خدا، کائنات اور انسان سے متعلق غامدی صاحب کا زاویہ نظر ( 2 )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(پیش نظر مضمون جاوید احمد غامدی صاحب کے ساتھ طویل نشستوں میں ہوئی گفتگو کا میرے فہم پر مبنی خلاصہ ہے، جو قسط وار شائع کیا جائے گا۔ یہ نشستیں ”زاویہ غامدی“ کے عنوان سے یوٹیوب پر موجود ہیں۔ ویڈیو ٹرانسکرپشن شاکر ظہیر صاحب نے کی ہے۔ )

عثمان رمزی: غامدی صاحب آپ کہتے ہیں کہ معمہ جب تک حل نہ ہو گا جستجو تب تک جاری رہے گی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جستجو انسان کر رہا ہے تو اگر کسی جواب سے انسان کی جویانہ طبیعت کو تسکین مل جائے تو کیا وہ درست ہو گا یا جواب کی درستگی کا معیار کچھ اور ہے؟

جاوید احمد غامدی: کسی بھی نتیجے کو غلط یا درست قرار دینے کا معیار اس کی بنائے استدلال ہوتی ہے۔ وجود کائنات سے متعلق جتنے بھی جوابات ہمارے سامنے آتے ہیں انہیں ہم دستیاب بنائے استدلال کے لحاظ سے پرکھتے ہیں۔ مثلا انسان کے پاس خارج کی دنیا سے متعلق ہونے کے لیے حواس خمسہ (the five senses) ہیں۔ یہ ایک ذریعہ ہے جس سے انسان خارجی کائنات سے متعلق ہو جاتا ہے۔ چنانچہ وہ چیزیں جو انسان کے حواس کی گرفت میں آ جاتی ہیں ان کے بارے میں انسان ایسے نظریات سننے اور تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا جو اسے کسی ماورائی دنیا میں لے جائیں، کیونکہ اس کے پاس حواس موجود ہیں جن کے ذریعے وہ محسوسات کا تجزیہ کر سکتا ہے۔

مثلا میں میرے سامنے رکھی اس میز کو دیکھ سکتا ہوں، اسے لیب میں لے جا کر اس کا تجزیہ کرنے کے بعد کسی حتمی نتیجے تک پہنچ سکتا ہوں، تو حواس خمسہ ہی اس باب میں بنائے استدلال بنیں گے۔ اس ضمن میں یہ بات بھی مدنظر رہے کہ آنکھ کے ذریعے دیکھنے سے لے کر لیبارٹری تجزیے تک جو مختلف مراحل ہیں، سارے حواس اور محسوسات کے دائرے میں ہیں۔ لیب ٹیسٹ دراصل حواس ہی کی طاقت کو بڑھانا ہے۔ بہرحال علم بالحواس کی ایک دوسری مثال دیکھ لیں، مثلا میں گھر میں بیٹھا ہوں آپ تشریف لائے اور کہا کہ میں نے کھیتوں میں ایک ایسا جانور دیکھا ہے جس کی دم آسمان تک پہنچ رہی ہے، تو میرے لیے یہ ایک اطلاع ہو گی، جس پر صحیح یا غلط ہونے کا حکم لگانے کے لیے میرے پاس ایک معیاری پیمانہ موجود ہے۔

چنانچہ جب میں آپ کا ہاتھ پکڑ کے کہوں گا کہ آئیے دیکھتے ہیں، تو دراصل آپ کی جانب سے دی گئی اطلاع کو میرے پاس موجود اسی معیار پر پرکھنا مقصود ہو گا۔ یعنی معاملہ اگر دیکھنے کا ہے تو آنکھیں معیار بن جائیں گی۔ اسی طرح سننے، سونگھنے، چکھنے اور چھونے کا معاملہ ہے۔ مطلب کائنات کے خارج میں موجود اشیاء اگر حواس کی گرفت میں آنے والی ہیں تو معیار مشاہدہ و تجربہ ہو گا۔ چونکہ خارجی کائنات کے ساتھ انسان کا پہلا تعلق حواس ہی کے ذریعے بنتا ہے تو اس لیے علم بالحواس یا دوسرے لفظوں میں مشاہدہ و تجربہ ہی انسانی علم کا مبدا ہے۔

ہمارے ہاں پائے جانے والے سائنسی علوم کی رنگا رنگی بھی مشاہدے و تجربے کی رہین منت ہے۔ اسی وجہ سے مشاہدہ و تجربہ پہلا ذریعہ علم کہلاتا ہے۔ پھر حواس کی رسائی چونکہ محدود ہے تو آلات ایجاد کر کے انسان نے اپنے اس بنیادی ذریعہ علم کی تحدیدات (Limitations) کو ختم یا کم کیا ہے۔ مثلا خوردبین نے انسان کے حواس کی باریک بینی کو بڑھا دیا ہے اور دوربین نے انسان کے حواس کی دور بینی کو۔

وقاص خان:غامدی صاحب تسلیم کہ انسان کا مشاہدہ و تجربہ یا حواس خمسہ علم کا بنیادی ذریعہ ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ علم بالحواس کے اوپر بھی شکوک و شبہات کا بسیرا ہے۔ حواس غلطی بھی کرتے ہیں، ہمیں دھوکا دیتے ہیں۔

جاوید احمد غامدی: یہ بات درست ہے کہ حواس کسی درجہ میں ہمیں دھوکہ دیتے ہیں، لیکن انسان اپنے علم کے معاملے میں مجبور ہے جو ذرائع اس کے پاس موجود ہیں، انہیں بہرصورت استعمال کرے گا۔ چنانچہ ایک ایسا معیار مقرر کرنا ضروری ہے جو انسانی دائرے سے ماورا نہ ہو۔ مثلا اگر کوئی کہے کہ جنات کی قوت پرواز یہ ہے تو میں یقین نہیں کروں گا کیونکہ میں جن نہیں، انسان ہوں اور انسان ہونے کے ناتے کوئی بھی اطلاع اس وقت تک میرے لیے یقینی علم نہیں بنے گی جب تک میرے حواس کی گرفت میں نہ آ جائے یا کسی دوسرے ذریعہ علم سے مجھ تک نہ پہنچے۔

فی الحال چونکہ ہم علم بالحواس کی بات کر رہے ہیں تو اس میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان دور کی چیز دیکھ کر اس کے سائز یا رنگت کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہو سکتا ہے مگر یہ ایسی غلط فہمی نہیں ہے جس سے انسان اپنے حواس پر اعتماد چھوڑ دے۔ اسی طرح سائنس کے قانون عدم تعین (Heisenberg uncertainty principle) کو بطور مثال لے لیں۔ قانون عدم تعین کے مطابق جب ہم کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو اس سے روشنی کا ایک ذرہ (Photon) جاری ہو کر ہم تک پہنچتا ہے۔

اس قانون کے مطابق یہ ذرہ ہم تک پہنچتے پہنچتے وہ چیز اپنی جگہ چھوڑ چکی ہوتی ہے چنانچہ کسی چیز کو دیکھ کر یہ کہنا کہ فلاں جگہ دیکھی گئی درست نہیں ہو گا۔ چنانچہ اس قانون کے نتیجے میں انسانی حواس پر ایک حملہ تو ہو گیا ہے مگر کیا اس سے حواس پر اعتماد بھی ختم ہو گیا ہے؟ تو نہیں، ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ درست بات تو یہ ہے کہ حواس کی نارسائی کا فہم حاصل کرنے میں بھی علم بالحواس یا تجربہ و مشاہدہ ہی کام آیا ہے۔

وقاص خان: غامدی صاحب یہ جو آپ کہہ رہے ہیں کہ اعتماد ختم نہیں ہوا، یہ بات عملی میدان کی حد تک تودرست ہے کہ انسان روزمرہ کے نظم و ضبط میں اسی اعتماد پر چلتے ہیں۔ لیکن علمی میدان میں کسی معاملے کیverification یا justification کے لیے تو یہ اعتماد کارآمد نہیں رہتا۔ کیونکہ ہم جان چکے ہیں کہ حواس پر سو فیصد اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اب اس کے نتیجے میں علم بالحواس کے نتائج پر بھی فرق پڑنا چاہیے۔

جاوید احمدغامدی: اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نتائج پر فرق پڑتا ہے لیکن اس فرق کی کمی دور کرنے کے لیے انسان کے پاس ایک اورصلاحیت موجود ہے، جسے ہم عقل (Cognitive Faculty) کہتے ہیں۔ عقل اس خلاء کو بھرتی ہے، جو حواس کی کم مایگی سے پیدا ہوتا ہے۔ سادہ مثال اس کی یہ ہے کہ جب بار بار کے تجربے سے ہمیں معلوم ہو گیا کہ دور کی چیز دیکھنے میں اپنے سائز سے چھوٹی دکھائی دیتی ہے تو اب ہم دور کی چیز کا فاصلہ متعین کرتے ہیں، پھر اس متعین فاصلے کو ملحوظ رکھ کر بتا سکتے ہیں کہ وہ چیز اگرچہ نظر تو آ رہی ہے ایک کتاب کے برابر لیکن حقیقت میں زمین کے کل رقبے سے دس گنا بڑی ہے۔

تو دور کی کسی چیز کا سائز حواس کے ذریعے جاننے میں جو رکاوٹ تھی یعنی فاصلہ، اسے عقل نے اپنی گرفت میں لے کر معاملہ واضح کر دیا۔ چنانچہ یہ جو سائنسی علم ہے وہ حقیقت میں یہی ہے، سائنسی طرز تحقیق (Hypothetico۔ deductive method) دراصل مشاہدے اور تعقل دونوں سے مل کر تشکیل پاتا ہے۔ مثلا کائنات کی وسعتوں کو جو ماپا جا رہا ہے یا مختلف سیاروں اور ستاروں کا حجم معلوم کیا جا رہا ہے تو اسی اصول کے مطابق کیا جا رہا ہے۔

قدیم اصطلاح کے مطابق مشاہدے و تعقل کے اس عمل کو قیاس کہا جاتا ہے۔ یعنی یہ عقل ہی ہے جس کو جو کچھ حواس کے ذریعے سے ملا ہے اس کو بنیادی مقدمات کی حیثیت دے دی جاتی ہے اور پھر تعقل کا عمل شروع کر دیا جاتا ہے۔ ایک کو اصل بنایا تو اس سے فرع نکال لی۔ ایک کو فرع بنایا ہے تو اس سے اصل اصول دریافت کر لیے، انسان کا علم اسی طرح بڑھتا چلا جاتا ہے۔ تو پہلی چیز ہمارا تجربہ اور مشاہدہ ہے۔ کوئی معاملہ اگر ہمارے تجربے اور مشاہدے میں آ جائے اور انسانی سطح پر ہم مطمئن ہو جائیں کہ ہمارے تجربے اور مشاہدے نے اس میں غلطی نہیں کھائی تو ہم بہرحال مطمئن ہو جاتے ہیں۔ جہاں سوال باقی رہ جاتا ہے تو اس کو ہم تحقیق کے سپرد کر دیتے ہیں۔

وقاص خان : تحقیق کے سپرد کرنا یعنی تعقل اور تدبر کے حوالے کرنا؟

جاوید احمد غامدی: میں اس کو دو حصوں میں تقسیم کروں گا۔ ایک وہ چیزیں جن میں ہم کہتے ہیں کہ انسانی علم کے دائرے میں یقینی ہو گئی ہیں، چنانچہ وہ ایک آفاقی حقیقت (Universal Truth) بن گئی ہیں۔ دوسری وہ چیزیں ہوتی ہیں جن کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ یہ قابل اطمینان ہیں۔ یا یوں کہتے ہیں کہ یہ وہ چیزیں ہیں جن کو بیان کرنا اب موزوں ہو گیا ہے۔ چنانچہ وجود اور کائنات سے متعلق تمام نظریات میں کچھ تو بنیادی مقدمات ہیں جو مبنی بر حقیقت تسلیم کیے جاتے ہیں۔ لیکن پھر انہی مقدمات پر قیاس کر کے جو نتائج نکالے جاتے ہیں تو وہ بسا اوقات قابل اطمینان تو ہوتے ہیں مگر ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ حتمی نتائج ہیں۔ بلکہ ان پر مزید تحقیق جاری رہتی ہے۔ انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ علم کے انہی دو دائروں میں اپنی زندگی بسر کرتا ہے۔

پہلا حصہ یہاں پڑھیے 

https://www.humsub.com.pk/292938/waqas-khan-9/

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *