ڈرامہ سیریل “میرے پاس تم ہو”

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستانی ڈراموں کا پی ٹی وی کے دور سے ہی ایک نام رہا ہے اور ان کو دنیا بھر میں بہت پسند کیا جاتا رہا ہے۔ اس دور میں جب عوام کا پسندیدہ ڈرامہ لگتا تھا، شام کے آٹھ بجے سڑکیں سنسان اور ویران ہو جایا کرتی تھیں اور گھروں میں ٹیلی ویژن کے قریب رش لگ جایا کرتا تھا۔ کیوں کہ وہ ڈرامے سبق آموز ہوا کرتے تھے اور اداکار بھی بہترین تھے۔ ایسا ہی ایک ڈرامہ جو آج کل کے معاشرے کے ایک منفی پہلو کی عکاسی کرتا ہے۔ اے آر وائی ڈیجیٹل پر پورے زورو شور سے چل رہا ہے۔

دفتر ہوں یا گھر اسی کے تذکرے چل رہے ہوتے ہیں۔ فیسبک ہو یا سوشل میڈیا اسی کے ڈائیلاگ دہرائے جاتے ہیں اور شارٹ کلپ چل رہے ہوتے ہیں۔ تو اتنی مشہوری دیکھنے کے بعد بالآخر ہم نے بھی ڈرامہ دیکھ ہی لیا ’یو ٹیوب‘ سے، قسط نمبر 1 سے لے کر قسط نمبر 22 تک۔ پاکستان میں پرائیویٹ چینلز کی بھرمار ہے جس پر ہر وقت ڈرامے اور دوسرے پروگرام چل رہے ہوتے ہیں۔ ڈرامے تو بہت سے چل رہے ہیں مگر آج کل جس کو سب سے زیادہ پزیرائی حاصل ہے وہ ڈرامہ سیریل ’میرے پاس تم ہو‘ ہے۔ ہر گھر میں اسی کے چرچے چل رہے ہوتے ہیں۔ اس میں آخر ایسا کیا ہے کہ ہمہ وقت بیسیوں تیسیوں ڈرامے چلنے کے باوجود اس کو سب سے زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔

ڈرامہ پر تنقید یا تعریف تو ہر ایک کی ذاتی رائے ہے۔ مگر یہ بات طے ہے کہ اس کو بڑے شوق سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس کو کمرشل مل رہے ہیں اور قسطیں بھی بڑتی جا رہی ہیں۔ اس ڈرامے میں دانش کا جو کردار دکھایا گیا ہے میں نے اپنی زندگی میں ایسا مرد کہیں نہیں دیکھا، لیکن خیر اس کو جو رول دیا گیا ہے اس نے بخوبی اور خوش اصلوبی سے اس کردار کو نبھایا ہے اور عورت کی یعنی خلع یافتہ عورت کی جو تذلیل کی ہے وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ مطلب طلاق یافتہ بے وفا عورت کو جو شوہر کے بہت زیادہ محبت کرنے کے باوجود پیسے کے لیے طلاق لے لیتی ہے۔ اسے ایک گندی ترین گالی سے بھی بدتر دکھایا گیا ہے۔

اس ڈرامہ کے رائٹر خلیل الرحمان صاحب ہیں جنہوں نے بہترین انداز میں اس کو لکھا۔ خلیل الرحمان صاحب کے ڈراموں کی ایک چیز جو باقی ڈراموں سے مختلف ہوتی ہے۔ وہ ہے ڈائیلاگ ڈلیوری، آپ اس کو غور سے دیکھیں تو آپ دیکھیں گے کہ اس میں ہمایوں سعید جو دانش کا رول نبھا رہے ہیں یا رومی جو دانش کے بیٹے کا رول نبھا رہا ہے۔ خواہ دیوان ہو یا رومی کی ٹیچر وہ ڈائیلاگ کو ایسے ڈیلیور کرتے ہیں جیسے بعد والا پہلے اور پہلے والا لفظ بعد میں بولا جائے۔ جیسا کہ قسط نمبر 19 میں جب مہوش دانش کو فون کرتی ہے اور کہتی ہے مجھے روک لینا نا جانے دینا، جبکہ دانش آگے سے کہتا ہے ’کہ روکا تو تھا، کہا تو تھا کہ نا جاو، قسم بھی دی تھی۔ یاد نہیں ہے کیا‘ ؟

اسی طرح جگہ جگہ ڈائیلاگ ڈلیوری ایسے ہی کی چاہے جس کا بھی کردار ہو۔ اس کے علاوہ خلیل الرحمان صاحب نے ڈائیلاگ کے الفاظ بھی کمال کے لکھے ہیں اور ڈرامے کے ہر کردار نے اس کو بخوبی نبھایا بھی ہے۔ چاہے وہ دو ٹکے والا ہو، یا پھر یہ کہ ’خوبصورت اتنی ہو کہ دیکھ کر رشک آتا ہے اور بدصورت اتنی کے تمہارے منہ پہ تھوکنے کو دل کرتا‘ ۔ یا پھر یہ کہ جب مہوش قسط نمبر 21 میں دانش سے بات کر رہی ہوتی ہے کہ ’مجھے ساتھ رکھ لو میں کہیں کونے میں بیٹھ جاوں گی‘ اور رومی جب بڑا ہو گا اور پوچھے گا کہ آپ دونوں طلاق کے باوجود اکٹھے رہ رہے ہیں تو میں چھوڑ کر چلی جاوں گی ’جس پہ دانش ہنسا اور پھر بولا کہ‘ تمہیں تو آتا ہے نہ چھوڑ کر جانا ’۔ جس پہ مہوش کہتی ہے‘ کاش تم پھر یہ بات کہو اور یہ سن کر میری جان نکل جائے ’پھر دانش کہتا‘ دیکھو میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور تمہارے لیے رونا مجھے اچھا نہیں لگتا ’۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ڈرامہ آج کے دور کا بہترین ڈرامہ ہے۔ جس میں ایکٹنگ سے لے کر ڈائریکشن، ڈائیلاگ ڈلیوری، اور بیک گراوئنڈ میوزک زبردست ہے۔ اور آج کل ڈرامہ کے کامیاب ہونے کے لیے اس کا گانا بھی سپر ہٹ ہونا ضروری ہے۔ جو کہ راحت سے بہتر شاید کوئی نہیں گا سکتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ انتہائی حساس ٹاپک کو بڑی خوبصورتی سے کور کر رہا ہے۔ جو کہ آج کے دور کا ناسور بن چکا ہے۔ اس وقت مغرب کا یہ ناسور ہمارے معاشرے میں بھی بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

خلع یا طلاق عورت کا شرعی حق ہے مگر اسے اللہ کے ہاں ناپسندیدہ ترین جائز عمل بھی کہا گیا ہے۔ اس لیے ہمارے معاشرے کی شادی شدہ عورتوں کو چاہیے کہ اپنا حق ضرور استعمال کریں۔ مگر کسی انتہائی مجبوری کے تحت نا کہ جس نے تعریف کی یا جس نے زیادہ ریٹ لگایا اس کی طرف چل پڑیں۔ ہاں البتہ شادی سے پہلے اپنا ریٹ ضرور لگواو، جیسے آج کل لگوایا جا رہا ہے۔ جو زیادہ مناسب لگائے اسی سے محبت کو فائنل کر لیں۔ مگر شادی کے بعد نہیں جیسا کہ اسی ڈرامہ میں دانش کہتا ہے کہ ایک بار بکنے کے بعد چیز کا بھاؤ گر جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *