زندگی کی سنہری بہاریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان کی زندگی کے مختصر دورانیہ میں اگر سب سے قیمتی سال تلاش کیے جائیں تو وہ 14 سال سے 24 سال تک کا وقت ہے۔ میٹرک کرنے کے بعد انٹرمیڈیت میں داخلے لینے والے سٹوڈنٹس ہوں یا پھر تعلیم کے بجائے کسی ہنر کو سیکھنے والے ہونہار ہوں سب کے لیے ان دس برسوں کی یکساں اہمیت ہے۔ عمر کا دوسرا عشرہ second decade جسمانی اور ذہنی افزائش کا ہوتا ہے۔ جبکہ 24 سال تک انسان بے پناہ صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے۔ ہم اس دورانیہ کو گولڈن پیریڈ بھی کہہ سکتے ہیں۔

عموما دیکھنے میں آتا یے کہ گولڈن پیریڈ کے دوران انسان دماغ میں کئی چیزیں سمو سکتا ہے۔ اس عمر میں یاد کی گئی چیزیں تاحیات یاد رہتی ہیں۔ یعنی یہ دس سال دس لاکھ جی بی میموری کارڈ کے برابر ہیں۔ ہم ان ایام کو بنیادی سال basic years بھی کہہ سکتے ہیں۔ اگر بنیاد مضبوط ہو گی تو عمارت بھی پختہ ہو گی ورنہ بیس میں بھوسا بھرنے سے عمارت کی ایک دن کی ضمانت دینا بھی مشکل ہے۔

یہ مادہ پرست دنیا یے۔ ہر انسان اپنی materialistic life مادی زندگی کو بہتر بنانے کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے۔ آپ کا مقصد اچھا عہدہ ہو یا اعلی تعلیم، ٹائیکون بننے کی خواہش ہو یا چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، آپ اے سی بننا چاہتے ہیں یا ریسرچر آپ کو چودہ سے چوبیس سال محنت کی چکی میں پسنا ہو گا۔ تب کہیں جاکر آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہو پائیں گے۔ عمر کے اس حصے میں دو چیزیں اہم ہیں۔ ایک محنت دوسرا صحیح راستہ۔ اگر آپ نے راستے کا انتخاب غلط کیا ہے تو آپ منزل تک نہیں پہنچ پائیں گے بلکہ آپ کی محنت کا صحیح پھل آپ کو نہیں ملے گا۔ اس کی مثال ایسے یے جیسے آپ کے سامنے تو بلڈنگز ہوں۔ ایک دس منزلہ ایک بیس منزلہ۔ آپ نے چڑھنا بیس منزلہ عمارت پر ہے مگر سیڑھی دس منزلہ عمارت پر لگائی ہے۔ آپ کبھی بھی اپنا ٹارگٹ حاصل نہیں کر سکو گے۔ پہلے آپ کو سیڑھی صحیح جگہ لگانی ہو گی۔

آخر میں ایک اہم مسئلہ کی جانب توجہ چاہتا ہوں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ ڈیجیٹل دور ہے۔ ہر شے سوشل ہے۔ سوشل میڈیا نے انقلاب برپا کر رکھا یے۔ لیکن یاد رکھیں یہ سب چیزیں مصنوعی ذہانت artificial memory کے زمرے میں آتی ہیں۔ جنہیں اکیسویں صدی کے عظیم سائنسدان سٹیفن ہاکنگ نے انسانیت کی تباہی کہا ہے۔ اصل اور حقیقی ذہانت دماغ کا استعمال ہے۔ جن نوجونوں نے 14 سے 24 سال کے دوران دماغ زیا دہ استعمال کیا وہ مقابلے کی اس دوڑ میں آگے نکل جائیں گے اور جنہوں نے سوشل میڈیا زیادہ استعمال کیا وہ پیچھے رہ جائیں گے۔ انٹرمیڈیٹ سے لے کر پروفیشنل تعلیم کے اختتام تک سوشل میڈیا کا بے تحاشا استعمال تباہی کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ ذہنوں کی تباہی یے۔ لہذا۔ اپنی عمر کے گولڈن پیریڈ میں سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی محدود limited کریں۔ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *