمی ہافا کا تھا۔ جمی ہافا کی شخصیت پر بہت سی کتابیں اور مضامین لکھے گئے اور فلم میں یہ کردار Al Pacino جیسے عظیم فنکار نے کیا ہی خوبی سے نبھایا ہے۔ لیکن اگر اس فلم کی سٹوری لائن کو دیکھا جائے تو فلم کے پورے پلاٹ کو رابرٹ ڈی نیرو کے کردار فرینک شیرن کی نظروں سے دکھایا گیا ہے جنھیں تاریخ میں دی آئرش مین کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ فلم فرینک شیرن کی زندگی کی کہانی ہے اس میں وہ اپنے تمام جرائم کو قبول کرتا ہے کہ کیسے وہ ایک ٹرک ڈرائیور سے جرائم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بن گیا۔

پچاس کی دہائی میں فرینک شیرن ایک ٹرک ڈرائیور تھاجب اس کی ملاقات جرائم کی دنیا کی ایک انتہائی با اثر شخصیت Russell Bufalino کے ساتھ ہوتی ہے اور جب رسل فرینک شیرن کو اچھی طرح پرکھ لیتا ہے تو وہ فرینک شیرن کو جمی ہافا سے ملواتا ہے۔ اور ہھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب فرینک شیرن جمی ہافا کا سب سے قابلِ اعتماد دوست اور باڈی گارڈ بن جاتا ہے اور پھر کہانی کے اختتام پر اپنے ہی ہاتھوں جمی ہافا کو قتل بھی کر دیتا ہے۔

اس فلم کا ایک دوسرا ٹائٹل بھی ہے اور وہ کتاب کے نام پر ہے یعنی I Heard You Paint Houses جس کا مطلب آپ یوں سمجھ لیں کہ ”میں نے سنا ہے تم لوگوں کو مارتے ہو“۔ اور اس فلم میں جمی ہافا جب فرینک شیرن کو پہلی دفعہ فون کرتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ”I Heard You Paint Houses“ اور فرینک شیرن آگے سے جواب دیتا ہے ”I not only paint them but also clean them“ یعنی میں صرف مارتا ہی نہیں ہوں بلکہ ان کی لاشوں کو بھی ٹھکانے لگاتا ہوں۔

اس فلم کے جاندار مکالمے آپ کو ہمیشہ یاد رہے گے۔ خاص طور پر فرینک شیرن کا کردار جس طرح ڈی نیرو نے نبھایا ہے وہ خوبی اور کمال صرف ڈی نیرو کے پاس ہی ہو سکتا ہے۔ جس خوبصورتی سے وہ اپنے ڈائیلاگ ڈلیور کرتا ہے اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ ڈی نیرو کے پاس کوئی سکرپٹ نہیں تھا بلکہ وہ موقع کی مناسبت سے سوچ سمجھ کر خود ہی بولتا تھا۔

اس فلم کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ اس میں ڈی ایجنگ ٹیکنالوجی کو بہت خوبصورتی سے استعمال کیا گیا ہے تا کہ فلیش بیک میں فلمائے گئے مناظر میں یہ کردار جوان نظر آ سکیں۔

اور آخری بات اس فلم کا شاندار میوزک ہے جو کہ اٹالین اور انگریزی موسیقی کا حسین امتزاج ہے۔ فلم کے گانے پچاس اور ساٹھ کی دہائی سے لیے گئے ہیں اور ہدایتکار نے ایک کمال مہارت سے جس طرح ان گانوں کو پکچرائز کیا ہے وہ آپ کو اصل میں پچاس یا ساٹھ کی دہائی میں لے جاتا ہے۔ مارٹن سکورسیسی کی طرف سے پرانی موسیقی کے رسیا لوگوں کے لیے یہ ایک شاندار تحفہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *