ایٹمی پروگرام کی طرح سی پیک بھی جمہوریت دشمن ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیٹو سینٹو، روس کے گرد ترکی سے پاکستان تک تزویراتی حلقہ مکمل کرنا، انگریزوں کے ہوتے ہوئے (بین الاقوامی سیاست اور سفارتی نزاکتوں کی بنا پر) ممکن نہیں تھا۔ جیسے وہ نکلے، ایوب خان نے کردیا۔

بابائے قوم نے، جس کا اندازہ ان کو چودہ جون انیس سو اڑتالیس کو، کوئٹہ میں، سٹاف کالج کے دورے کے دوران فوجی افسران کے ساتھ بات چیت کر تے ہوگیا تھا، ببانگ دہل ان کو اپنے خطاب میں یاد دلا کر کہا کہ مسلح افواج قوم کی خدمت کے لئے ہوتی ہیں۔ وہ قومی پالیسیاں نہیں بناتیں۔ ایسے فیصلے سول حکومت کرتی ہے جبکہ ان کا کا کام ان فیصلوں پر عمل درآمد کرنا ہے۔

امریکہ اور مغرب، جمہوریت کے غم میں دن رات ہلکان ہونے کے باوجود، پاکستانی عوام کے ساتھ کوئی خاطر خواہ تعلق رکھنے کی بجائے جمہوریت کش قوتوں کو تقویت پہنچاتے رہے۔ ان کو امدادیں بھی دیں، اور ان کی بین الاقوامی امیج بلڈنگ بھی کی۔ جبکہ اس کے خلاف بھٹو کی پھانسی، بے نظیر کے قتل، نواز شریف کی پہلی جلاوطنی اور موجودہ بندوبست پر اندرون خانہ ہمیشہ اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ نے اگر کبھی سول سپرمیسی یا عوامی بہبود کے لئے کوئی نیم دلانہ اقدام کیا بھی ہو وہ عوامی بھلائی سے زیادہ اپنے پارٹنر کو شرمندہ کرنے اور سبق سکھانے کی نیت سے ہوتا ہے۔

بھٹو اور ان کی بیٹی کے انجام سے سبق حاصل کرنے کی بجائے، زرداری صاحب نے اپنی صدارت کے دوران دو ایسے اقدامات کیے جو مغرب کے مفادات کے لئے حد درجہ نقصان دہ تھے۔ پہلا کام انہوں نے ترکمانستان ایران پاکستان پائپ لائن کا معاہدہ کیا۔ جو سنٹرل ایشیاء سے بھارت تک اگے جانا تھا۔ اور دوسرا معاہدہ چین کے ساتھ شاہراہ قراقرم کو سی پیک میں تبدیل کرنے کا تھا، جس کا مقصد چین کو خلیج فارس کی تیل اور دنیا سے تجارت تک بلا تعطل اور سہل ترین رسائی بہم پہنچانی تھی۔

یہ دونوں معاہدے بڑے دور رس تجارتی اور عسکری تزویراتی اہمیت کے حامل ہیں۔ پہلا معاہدہ مناسب وقت کے انتظار میں منجمد پڑا ہے۔ لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ پاکستان میں عسکری تزویراتی معاملوں میں سول حکومت کا کتنا ہاتھ اور اختیار ہوتا ہے؟ کسی کو میری بات پر شک ہو، تو پرویز خٹک اور پاکستانی دفاع میں کوئی قدر مشترک تلاش کرے۔ یہ دونوں معاہدے دوطرفہ سول تجارتی منصوبوں سے زیادہ یک طرفہ عسکری پیش رفت تھے جن کا مقصد امریکہ کو اپنی اہمیت کا احساس دلانا اور علاقے میں اکیلے کھیلنے کے نقصانات سمجھانے تھے۔

چونکہ عسکری سٹریٹجی سے سول حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہوتا اس لیے یہ تصور کرنا کہ یہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی کوششوں کا نتیجہ ہے، بچگانہ سوچ ہے۔ البتہ اس کا کریڈٹ کھلم کھلا پیپلز پارٹی اور بعد میں مسلم لیگ نون کی حکومتوں کو دیا گیا۔ جس کا مقصد پاکستان میں سول حکومتوں کے ”خطرناک ارادے“ اور اصل ”امریکہ دشمن“ رخ، امریکہ کو دکھانا مقصود تھا۔ اس لیے چین کی خواہش کے برخلاف، سی پیک کو لے کر اتنا شور مچایا گیا کہ کوئی مثال نہیں۔

جس کو کبھی گیم چینجر، کبھی انقلابی اور کبھی قوم و ملک کی تقدیر بدلنے والا منصوبہ باور کرایا گیا۔ جبکہ سینیٹ میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ سی پیک کے منافع میں پاکستان کی ایک فیصد حصہ داری ہے۔ اس منصوبے کی چین کے لئے اتنی اہمیت ہے کہ اس کو چھپانے کی خاطر اس نے ایسے کئی منصوبے دوسرے ممالک کے ساتھ شروع کرنے کے اعلانات بھی کیے۔

سی پیک بھٹو صاحب کے گھاس کھانے والے منصوبے کی طرح کا منصوبہ ہے۔ جس کی وجہ سے وہ امریکہ کی نظروں میں اس کے مفادات کے لئے نہایت خطرناک اور ناقابل برداشت ٹھہرا۔

ایوب خان اپنے پیروکار، یحیی خان سمیت قابل استعمال نہیں رہا تو بھٹو کو سول حکمران کی حیثیت سے ایک تاریخی موقع ملا۔ انہوں نے روس اور مغرب کو ایک جیسی اہمیت دی۔ جس کی بنا پر پاکستان پہلی دفعہ ایک حقیقی آزاد خارجہ پالیسی کا مالک بنا۔ لیکن انگریز سے میراث میں ملی ہوئی سول اور عسکری بیوروکریسی کے تخلیق کردہ، مسئلہ کشمیر اور مشرقی محاذ پر شکست کی وجہ سے، انہیں ایٹمی اسلحے جیسے ممنوعہ میدان میں اترنا پڑا۔ جس کی قیمت کا احساس انہیں بڑی دیر کے بعد ہوا۔

بابائے قوم کے دور سے برپا سول ملٹری کشکمش ابھی بھی جاری ہے۔ ایوب خان کی مارشل لاء کی وجہ، آنے والی الیکشن میں منتخب ہونے والی ایک ایسی حکومت کا خدشہ تھا جو پاکستانی خارجہ پالیسی کو آزاد کروا دے گی۔ لیکن مشرقی محاذ پر شکست کے بعد لگنے والا ہر مارشل لاء اپنی افادیت کا احساس دلانے کے لئے لگایا گیا ہے۔

بھٹو نے ممنوعہ میدان میں اتر کر اپنے ساتھ ساتھ جمہوری حکومت کو بھی داؤ پر لگا دیا، تو مغرب کو احساس دلایا گیا کہ جمہوری حکومت مغربی مفادات کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے۔ اس لیے نقصان کے ازالے (ایٹمی پروگرام کی رول بیک) اور مغربی مفادات کی تحفظ (روس کو افغانستان میں گھیرنے ) کے لئے حکمرانوں کی تبدیلی ضروری ہے۔ جس کے بدلے میں مغرب نے اپنے کرم میں کوئی کمی نہیں کی۔ اگرچہ اسی دوران ایٹم بم بھی بنتا رہا اور روس و مغرب کو اس کے بنانے تک افغانستان میں مصروف بھی رکھا گیا۔

مشرف کی ”بے وقت“ رخصتی (بے نظیر کے قتل) کی وجہ سے لگا کہ امریکہ پھر مقصد پورا کرکے انکھیں پھیرنے والا ہے، تو زرداری کے ذریعے چین کے ساتھ سی پیک کا عسکری تزویراتی معاہدہ کرایا گیا۔ جس کے کریڈٹ لینے کا سب سے زیادہ شور بعد میں نواز شریف نے مچایا۔ امریکہ کو ایک دفعہ پھر پاکستان میں جمہوری حکومت کا ”خطرناک اور ناقابل اعتبار“ رخ دکھایا گیا۔ عمومی نقشے پر غیرموجود ایک جزیرے پر ہونے والی انکوائری میں اچانک نواز شریف کا نام سامنے آیا۔

پہلے حکومت سے الگ کیا گیا پھر تاحیات نا اہل کیا گیا۔ لیکن بھٹو کی طرح اپنی طاقت کا اندازہ غلط لگانے کی بنا پر جیل پہنچایا گیا۔ میثاق جمہوریت کے دوسرا دعویدار اور ترکمانستان، ایران سے گیس پائپ لائن پاکستان لانے کے منصوبے کے ساتھ ساتھ سی پیک پر دستخط کرنے والے زرداری کو بھی بے بس کیا گیا۔ دونوں خوش قسمت ہیں کہ بھٹو جتنے ضدی نہیں۔

مندرجہ بالا صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے، عسکری منصوبہ سازوں کو ان کی منصوبہ بندی کی داد نہ دینا کنجوسی ہو گی۔ کیونکہ جمہوری حکومتوں اور مغربی منصوبہ سازوں کے مقابلے میں ان کی منصوبہ سازی ہمیشہ کامیاب، موثر اور کارآمد رہی ہے۔ خواہ بعد میں اس کی کتنی قیمت کیوں نہ ادا کرنی ہڑی ہو۔

جب وہ مغربی ممالک کی ضرورت نہیں رہتی، پس منظر میں رہ کر سول حکومت کو چارے کے طور پر استعمال کرنا اور پھر اپنی افادیت کا احساس کرا کر، سول حکومت کی جگہ لینا ان کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ یہ نہیں کہ وہ ایسے اہم منصوبوں پر کوئی سمجھوتا کر لیتی ہے۔ بظاہر تو منصوبہ شروع کرنے والے کو منظر سے غائب کردیا جاتا ہے جیسا کہ بھٹو کے ساتھ کیا گیا۔ اگرچہ وہ منصوبہ رکا نہیں پورا ہوا۔ یہی انجام سی پیک منصوبے اور اس پر دستخط کنندگان کا ہوا۔ جیلیں کاٹیں، راندہ درگاہ ہوئے اور بظاہر اپنے منصوبہ سازوں کی طرح منصوبہ بھی پس منظر میں چلا گیا ہے۔ لیکن میں یہ دعوی وثوق سے کرتا ہوں کہ یہ منصوبہ بھی وقت آنے پر پورا ہوجائے گا۔ بس اتنا ہوا کہ بھٹو کے ایٹمی اسلحے کی حصول کی طرح سی پیک بھی جمہوریت دشمن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “ایٹمی پروگرام کی طرح سی پیک بھی جمہوریت دشمن ہے

  • 15/01/2020 at 10:03 pm
    Permalink

    بہت دلچسپ تجزیہ ، مختلف ادوار میں ہونے والے واقعات کی روشنی میں حالات حاضرہ کو بڑی دقیق نظری سے ایکسپلین کیاھے ۔ کچھ لوگوں کا یہ خیال تھا کہ اسٹبلشمنٹ نے اب امریکہ مخالف کیمپ کو جوائن کیا ھے جبکہ میں صاحب مضمون کی اس بات سے متفق ہوں کہ دراصل اسٹبلشمنٹ نے امریکہ مخالف کیمپ کو جوائن کرنا نہیں بلکہ خود کی اہمیت دلانے کساتھ ساتھ جمہوریت سے ڈرانا بھی مقصود ھے ۔ ایک بار امریکہ نے ان کی اہمیت تسلیم کر لی تو پھر رات گئی بات گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *